Official Website

نشہ کہیں زندگی کی رنگینیوں کو دھندلا نہ دے

انسداد منشیات کا عالمی دن

106

انسداد منشیات کا عالمی دن
نشے کی لعنت نے جس تیزی سے ملک بھر میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے
شہروں اور دیہاتوں کی تفریق کے بغیر منشیات کا عفریت نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے
ہیروئن، چرس، ا فیون،آئس اور اسی طرح کی دیگر منشیات کا استعمال ہماتے معاشرے میں فیشن بنتا جا رہا ہے
غیر سر کاری اعدادو شمار کے مطابق ایک کروڑ افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں
انسداد منشیات کا عالمی دن رواں برس اقوام متحدہ کے تھیم ”صحت اور انسانی بحرانوں میں منشیات کے چیلنجوں سے نمٹنا”کے ساتھ منایاجارہا ہے

شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
پاکستان تیسری د نیا کا ایک ایسا ترقی پذیر ملک ہے جہاں صحت، تعلیم، روزگار، کاروبار، صنعت وحرفت کے مناسب مواقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد مختلف قباحتوں کا شکار ہے۔ عدل وانصاف اور تھانہ کچہری کے معاملات انسان کو ایک ایسے دوراہے پر لاکر کھڑا کر دیتے ہیں جہاں پر ڈپریشن، فرسٹریشن اور اسی طرح کے دیگر امراض انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جس سے انسان اپنی صحت خراب کر بیٹھتا ہے ،حالانکہ جان ہے تو جہان ہے کے فارمولے کے تحت انسانی زندگی کے لئے سب سے بڑی نعمت اچھی صحت ہے’ اچھی صحت ہی کی بدولت انسان زندگی کی خوشیوں اور مسرتوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔خراب صحت’ بوجھل دماغ’ زندگی کی رنگینیوں کو دھندلا دیتی ہے اور زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے۔خراب صحت کے کئی اسباب ہوتے ہیں ان میں ایک سبب نشہ ہے۔نشہ کوئی بھی ہو انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور یہ تباہی جانی اور مالی دونوں صورتوں میں ہوتی ہے۔نشئی فضول خرچی کے سبب خود اپنے آپ کو معاشی ترقی کے حق سے محروم رکھتا ہے اور مختلف قسم کی مہلک بیماریوں کو اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔نشے کی لعنت نے جس تیزی سے ملک بھر میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی کہیں یا پھر بااثر مافیاکی مضبوط گرفت سے ڈرگ سمگلنگ کا سلسلہ بہت عروج پر ہے۔شہروں اور دیہاتوں کی تفریق کئے بغیر منشیات کا عفریت نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ بالخصوص ہیروئن، چرس، ا فیون،آئس اور اسی طرح کی دیگر منشیات کا استعمال فیشن بنتا جا رہا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں 1980کے بعد ہیروئن کا نشہ تیزی سے پھیلا جس کی سب سے بڑی وجہ افغانستان اور روس کی جنگ کے دوران اسلحہ اور منشیات کا پاکستان میں داخل ہونا قرار دیا جاتا ہے پوست کی فصل جوکہ پاک افغان باڈر کے قریبی علاقوں میں کاشت ہوتی تھی وہاں کے رہنے والوں کی آمدن کا بڑا زریعہ تھی اسی پوست سے ہیروئن اور دیگر نشے تیار کئے گئے پوست کی فصل پر پابندی اور اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی کاروائیوں سے بہت حد تک ہیروئن کی سمگلنگ بند ہوگئی لیکن ہیروئن (پاؤڈر)کا نشہ کم ہوا تو اور بے شمارنئے نشوں نے معاشرے کے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ،وطن عزیز پاکستان میں اینٹی ناکوٹکس فورس ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی وجہ سے نشہ آور اشیاء کے خلاف بھر پور کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود غیر سر کاری اعدادو شمار کے مطابق ایک کروڑ افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہیں جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں۔آج انسداد منشیات کا عالمی دن رواں برس اقوام متحدہ کے دئیے گئے اس تھیم کے ساتھ منایاجارہا ہے کہ”صحت اور انسانی بحرانوں میں منشیات کے چیلنجوں سے نمٹنا”کیسے ہو گا ۔