Official Website

دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی ای ووٹنگ کے ذریعے اپناحق انتخاب استعمال کر سکیں گے

35

اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا یقینا! خوش آئند ہے کیونکہ اورسیز پاکستانی اپنے ملک سے دور پردیس میں رہ کر ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں ۔لیکن کیا آنے والے الیکشن میں اورسیز پاکستانیز اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں گے ۔کیا جتنا آسان یہ نظر آ رہا ہے اتنی ہی آسانی سے سارا کام ہو جا ئے گا ،یا پھر ابھی اس میں کچھ مسائل باقی ہیں کیونکہ ای ووٹنگ کے حوالے سے نادرا کے چئیرمین طارق ملک نے ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ای ووٹنگ کے نظام کی تیاری کیلئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن باقاعدہ طور پر نادرا کو یہ ذمہ داری سونپے ،اور اگر الیکشن کمیشن ہمیں باقاعدہ ذمہ داری سونپتا ہے تو پھر میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لوں گا اور یہی مناسب وقت ہے اور جو ڈیڑھ سال کا عرصہ ہے اس میں ای ووٹنگ کے تمام انتظامات ہو سکتے ہیں ،پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سمندر پار پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرقِ وسطی میں ہے اور ان میں بھی بڑی تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہتی ہے۔ 2017-18 کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطی میں تقریبا 48 لاکھ کے قریب پاکستانی رہ رہے ہیں، جبکہ یورپ میں 21 لاکھ سے زیادہ جبکہ شمالی امریکہ میں یہ تعداد ساڑھ تیرہ لاکھ سے زیادہ ہے۔ تین لاکھ کے قریب افریقہ، دو لاکھ سے ذرا زیادہ ایشیا اور مشرقِ بعید اور ایک لاکھ سے کچھ اور اوپر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ای ووٹنگ کا حکومتی فیصلہ بہت بہترین ہے مگر یہ اسی وقت موثر ثابت ہو گا جب تمام سیاسی جماعتوں کا اس نظام پر اتفاق رائے ہو گا،کیا اورسیزپاکستانیوں کی خواہش صرف ای ووٹنگ کا حق لینا ہے کیا ان کے مزید کوئی مسائل نہیں ،ای ووٹنگ کے بارے میں اورسیز پاکستانی کیا کہتے ہیںاس حوالے سے روزنامہ ”وائس آف پاکستان ”نے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے خصوصی فورم کا اہتمام کیا،جس میں ان کی رائے پوچھی گئی ،اوورسیز پاکستانیوں کی رائے پر مبنی فورم قارئین کی خدمت میں پیش ہے ۔
٭چوہدری عبدالعزیز (چیئرمین، پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن برطانیہ)

وزیراعظم عمران خان نے اورسیزز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو قابل ستائش ہے ۔ عمران خان کی دنیا بھر میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، اپوزیشن جماعتوں کے گینگ اپ ہونے کے باوجود تمام بلوں پر کامیابی دراصل حکومت کی فتح اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنی ہے۔اورسیز پاکستانی ہمیشہ ملک کی خدمت میں پیش پیش ہو تے ہیں ۔ اسلئے ا ن کے مسائل کو بھی سمجھنا حکومت کا فرض ہے ۔
٭آصف کمال(انقرہ۔ ترکی)

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا حکومت کا قابل ستائش عمل ہے لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو صرف ووٹ کا حق نہیں چاہیے بلکہ بہت سارے دوسرے ایسے مسائل ہیں جن میں حکومت کی توجہ درکار ہے مثال کے طور پر پاکستان میں کئی رہائشی سکیمیں بنائی جاتی ہیں، جن میں اوورسیز پاکستانیوں کا کوئی کوٹہ نہیں رکھا جاتا۔ ان سکیموں میں بھی سیاسی شخصیات اور سرکاری ملازمین فائدہ حاصل کر لیتے ہیں اور اوورسیز پاکستانی محروم چلے آ رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ہر ضلع میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے الگ رہائشی کالونیاں تعمیر کرے اور ان میں اوورسیز پاکستانیوں کو آسان اقساط پر پلاٹ دیئے جائیں۔بعض قبضہ گروپ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر کے ان کو پریشان کرتے ہیں، اس کا بھی فوری تدارک کیا جانا چاہئے۔ بلدیاتی الیکشن میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کو نمائندگی دی جائے۔
٭شاہد وسیم( کویت سٹی)

پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو بیرون ممالک میں مقیم ہیں کم و بیش لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ممالک میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سر انجام دے کر اپنے ملک و ملت کی ترقی میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے دل ہر وقت پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ زر مبادلہ کی صورت میں پیسہ کما کر پاکستان بھیجتے ہیں تا کہ ان کا ملک پھلتا پھولتا رہے اور ترقی کرتا ہوا ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔ ان لاکھ افراد کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو ووٹ کا حق ادا کر کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا نہایت اہم اقدام ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف حکومتیں بیرون ممالک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ادا کرنے کی دعوئے دار تو رہیں لیکن ان کی طرف سے اس سلسلے میں کبھی بھی کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹنگ کا حق ملنے کے اس احسن قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں تا کہ ان کی آواز بھی حکمران بالا تک پہنچ سکے اور ان کو بیرون ممالک در پیش مسائل کا تدارک کیا جا سکے۔ بلاشبہ بیرون ملک پاکستانیوں کو بہت سے دوسرے مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن ای ووٹنگ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گی۔
٭ملک اشفاق احمد(سنیئر مشیر،پاکستانی عوامی سوسائٹی کویت)

حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کو حکومتی نمائندہ منتخب کرنے کیلیئے رائے دھی کا حق استعمال کرنے کیلئے جو بل پاس کیاھے یقینا یہ ایک اچھا فیصلہ ھے۔ اور یہ دیرینہ مطالبہ بھی تھا۔ یہ سب تو اچھا ھے اور ہر طرف اچھا ھے ھی کی آواز ھے۔ مگر اسکے برعکس ہم سمندر پار پاکستانیوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ جیسا کہ ایک عدد ذاتی موبائل تک پر بھی ٹیکس ھے۔ ۔ جو کہ اس دور کی بنیادی ضرورت ھے۔ باقی مسائل تو بعد کی باتیں ھیں۔مثلا ھاوسنگ سوسائٹیوں میں اوورسیز بلاک میں قیمتیں دوگنا ھے اور وہ بھی ڈالرز میں۔ جبکہ موجودہ لوگوں کے لیے سستا ھے۔ ائیر پورٹ پر ھی بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ کسی سرکاری ادارے میں چلے جائیں تو انہیں پتا چلے کے بندہ بیرون ملک سے آیا ھے تو ہر کام کو پیچیدہ بناکر پیش کیا جاتا ھے۔(پیش کیا اس لیئے لکھا ھے اہلکاروں کی نظر ڈالرز پر ھوتی ھے)حکومت کو اس جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ھے۔ میری دعا ھے کہ اللہ پاک ھمارے ملک کو اندرونی و بیرونی شازشوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
٭خضر حیات (کویت )

ای ووٹنگ نہایت ہی موثر ہو گی ، یہ اندھیر نگری کی ظلمت میں ایک منور شمع ثابت ہو گی لیکن رہزنوں کو تو تاریکی چاہیئے، نقب زنی کے لئے، رہزن سارے تو پریشان ہوں گے- اوورسیز کے مسائل اور بھی ہیں، یہ سچ ہے لیکن تمام زینے ایک ہی بار سر نہیں ہوتے ایک ایک کر کے زینوں سے ہوتے ہوئے منزل نصیب ہوتی ہے سو یہ پہلازینہ سمجھ کر قدم بڑھائیں، ایک سچے انسان کا ساتھ دیں۔
٭ لارڈ واجد خان
ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ واجد خان جو 2018 کے الیکیشن میں یورپین یونین کی الیکشن مانیٹرنگ ٹیم کا حصہ تھے انہوں نے اورسیزز پاکستانیوں کو پاکستان کے الیکشن میں ووٹ کا حق حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے ساتھ میں اس ضرورت پر بھی زور دیا ہے ووٹنگ کے عمل کو حکومت پاکستان نے صاف اور شفاف بنانا ہوگا ۔ ووٹ کا حق ملنے سے تارکین وطن کے مسائل حل ہونے کی توقع ہے،اوسیزز پاکستانیوں کو پاکستان کے الیکشن میں ووٹ کا حق ملنے پر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اپنی بھرپور خوشی کا اظہار کیا ہیاورسیز پاکستانیوں نے وزیراعظم عمران خان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انکے اورسیزز پاکستانیوں کے بارے میں اقدامات کا خیر مقدم کیا ۔٭ ڈائریکٹر علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی ( الہرا ایجوکیشنل سنٹر اور تکبیر ٹیلی ویژن نیٹ ورک،ہیلوٹن )

