Official Website

کچھوے اپنی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرسکتے ہیں ، تحقیق

77

اوڈینس: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کچھووں کی کئی اقسام اپنی عمررسیدگی کو روکنے یا کام کرنے پر قدرت حاصل ہوتی ہے اور ماہرین نے اس کا سیر حاصل مطالعہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام حیاتیات کی عمر بڑھتی ہے اور وہ مر جاتے ہیں لیکن تمام مخلوقات کے بوڑھا ہونے اور مرنے کے لیے کمزور ہونے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔

تحقیق میں حاصل ہونے والی دیگر معلومات میں محققین نے ان حقائق کو پہلی بار دستاویزی شکل دی کہ کچھووں، مگرمچھ اور سلے مینڈر کی عمر بڑھنے کی شرح کم ہوتی ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔
جونتھن دی سے شیلز نامی 190 سالہ کچھوا دنیا میں سب سے پُرانا جانور تصور کی جاتا ہے جو اب بھی زندہ اور تندرست ہے۔

محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حفاظتی خصوصیات، جیسے کہ کچھوں کے جسم پر خول کی موجودگی، ان کی کم رفتاری سے عمر بڑھنے میں حصہ ڈالتی ہے اور کچھ معاملات میں انتہائی معمولی سطح پر عمر بڑھتی ہے۔

نارتھ ایسٹرن اِلینوائے یونیورسٹی میں بائیولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ مصنفہ بیتھ ریئنکے کا کہنا تھا کہ یہ حفاظتی نظام جانوروں کی شرح اموات کو کم کردیتے ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے دیگر جانور ان کو کھا نہیں سکتے ہیں۔ لہٰذا اس وجہ سے وہ زیادہ زندہ رہتے ہیں اور اس سےان کی عمر کے کم رفتاری سے بڑھنے پر دباؤ پڑتا ہے۔

محققین کو حفاظتی نظام کی وجہ سے عمر کے سست روی سے بڑھنے سے خیال کی تائید کچھووں سے حاصل ہوئی۔