Official Website

سائنسدانوں نے نیند سے بیدار ہونے کا درست ترین الارم بتادیا

69

پرتھ: کیا کوئی الارم یا دھن ایسی ہوسکتی ہے جو ہمیں نیند سے اچھی طرح بیدار کردے اور جسے سن کر بدن کو کچھ توانائی بھی ملے؟

اگرچہ یہ سوال 500 قبل مسیح میں یونانیوں نے بھی کیا تھا لیکن اب سائنسدانوں کا جواب یہ ہے بعض اقسام کی فری کوئینسی اور فی منٹ بیٹ والے الارم دماغ کے بیداری والے حصے کو زیادہ سرگرم کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم بہتر طور پر بیدار ہوسکتے ہیں۔

ابتدائی تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ مائیکل جیکسن کا بچپن میں گایا ہوا ایک گیت ’اے بی سی ‘ اس کی بہترین مثال ہے جو انہیں نے گیارہ برس کی عمر میں گایا تھا۔
اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی فریکوئنسی 500 ہرٹز ہے اور اس میں بیٹس کی تعداد 100 تک ہے۔ یہ دونوں عناصر مل کر ایک ایسی دھن بناتے ہیں جو دماغ کی بیداری کے حصے کو سرگرم کرتے ہیں اور ہم توانائی بھرے انداز میں آنکھیں کھول سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کی مشہور آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں صوتیات کے ماہر ڈاکٹر اسٹوارٹ مک فرلین اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہم فون پر الارم کا انتخاب اس کی دھن کی بنا پر کرتے ہیں جو درست نہیں بلکہ اس میں دیگر تفصیلات دیکھنا ضروری ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ بیدار ہونے کا انداز پورے دن ہمارے بدن پر اثرانداز ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ دن کے امور مثلاً ڈرائیونگ وغیرہ کو بھی مشکل بناسکتا ہے، اس کیفیت کو سائنسدانوں نے ’نیند کا جمود‘ یعنی سلیپ انرشیا کا نام دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صبح کا الارم ایسا ہونا چاہیے جو ایک سوئچ کی طرح کام کرکے ہمیں مکمل طور پر بیدار کرسکتے۔ بیدار ہونے پر دماغ میں پریفرنٹل کارٹیکس بہت دیر میں سرگرم ہوتا ہے جبکہ دیگر حصے قدرے جلدی جاگ اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درست الارم کی فری کوئنسی ہی دماغ کے درست حصے کو بیدار کردیتی ہے۔

ہمارے جاگنے کے لیے ضروری ہے کہ دماغ کے تمام حصوں میں خون کی روانی عین اسی طرح ہوجائے جو بیداری میں ہوتی ہے اور بعض فری کوئنسی کی آوازیں اس میں مدد دے سکتی ہے۔ ہلکی نیند میں ہماری برقی لہریں تھی ٹا شعاعیں خارج کرتی ہیں جبکہ گہری ترین نیند میں ڈیلٹا لہریں خارج ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق 18 سے 25 سال تک کے افراد میں الارم بلند ہونا چاہیے تاہم الارم کا سائنسی فارمولہ یہ ہوگا۔ الارم کی فری کوئنسی 500 ہرٹز تک ہو اور اس میں دھمک یا بیٹس کا شمار 100 سے 120 ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت چھوٹے بچوں پر بھی یہی فری کوئنسی کے الارم بہتر طور پر کام کرتے ہیں۔