Official Website

صدر مملکت کے اعتراضات مسترد؛ اتنخابی اوراحتساب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

37

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مشترکہ اجلاس کے دوران صدرمملکت کے تمام 42 اعتراضات کو مسترد کرکے انتخابات ترمیمی بل 2022 اور قومی احتساب ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کردہ بل پر صدر نے اعتراضات لگا کر واپس کردیا تھا، مشترکہ اجلاس نے صدر کے 25 اعتراضات کو مسترد کردیا۔

صدر مملکت کی جانب سے انتخابات ترمیمی بل 2022 پر 17 جبکہ قومی احتساب ترمیمی بل 2022 پر 25 اعتراضات عائد کئے گئے۔ پی ٹی آئی کے سینٹرز نے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
دونوں بلز پر صدر مملکت کا مؤقف

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دونوں بل آئین کے آرٹیکل 75 کی شق کے تحت واپس وزیر اعظم کو بھجوائے اور کہا تھا کہہ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹی/ کمیٹیاں دونوں بلوں پر نظر ثانی اور تفصیلی غور کریں، صدر مملکت کو قانون سازی کی تجاویز کے متعلق مطلع نہ کرکے آئین کے آرٹیکل 46 کی خلاف ورزی کی گئی۔

صدر مملکت نے کہا تھا کہ دونوں بل جلد بازی میں 26 مئی کو قومی اسمبلی اور 27 مئی کو سینیٹ سے منظور ہوئے، معاشرے کے لیے دور رس اثرات والی قانون سازی پر قانونی برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت کی جانی چاہیے۔

حکومت کی مشترکہ اجلاس کی تیاری

دریں اثنا حکومت کی جانب سے نیب اور الیکشن ایکٹ بلز مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے پر کام شروع کردیا گیا تھا۔ آج بروز (جمعرات) کو مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں معاشی صورتحال پر بحث کے ساتھ ان بلز کو بھی شامل کیا گیا۔

اس حوالے سے حکومت نے وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون کے ساتھ مشاورت شروع کردی تھی۔ یہ مشاورت پی ٹی آئی کی بلز پر تنقید اور صدر عارف علوی کی جانب سے مقررہ 10 دنوں میں دستخط نہ کرنے اور واپس بھجوانے پر شروع ہوئی تھی۔