Official Website

آوازکی لہروں سے گردوں کی پتھریوں کو توڑنے کا تجربہ کامیاب

70

واشنگٹن: اگرچہ لیتھوٹرپسی کی بدولت کئی عشروں سے گردوں کی پتھریاں توڑی جاری ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ تبدیل شدہ الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے صرف 10 منٹ میں پتھروں کو توڑنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

چھوٹے حیطے (لو ایمپلی ٹیوڈ) اور بلند فریکوئنسی کی الٹراساؤنڈ امواج، لیتھوٹرپسی کے مقابلے میں قدرے تیزی اور کم تکلیف سے پتھریوں کوچکنا چور کرنا ممکن ہے اور ابتدائی تجربات بہت امید افزا ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح ٹوٹی ہوئی پتھریاں کسی تکلیف کے بغیر پیشاب سے خارج ہوجاتی ہیں۔

اگرچہ یہ لیتھوٹرپسی کی ہی تبدیل شدہ ایک قسم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گردے اور پتے میں بننے والی پتھریاں کرسٹل (بلور) ساخت کی ہوتی ہیں جو کئی اقسام میں پائی جاتی ہیں۔ بعض افراد کے گردوں کے باریک پتھر ازخود خارج ہوجاتے ہیں۔ تاہم بڑی پتھریاں شدید تکلیف پیدا کرتی ہیں۔ اگر یہ مثانے تک جانے والی باریک نالی میں پھنس جائیں تو مریض درد سے بے حال ہوجاتا ہے۔

عام طور پر صدماتی امواج (شاک ویو) لیتھوٹرپسی (ایس ڈبلیو ایل) میں کم فریکوئنسی اور بلن حیطے کی الٹراساؤنڈ لہریں پھینکی جاتی ہیں۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک صوتی امواج گردوں کے باہر سے اندر کی جانب بھیجی جاتی ہیں اور مریض کو بے ہوشی یا غنودگی میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹکڑے ہونے والے پتھر پیشاب کے راستے خارج ہوجاتے ہیں۔

اب جامعہ واشنگٹن کے پروفیسر جوناتھن ہارپر اور نے ساتھیوں نے مجموعی تبدیلی کرکے الٹراساؤنڈ پر ہی مبنی ایک ٹیکنالوجی وضع کی ہے لیکن اس کی فری کوئنسی بلند اور ان کا ایمپلی ٹیوڈ کم ہوتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو برسٹ ویو لیتھوٹرپسی (بی ڈبلیو ایل) کا نام دیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں 19 ایسے مریضوں کو لایا گیا جن کے گردوں میں کل 25 پتھریاں تھیں۔ عموماً پتھریوں کی جسامت 2 سے 12 ملی میٹر تھی۔ اگرچہ روایتی لیتھوٹرپسی میں 60 فیصد پتھریاں ٹوٹ کر چار ملی میٹر سے چھوٹے ذروں میں تقسیم ہوجاتی ہیں جو پیشاب کے راستے خارج ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس روایتی عمل میں کئی خامیاں ہیں: اول تو اس میں بہت وقت لگتا ہے ، دوم مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے اور تکلیف الگ ہوتی ہے۔

اب بی ڈبلیو ایل سے یہ کام صرف دس منٹ میں ہوجاتا ہے اور مریض کو بے ہوش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جب مریضوں پر آزمایا گیا تو بہترین نتائج برآمد ہوئے۔ اگلے مرحلے پر اسے مزید لوگوں پر آزمایا جائے گا۔