انسداد منشیات کے عالمی دن کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد سے ہوا یہ قرارداد7دسمبر1987 ، 42/112جنرل اسمبلی ریزولیشن منظور کی گئی ،1989سے 26کو انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتاہے ، ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ منشیات سے مراد ایسی اشیاء جو انسان کی ذہنی کیفیتوں اور رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، آج سے دو دہائی پہلے تک نشہ کی جن اقسام کے بارے لوگ زیادہ آگاہ تھے وہ چرس ،افیم، ہیروئن، کوکین اور الکوحل تھے جبکہ اب سرنجوں سے(ٹیکوں) نشہ، شیشہ حقہ ،اور آئس کا نشہ بھی عام ہو چکا ۔گزشتہ سال سینٹ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ عام نشہ چرس کا ہے جس کا شکار آبادی کا 3.6 فیصد حصہ ہے۔ نشہ استعمال کرنے والے افراد کی اکثریت 25 سے 39 سال کی عمر میں ہے اور سب سے زیادہ چرس کا استعمال 30 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں دیکھا گیا ہے ،حکومتی اعدادوشمار کے مطابق چرس کے نشے کے شکار افراد کی تعداد 40 لاکھ ہے جبکہ آٹھ لاکھ 60 ہزار افراد ہیروئن کا شکار ہیں۔ ٹیکے کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ 30 ہزار جبکہ افیون کے نشے کے شکار افراد کی تعداد تین لاکھ 20 ہزار ہے ۔
ایک طرف پاکستان کو پوست کی کاشت سے بالکل پاک ملک قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ملک میں منشیات کے عادی افراد کی روز بروز بڑھتی ہوئی شرح سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان سے ابھی تک پوست کی کاشت ختم نہیں ہوئی یا پھر حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جس سے ملک منشیات کی لعنت سے پاک ہو سکے۔منشیات کا عالمی دن منانے کا مقصد یہی ہو تا ہے کہ لوگوں کو اس ناسور سے کیسے بچایا جا ئے ۔نشے سے آگاہی اور لوگوں میں شعور اجاگر کیا جا ئے ۔آج کے دن کی مناسبت سے سوال اٹھتا ہے کہ نوجوان نسل سے اس لعنت کا چھٹکارہ کیسے ممکن ہے…؟وہ کون سے اقدامات ہیں جن کے کرنے سے معاشرہ اس ناسور سے خلاصی حاصل کر سکتا ہے…؟
ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ ”آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے” اچھے دوست تو باعث رحمت ہوتے ہیں مگر برے دوست مسلسل عذاب بن جاتے ہیں ایسے ہی دوست نشے کی طرف بھی راغب کرتے ہیں۔بے سکونی… خواہشات کی عدم تکمیل…سوسائٹی کے اثرات’ ناپختہ ذہنوں کی اصلاح’ پیسے کی دوڑ’ والدین کی عدم توجہی’ عشق میں ناکامی’ تعلیمی اداروں کا آزاد ماحول’ روشن خیالی کی تازہ لہر’تعلیم یافتہ بے روزگاری’ گھریلو ذمہ داریوں سے فرار کی ناممکن کوشش اور ایسے ہی ہزاروں مسائل ہیں جو پاکستانی معاشرے میں نشے جیسی لعنت اور معاشرتی ناسورکی جڑیں ہیں۔جس سے نوجوان نسل کے نمائندے انتڑیوں کی جھلیوں کی سوزش(Cachetic) یعنی جسمانی و دماغی نقائص کی ابتدائ’ (Insomnia)بے خوابی کے مسائل'(Agromania) تنہا پسندی کی اذیت’ (Alienatiomentis) جنونی کیفیات کے ساتھ ساتھ جزوی اندھا پن’ اداسی جیسی جسمانی’ نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کو دعوت عام دیتے ہیں۔علاوہ ازیں جرائم کی شرح میںاضافہ’ انسانوں کی زندگیوں کو مفلوج’ خاندانی اور ملکی معیشت کی تباہی’ غصے اور آدم بیزاری کی عادت’معاشرے میں رواداری’ بردباری’ انسانیت’ شرافت کے فقدان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جیلوں میں اس وقت اس لعنت میں مبتلا افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی پریشان کن ہے جبکہ جیلوں سے باہر ایسے افراد کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔لہٰذا معاشرے کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نشے کی لعنت میں مبتلا ایسے اشخاص کی حرکات و سکنات کا بغور جائزہ لیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کالج اور یونیورسٹی میں پہنچتے ہی طلباء آزادی محسوس کرنے لگتے ہیں وہ اپنی مرضی سے وہ سب کچھ کرنا شروع کر دیتے ہیں جو انہیں دوسرے طلباء سے الگ اور ممتاز بنا دے’ بدقسمتی سے یہ ماحول تعلیمی اداروں اور ہوسٹلوں میں میسر ہے جہاں نشہ کرنے اور منشیات فراہم کرنے والوں کی کمی نہیں ‘نمود و نمائش میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے ساتھ انسانی خواہشات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ایک زمانے میں صبر’ قناعت پسندی اور دور اندیشی جیسے دیرپا اصولوں کو اپنا شعار سمجھا جاتا تھا مگر نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوںمیں مصروف ہے۔