Official Website

ایل سیلواڈور میں گینگز کے ریکارڈ قاتلانہ حملے، ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ

35

ایل سلواڈور میں گینگ وار سے متعلق ہلاکتوں کی خوفناک لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق گینگز کی جانب سے برھتے قاتلانہ حملوں کے پیشِ نظر کانگریس نے صدر نائیب بوکیل کی ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی درخواست منظور کی تھی۔

ایل سلواڈور میں گزشتہ جمعے کو 14 افراد اور ہفتے کے روز 62 افراد ہلاک ہوئے جبکہ فروری میں قتل کے 79 واقعات ہوئے۔ ملک میں اتنے وسیع پیمانے پر قاتلانہ وارداتوں کا سلسلہ برسوں سے دیکھنے میں نہیں آیا۔

نیشنل پولیس نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے مارا سلواتروشا (ایم ایس-13) کے پانچ سرغناؤں کو پکڑ لیا ہے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گینگ کے ارکان کو متعدد قتل کے احکام جاری کیے تھے۔ یہ قتل ملک کے بدنام زمانہ متعدد گینگز سے منسلک ہیں جو دارالحکومت سین سلواردوڈ کے بہت سے علاقوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

بوکیل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایمرجنسی کے فیصلے کی مخالفت کا ذمہ دار حزبِ اختلاف کو ٹھہرایا ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ کیا حزب اختلاف گینگ کے ارکان کے دفاع کے لیے ایمرجنسی کے فیصلے کی مخالفت کررہی ہے؟

دوسری جانب اپوزیشن میں سے کنزرویٹویو پارٹی ایرینا نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں ایل سلواڈور کے لوگوں کو یاد دلانا چاہیے کہ جو کچھ ابھی ہو رہا ہے وہ ان لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجرموں کو تحفظ فراہم کیا۔