Official Website

ان کو خوف تھا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض کو آرمی چیف لانا چاہتا ہوں، عمران خان

31

اسلام آباد:  پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں میں نے آرمی چیف اپنا لگانا ہے۔ میں اللہ کوحاضر جان کر کہتاہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ کبھی نہیں سوچا تھا اپنا آرمی چیف لاؤں گا۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرکے منہ سے سچ نکل آیا، گیارہ سال پہلے کہا تھا پیپلزپارٹی، (ن) لیگ اکٹھے ہوجائیں گے، ان دونوں کا ایک ہی مقصد چوری کرنا اورکیسے بچنا ہے، ان کوکیسزسے کس چیزسے ڈرہے، عدلیہ آزاد ہے ان کوکس چیزکا ڈرہے؟ مجھے بھی اسی عدلیہ سے انصاف ملا، جب ان کو این آر او نہیں ملتا تو ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔

 پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ خرم دستگیرنے کہا میں نے آرمی چیف اپنا لگانا ہے۔ میں اللہ کوحاضر جان کر کہتاہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ میری نے تمام زندگی میرٹ پر سمجھوتا نہیں کیا۔ کبھی نہیں سوچا آپنا آرمی چیف لاؤں گا۔اس کا مطلب کیا کوئی اورآرمی چیف آئے گا تواحتساب رک جائے گا اس پرغورکرنا چاہیے۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبرمیں کون آرمی چیف ہوگا، میرے ذہن میں توایسی کوئی بات نہیں تھی، کرکٹ کی زندگی میں کبھی میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، چیلنج کرتا ہوں ایک آدمی کا بتادیں کسی ایک شخص کی شوکت خانم میں سفارش کی ہو۔ شوکت خانم میں مکمل میرٹ ہے، نمل یونیورسٹی میں بتادیا جائے کسی کوسفارش پررکھوایا ہو، مجھے خوف خدا ہے کبھی کسی کا حق نہیں مارسکتا، نوازشریف کو آرمی چیف سے پرابلم تھا، نوازشریف کے پاس چوری کا اتنا پیسہ تھا وہ چاہتا تھا سپہ سالار کو کنٹرول کر لے، مجھے توکوئی ضرورت نہیں تھی اپنے پسندیدہ آرمی چیف کی۔

انہوں نے کہا کہ 26سال پہلے ان کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، 26 سال پہلے کہا نواز شریف، زرداری دونوں چورہیں، الیکشن کے دنوں میں یہ صرف ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں، مجھے کوئی شک نہیں تھا جب اقتدارمیں آؤں گا تو یہ دونوں اکٹھے ہوں گے، ان کوفوج سے ڈر ہوتا ہے، ادارے کے پاس ان کی ساری رپورٹ ہوتی ہے۔ مجھے اپنی کوئی چوری نہیں بچانی، کیوں اپنا آرمی چیف رکھوں گا، میں توچاہتا ہوں ہمارے ادارے مضبوط ہوں، ان کو خوف تھا کہ جنرل فیض کولانا چاہتا ہوں، اسی وجہ سے خوف میں مبتلا تھے۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا رجیم چینج دوسرے ملکوں کی بہتری کے لیے نہیں کرتا، امریکا رجیم چینج اپنے مفاد کے لیے کرتا ہے، کیا ہمارے مفاد میں ہے امریکا کوبیس دیں؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تباہی ہوئی؟ میریٹ ہوٹل کے اندردھماکا ہوا، ہمارے ملک کے سربراہ کوجنگ میں شرکت نہ کرنے پردھمکی دی گئی تھی، میں نے ان کوسمجھایا تھا اس جنگ میں شرکت نہ کریں، میں قبائلی علاقوں کواچھی طرح جانتا ہوں۔ دہشت گردی کی جنگ سے پہلے قبائلی علاقوں میں امن تھا، رجیم چینج سے پہلے میڈیا پرپیسہ چلایا گیا، مجھے طالبان خان کہا جاتا تھا دہشت گردوں کے ساتھ ہوں، جو بھی جنگ کی مخالفت کرتا تھا پورا میڈیا پیچھے پڑجاتا تھا۔

شوکت ترین 

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی ائی کو 2018 میں 19 بلین ڈالر کا خسارہ ملا تھا، ڈار اکانومکس نے ملک جو سالانہ 33 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ، ان کی پیدا کی گئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف میں جانا پڑا، عمران خان سعودی عرب گئے تو ان سے سعودی ولی عہد سے پیسے مانگ نہیں سکتے تھے، کرونا کی صورتحال پر عمران خان نے کہا میں مکمل لاک ڈاون نہیں کروں گا، عالمی ادارے کہہ رہے ہیں جس طرح پاکستان نے کورونا کو ہینڈل کیا وہ بہترین تھا۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت کورونا کی وبا کے دوران بہت پیسہ تقسیم کیا گیا، ہماری معیشت 1 فیصد سکڑی جبکہ امریکا کی معیشت 4 فیصد سکڑی تھی، اس وقت ملک میں بجلی کا شارٹ فال 7 سے 8 ہزار میگا واٹ روزانہ ہے، اس حکومت نے 6 ہفتوں کے بعد منی بجٹ دیدیا ، کم آمدنی والوں کے لئے ساڑھے 4 فیصد گیس ٹریف بڑھا دیا گیا ہے، گزشتہ ہفتے سی ایف ڈی 28 فیصد پر تھا ، آئی ایم ایف سے معاہدے کے بغیر ان کا بجٹ بن ہی نہیں سکتا تھا، اس شرح سود کے ساتھ یہ پیداواری شرح 6 فیصد کیسے دیکھا سکتے تھے؟۔

شوکت ترین نے کہا کہ تیسرا بجٹ آرہا ہے اطلاع ہے 50 فیصد پیڑولیم لیوی عوام پر لگائیں گے، اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 50 فیصد لیوی ٹیکس عائد کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ انکا پرانا پاکستان ہے یہ دوبارہ فکسڈ ٹیکس کی طرف چلے گئے ہیں، 28 یا 29 جون کو انکا نیا منی بجٹ آتا دکھ رہا ہوں، انکی جی ڈی پی 2 سے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، غربت بڑھے گی، یہ واضح ہے یہ معیشت اور مہنگائی کو ٹھیک کرنے نہیں آئے، انکا مقصد نیب کو ٹھیک کرنا انتخابی اصلاحات اور خود کے فائدہ کے لئے آئے ہیں۔