خواہشات کی عدم تکمیل بھی نشے کی لعنت میں مبتلا ہونے کا باعث بنتی ہے۔ملک میں غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے اکثر بچے چھوٹی عمر میں ہی روزگار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ایسے بچے جو چھوٹی چھوٹی صنعتوں’ کارخانوں یا دکانوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں اپنے ساتھیوں یا بڑی عمر کے لوگوں کی دیکھا دیکھی منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس میںصمند بوند کا ”نشہ” بڑی لعنت ہے۔جبکہ کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے پیسے کی فراوانی کی وجہ سے نشہ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ان کا بہتر حل ماہرین یہ تجویز کرتے ہیںکہ بچوں کو وافر پیسے نہ دیئے جائیں’ خواتین کی ذمہ داری اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب ان کا بیٹا’ بھائی’ شوہر یا جوان بیٹیاں یا دوسرے عزیز نشہ کے عادی بن چکے ہوں۔ایسے افراد کی بحالی کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔
٭نشے میں مبتلا افراد کی ہمت بندھانا ہو گی’ انہیں علاج کیلئے ذہنی طور پر تیار کرنا ہو گا’انہیں نفرت کرنے والوں اور طعنے دینے والوں سے دور رکھنا ہو گا’ انہیں فارغ نہ بیٹھنے دیا جائے کہیںوہ دوبارہ نشے کی عادت کا شکار نہ ہو جائیں’ اچھی اور پسندیدہ خوراک دینا ہو گی’ نشے کے عادی افراد کی ظاہری علامات بہت آسان ہیں۔ایسا شخص انتہائی کمزور’ دبلا پتلا اور سست دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں زرد ہوتی ہیں۔اکثر آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوتے ہیں’ ہاتھوں کی انگلیوں اور دانتوں کی رنگت سے اس کے نشئی ہونے کا بآسانی پتہ چل جاتا ہے اکثر یہ 14 تا 32سال تک کے نوجوان ہوتے ہیں۔
یہ بہت ضروری امر ہے کہ ریڈیو’ ٹیلی ویژن اور اخبارات ‘ جرائد کے ذریعے عام لوگوں کو تعلیم دی جائے تاکہ اس لعنت سے خود بھی اور خاندان کے دیگر افراد کو محفوظ رکھ سکیں۔بجٹ میں اس سلسلہ میں فاضل فنڈز مختص کئے جائیں اور سماجی رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور منشیات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرنے والے افرادکی حوصلہ افزائی میڈلز اور رقوم دی جائیں تاکہ وہ مزید دلجمعی سے یہ فریضہ سر انجام دیں۔
اصلاح و احوال کی خاطر نشے کے عادی افراد کو جیلوں میں بھیجنے کی بجائے ایسے اداروں میں بھیجا جائے جہاں ان کی بحالی کا بہتر انتظام ہو’ نشے کے عادی افراد کے ساتھ بہتر سلوک کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی اپنا کردار بہتر بنانے کا پابند کیا جائے۔والدین’ اساتذہ اور علمائے نشے کے مضمرات پر بے قاعدگی سے روشنی ڈالتے رہیں تاکہ ہر شخص دلی طور پر اس لعنت سے نفرت کرنا شروع کر دے۔ادویات کے ذریعے علاج کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے۔اس سلسلہ میں جدید تحقیق کی جانی چاہیے۔آیئے نوجوانوں کو منشیات اور ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں سے بچانے کے لئے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیں اور دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔نوجوانوں کیلئے کھیل کے میدانوں کے ساتھ ساتھ آگہی لیکچرز کا بندوبست کریں اور ایسے افراد کو جو پوست سے معاشرے کے چند ناسور افیون’ چرس اور ہیروئن جیسی خطرناک اشیاء تیار کرتے ہیں اور پھر جو راتوں رات امیر بننے کی ہوس میں اس زہر کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں ان کو پکڑ کر فوری طور پر تختہ پر لٹکا دینا چاہیے تاکہ پاک صاف معاشرہ اس ناسور سے مکمل چھٹکارہ پا سکے۔
ری بدقسمتی ہے کہ نشے کا کاروبار کرنے والے اور نشہ کرنے والے عادی افراد کو ایک ہی قانون کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں منشیات استعمال کرنے والوں کی اکثریت انتہائی غریب لوگوں پر مشتمل ہے جبکہ کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد نشے کی لعنت میں مبتلا رہنے کے باوجود پولیس کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اس سلسلہ میں موثر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔علاوہ ازیں موجودہ حکومت نے جو امتناع سگریٹ نوشی کیلئے ایک قانون کی منظوری دی تھی کہ 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ پینے اور بیچنے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔
