Official Website

تاریخ کی طویل ترین 335 سالہ جنگ، اور ایک ہلاکت بھی نہیں

70

تاریخ کی یہ طویل ترین جنگ 1651 میں نیدرلینڈ اور انگلینڈ کے جزائرِ سلی (Isles of Scilly) کے درمیان چھڑی جو 1986 میں ختم ہوئی۔

خون کا ایک قطرہ بہے بغیر یہ طویل ترین جنگ انگلینڈ میں دوسری خانہ جنگی سے جُڑی ہے جس میں نیدر لینڈ نے ایک غیر متعلقہ کھلاڑی کے طور پر حصہ لیا۔ تنازعہ دراصل انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ اور شاہی خاندان کی حامی عسکری قوت رائلسٹس کے درمیان شروع ہوا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی۔

نیدر لینڈ نے انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ کو ممکنہ فاتح کے طور پر شناخت کرنے کے بعد تنازعہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جس پر رائلسٹس جو نیدرلینڈ کے طویل عرصے سے اتحادی تھے، نے اس فیصلے کو دھوکہ پر محمول کیا اور انگلینڈ کی حدود میں آنے والے ڈچ سامان بردار بحری جہازوں پر چھاپہ مارنا شروع کردیا۔
اراکین پارلیمنٹ کا قائد کرومویل نے بڑی طاقت اور ثابت قدمی سے رائلسٹس کا مقابلہ کیا اور یہاں تک کہ رائلسٹس کی نیوی کو آئزلز آف سِلی (جزیروں پر مشتمل انگلینڈ کے خطے) کی طرف دھکیل دیا۔ چونکہ رائلسٹس نے نیدرلینڈ کے کئی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا تھا، نیدرلینڈ نے رائلسٹس سے اُن نقصانات کی بھرپائی کا مطالبہ کیا جس پر ناراض رائلسٹس نے انکار کردیا۔

رائلسٹس کی جانب سے سردمہری کا مظاہرہ پاکر ڈچ نیوی کے سربراہ ایڈمرل مارٹن ٹرومپ نے آئزلز آف سِلی کے ساتھ اعلانِ جنگ کردیا تاہم اعلان جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد (1651 جون میں) رائلسٹس نے ڈچ آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں نیدرلینڈ کے حمایت یافتہ اراکین پارلیمنٹ کا آئزلز آف سِلی پر کنٹرول ہوگیا۔

تاہم جب ڈچ فوج نے وہاں سے واپسی کا رختہ سفر باندھا تو وہ اعلان جنگ سے رجوع کرنا بھول گئے اور یوں سرکاری طور پر جنگ کا سلسلہ 335 سال تک رہا۔