Official Website

پہاڑوں کی آغوش میں سمٹی پُرسکون ’وادی کمراٹ‘

64

پہاڑوں کی آغوش میں سمٹی اس پُرسکون وادی کو ’کمراٹ‘ کہتے ہیں۔ بظاہر تو یہ ایک گونگی وادی معلوم ہوتی ہے لیکن پہاڑوں کا سینہ چیر کر نکلنے والی آبشاروں سے بننے والا دریا بڑا شور مچاتا ہے۔ پتھروں سے ٹکرا کر اپنی مستی میں مست رہنے والے اس دریا کو دیکھ کر زبان سے ’سبحان اللہ‘ نکلتا ہے۔

شہر کے جھمیلوں سے دور قدرتی ماحول میں چند دن گزارنے کا ارادہ ہوا۔ کراچی سے صبح 7 بجے شروع ہونے والے سفر کا اختتام اگلے دن اس وقت ہوا جب ہم 6 دوست سورج نکلنے سے کچھ دیر قبل تیمرگرہ پہنچے۔ اب بغیر آرام کیے ہماری اگلی منزل ’تھل بازار‘ تھی جس کےلیے گاڑی بک کرالی۔

تیمرگرہ سے تھل تک کا راستہ 5 گھٹنوں پر محیط ہے، لیکن تنگ اور ناہموار سڑکیں سفر کا دورانیہ بڑھا دیتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ دن کے اوقات میں راستے میں چھوٹے اور بڑے بازاروں کی وجہ سے ٹریفک بھی جام رہتا ہے۔ سیاحوں کےلیے بہتر یہی ہے کہ وہ رات دیر یا پھر صبح سویرے سفر کریں۔
تیمرگرہ سے تھل کی طرف سفر کرنے کے دوران بائیں جانب دریا پنجکوڑہ کا گزر ہوتا ہے۔ اس دریا نے سفر کے دوران ایسی خاموشی طاری رکھی تھی کہ ہمیں اپنے پاس ہونے کا احساس بھی ہونے نہ دیا۔ بھلا ہو گل خان (ہمارے ڈرائیور) کا جنہوں نے ہمیں بتایا کہ ’اسے دریائے پنجکوڑہ کہتے ہیں‘۔ دریائے پنجکوڑہ تھل تک انسانوں کے ساتھ سائے کی مانند ساتھ چلتا ہے۔

تھل بازار سے باقاعدہ وادی کمراٹ کا آغاز ہوتا ہے۔ سیاح یہاں سے کھانے پینے اور دیگر ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں۔ یہیں سے جیپیں مناسب کرائے پر سیاحوں کو وادی کمراٹ اور جہاز بانڈہ لے جاتی ہیں۔ یہاں تھل بازار میں مکمل طور پر لکڑی سے بنی تاریخی مسجد کا ذکر لازم ہے جس کے بنانے والوں کی فنکاری دیکھنے والے کو حیرت میں مبتلا ضرور کرتی ہے۔ مسجد میں دو سے تین مرتبہ پراسرار طور پر آگ لگ چکی ہے۔ دہائیوں سے موجود اس مسجد سے متعلق مقامی لوگوں کے پاس مستند معلومات موجود نہیں۔

بازار کا مختصر دورہ کرنے کے بعد جب اپنی حیات میں پہلی بار وادی میں داخل ہوئے تو وادی کا ذرہ ذرہ ہمیں ’مرحبا، مرحبا‘ کہتا محسوس دیا۔ کمراٹ کے باسیوں نے یہاں ایک الگ ہی دنیا بسا رکھی ہے۔ چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ، ان پر لگے قطار در قطار درخت، پہاڑوں کا سینہ چیر کر بلندی سے گرتی آبشاریں، پتھروں سے اپنا سر پٹخ پٹخ کر گزرتا دریائے پنجکوڑہ کا شور، یہ سب عجیب سا سکون دیتا ہے۔ کمراٹ کا حسن دیکھ کر یہاں پہنچنے کےلیے جو کٹھن سفر طے کیا تھا وہ سبھی بھول گئے۔