*********************************************************************************
اینٹی نارکوٹکس فورس وطن عزیز کو منشیات کے ناسور سے پاک کرنے میں پرعزم
انسدادِ منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کا پیغام

پاکستان سمیت عالمی معاشرے کومنشیات کے حوالے سے متعدد سنگین مسائل کا سامنا ہے جن میںسے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں افیون بھنگ اور دیگر مصنوعی طریقوں سے تیار کردہ منشیات کی کثیر پیداوار،پاکستان کا دنیا میں منشیات کے مرکز کے قریب ترین واقع ہونے اوران منشیات کا دنیا کے دیگر حصوں میں ترسیل کے لئے راہداری کے طور پر استعمال ہونا شامل ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان ان غیر قانونی منشیات کا بنیادی شکار اور گزرگاہ کے طور پر استعمال ہونے والا ملک بن گیا ہے۔ہماری مشکلات میں اضافے کیلئے جدید اور مصنوعی طریقے سے تیار کردہ منشیات اور آئس نے بھی پاکستان کو نشانہ بنا لیا ہے۔جس کی وجہ سے منشیات کی مقامی کھپت اور منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے معاشرے بالخصوص نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،نیز علاج اور بحالی کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔
اے این ایف منشیات کے خلاف قانون نافذ کرنے والا پاکستان کا اولین ادارہ ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو پورا کرنے کیلئے مکمل طورپر پُرعزم ہے۔ اے این ایف پاکستان میں منشیات کی فراہمی کو روکنے، منشیات کے اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔اے این ایف منشیات کے استعمال کے مضراثرات کے حوالے سے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر کوششیں کر رہاہے۔ منشیات کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ہم یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان منشیات کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں ایک قابلِ تقلید ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمیں منشیات کی غیر قانونی کاشت اور پیداوار کے سدِباب کرنے پر کامیابی کے نمونے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان 2001 سے ”پوست سے پاک ملک” کا درجہ رکھتا ہے، اے این ایف، دیگر شراکتی اداروں کے تعاون ،دستیاب وسائل، پیشہ ورانہ مہارت اور انتھک اقدامات کے ذریعے منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کر رہا ہے۔تاہم منشیات کا استعمال ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے لئے تمام ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو اسکے انسدادکے لئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ہم اپنے شہریوں خصوصاً نوجوان نسل سے درخواست کرتے ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ میں اے این ایف کا ساتھ دیں کیونکہ آپ کی حمایت کے بغیر اس لعنت کا پھیلائو روکنا ناممکن ہے۔اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع اے این ایف کے ٹال فری نمبر1415پر دیں۔
بحیثیت ڈائریکٹر جنرل اے این ایف، میں انسدادِ منشیات و غیر قانونی اسمگلنگ کے عالمی دن کے موقع پر اپنی قوم اورعالمی برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ اے این ایف انشاء اللہ پوری لگن اور اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ منشیات کے استعمال اور سمگلنگ کیخلاف جنگ جاری رکھے گی۔اے این ایف اپنے فرائض کو انجام دینے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور ارض پاک کو منشیات کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھے گی۔ہم اپنے منشورکو انتہائی عزم، خلوص اورعقیدت کے ساتھ آگے بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔اس موقع پر ہم اپنے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر ”کل” اوردنیا کو منشیات سے پاک کرنے کے مقدس فریضے کیلئے اپنا ”آج” قربان کیا۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے۔ آمین
پاکستان زندہ باد