Official Website

ملکی معیشت زوال پذیر، مہنگائی میں مسلسل اضافہ

30

لاہور: حکومتی حلقے ملکی معیشت میں برق رفتار بہتری کے دعوے کرتے ہیں، مگر معاشی اعدادوشمار کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔

مالی سال 2021-22 کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کا 4.7 فیصد رہا جسے بلند مرچنڈائز ٹریڈ ڈیفیسٹ سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں خام مال اور کیپٹل گُڈز فوڈ گروپ آئٹمز کے ساتھ ساتھ درآمد کی جاتی ہیں۔ ان تمام کیٹیگریز کے لیے طلب لچکدار ہوتی ہے۔

معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ لگژری گڈز کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ رواں مالی سال کے ابتدائی 4ماہ کے دوران مرچنڈائز ایکسپورٹ میں 32 فیصد اضافہ ہوا مگر اس ایکسپورٹ سے درآمدی اشیاء کی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں ضروری اضافہ نہیں ہوا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کو جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور تائیوان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برآمدات پر مرتکز(export-oriented ) حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے پرائس مکینزم کا مؤثر انداز میں کام کرنا ضروری ہے۔

کچھ اقتصادی ماہرین کا نقطۂ نظریہ ہے کہ پرائس مکینزم پر بہت زیادہ توجہ سے ناقابل قبول نتائج برآمد ہوسکتے ہیں بالخصوص آمدن اور دولت کی عدم مساوات، جس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام اور افراتفری جنم لیتی ہے۔

ملک میں مہنگائی میں مہنگائی میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اگست 2019ء کے بعد سے غذائی اشیا کی مہنگائی ( فوڈ انفلیشن) دہرے ہندسوں میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی شعبے کی نمو موزوں شرح سے نہیں ہورہی۔

مہنگائی کا دوسرا اہم ترین سبب امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ناقدری ہے۔ مجموعی طور پر ملکی معیشت زوال پذیر ہے جب کہ مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورتحال پالیسی سازوں کے لیے باعث غوروفکر ہونی چاہیے۔