Official Website

جنگِ عظیم دوم سے تعلق رکھنے والی دنیا کی پہلی وائرل میم

62

چاک یا کریون سے بنائی گئی تصویر جس میں بڑی سے ناک والا گنجا آدمی دیوار سے دیکھ رہا ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے ’kilroy was here‘ (کلروئے یہاں تھا) دراصل دنیا کی پہلی وائرل میم ہے۔

اگرچہ اس میم کی ابتدا دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں نہیں ہوئی لیکن یہ ان کے ساتھ منسلک ضرور تھی۔ جو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ایک عرصے تک مقبول رہی۔

یہ چھوٹی سی ڈرائنگ عوامی سطح پر مذاق بن گئی تھی۔ شہری اس میم کو بنانے کا مقابلہ کرنے لگے یہاں تک کہ امریکا کے مجسمہ آزادی کی مشعل پر، پیرس میں آرک ڈی ٹرومف، چین میں مارکو پولو پُل، نیویارک کے جارج واشنگٹن پل اور اسپتالوں میں حاملہ خواتین کے پیٹ پر تک اس ڈرائنگ یا تصویر کو بنایا گیا۔
کلروئے نام کو J.J Kilroy سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے جو امریکی ریاست میساچوسٹس سے تعلق رکھتا تھا اور وہ بیتھلیھم اسٹیل بحری جہاز بنانے والی کمپنی میں ویلڈنگ انسپیکٹر تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کلروئے کے ساتھی کارکنان اُس سے اس بات پر تنگ تھے کہ یہ اُن کے کام کا معائنہ نہیں کرتا تھا جس پر کِلروئے نے تنگ آکر معمول کے مطابق چاک سے نشان لگانے کے بجائے جہازوں کے پارٹس پر ‘Kilroy was here’ لکھنا اور اس کے اوپر ایک لمبی ناک والا گنجا آدمی بنانا شروع کردیا کیونکہ کلروئے خود گنجا اور لمبی ناک والا تھا۔

جب یہ بحری جہاز دنیا بھر کی بندرگاہوں پر جاتے اور جب ارکان سامان کھولتے تو انہیں یہ ڈرائنگ بنی ملتی۔