وادی کمراٹ کی شام بھی اس کے حسن کی طرح بہت خوبصورت معلوم ہوئی۔ پرندے چہچہاتے اپنے آشیانے کو لوٹ رہے تھے۔ اندھیرے کے ساتھ ساتھ پُراسرار خاموشی پھیلتی رہی، مقامی لوگ چارجنگ لائٹس یا موبائل کی ٹارچ کی مدد سے اپنی جھونپڑیوں کو جاتے رہے۔ ہم خانہ بندوشوں نے بھی رات گزارنے کےلیے ٹھکانہ ڈھونڈ نکالا۔ یہ ٹین کی چادر سے بنی دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ایک جھونپڑی تھی جس کےلیے 5 ہزار روپے ادا کیے۔ اس میں 6 افراد کےلیے لذیذ کھانا، جنریٹر کی سہولت، بون فائر، چائے اور قہوہ بھی شامل تھا۔

کچھ دیر آرام کرنے بعد کھانا کھایا اور پھر بون فائر کا اہتمام کیا گیا۔ سردی کا احساس بڑھنے پر سب آگ کے اردگرد ایسے بیٹھ گئے جیسے آتش پرست ہوں۔ یہ سلسلہ رات دیر تک برقرار رہا۔ آسمان پر سیکڑوں کی تعداد میں موجود تارے ایک دوسرے سے ہم کلام تھے۔ چہار اطراف تاریکی کا راج تھا اور ایسے میں آگ سے پھیلنے والی روشنی وادی میں ہماری موجودگی کا سب کو پتا دے رہی تھی۔ ساتھ ہی ہمیں یہ خوف بھی رہا کہ اس سنسان جنگل میں کوئی جانور پچھے سے حملہ آور ہوکر ہمیں کچا نہ نگل لے گا۔ اس رات سب نے خوب نیند سمیٹ کر سفر کی تھکاوٹ دور کی۔

صبح جب جھونپڑی سے آنکھیں مسلتے ہوئے باہر نکلے تو وادی کمراٹ ہمارے ذہنوں میں موجود تصور سے کہیں زیادہ خوبصورت معلوم ہوئی۔ چاروں اطراف کھڑے بلند و بالا پہاڑ دیکھیں تو ان میں قدرت اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ وادی کی خوبصورتی فطرت کی فیاضیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس حیرت کدہ حسین وادی میں کچھ دن گزارنے کے بعد آنکھوں میں اس کے خوبصورت مناظر لیے دھیرے دھیرے ہم شہر کی مصروف زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔ یہ شمالی علاقہ جات کا میرا تیسرا سفر تھا۔

گزشتہ چند ہی سال سے سیاحوں نے وادی کمراٹ کا رخ کیا ہے۔ یہاں اُن سہولیات کی کمی ہے جو پاکستان کے دیگر مشہور سیاحتی مقامات پر دستیاب ہیں۔ کمراٹ میں مقامی لوگ رابطے کےلیے صرف ایک ہی پرائیویٹ موبائل نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس کے علاوہ کسی اور نیٹ ورک کے جاندار سگنلز موجود نہیں۔

تیمر گرہ سے بابِ کمراٹ تک سڑک بہتر ہے اور اس کے بعد راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح اپنی ذاتی گاڑیوں پر یہاں آنے سے گھبراتے ہیں۔ اگر بابِ کمراٹ سے تھل بازار اور اس سے بھی آگے سڑک کی تعمیر ہوجائے تو سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوجائے گا اور ساتھ ہی مقامی لوگوں کا روزگار بھی چمک اٹھے گا۔ درختوں کی کٹائی اور پختہ گھروں کی تعمیر سے وادی کمراٹ کا قدرتی حسن ماند پڑ رہا ہے۔ صوبائی حکومت کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