تارکین وطن کو پاکستان کے الیکشن میں ووٹ کا حق ملنے سے برطانیہ و یورپ اور امریکہ میں پاکستانیوں کی نئی نوجوان نسل کا تعلق اور رابطہ پاکستان سے استوار ہونے میں مدد ملے گی۔
٭شیراز خان (تجزیہ نگار ،صحافی، لندن )

موجودہ حکومت نے اورسیز پاکستانیوںکی بہتری کیلئے بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے جو قابل ستائش ہیں ،ان میں سے ایک ووٹ کا حق دینا بھی ہے موجودہ حکومت نے اورسیز پاکستانیوں کی اہمیت کو سمجھا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے
٭چوہدری شریف( سنئیر نائب صدر، تحریک کشمیر برطانیہ )
اورسیزز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے بارے میں عمران خان نے ایک طویل جدوجہد کی ہے اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے اورسیزز پاکستانی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
٭ اسرار خان(صدر،پاکستان پریس کلب لوٹن برانچ )

ہم حکومتی فیصلے کو سراہتے ہیںاور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوگی چونکہ اس میں تارکین کا بھی کردار ہوگیا ہے۔
٭حاجی چوہدری محمد قربان ( سماجی اور مذہبی رہنما )
وزیراعظم عمران خان نے ارورسیزز پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں ۔ان کا یہ فیصلہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
٭ڈاکٹر صبور جاوید ( سائنسدان و ماہر موسمیاتی تبدیلی )
ہمارے پاکستان میں پلاٹوں اور زمینوں پر قبضہ ہوجاتا ہے اور اورسیزیز پاکستانیوں کی کوئی شنوائی بھی نہیں ہے اب توقع کی جارہی ہے کہ ہماری اپنے نمایندوں سے براہ راست رسائی ہوگی۔
٭جہانزیب خان (چئیر مین ، ہانگ کانگ یوتھ بیٹرمنٹ)
حکومت نے زبردست فیصلہ کیا ہے تارکین وطن پاکستانی محب وطن ہیں اور عمران خان کے اس فیصلے سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی اپوزیشن کی منفی سیاست پر مایوسی ہوئی ہے ۔
٭سردارجاوید عباسی ( رہنما مسلم کانفرنس )
اورسیز ڈائسپورہ جس میں ایک بڑی تعداد کشمیریوں کی ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مشکور ھیں جنہوں نے ووٹ کا حق دیکر دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں اور خاص کر کے کشمیریوں کی نسلوں کو ایک بار پھر سے اپنے وطن پاکستان کے ساتھ جوڑ دیا ھے ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں نے مسلم کانفرنس کی قیادت میں پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قراد ر منظور کی تھی اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے 1970 میں جب پاکستان کو دو لخت کیا گیا تو کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیکر کراچی سے لیکر سرینگر تک پوری مملکت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر دیا۔ آج عمران خان نے پوری دنیا میں رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کو ووٹ کا حق دیکر کشمیریوں کے دل جیت لیے ھیں اور ھماری تیسری نسل کو اور آنے والی نسلوں کوپاکستان کے ساتھ منسلک کر دیا ھے ۔
٭ سید اشتیاق ہمدانی( سید اشتیاق ہمدانی،ماسکو روس)
موجودہ حکومت کا زبردست فیصلہ ہے جسے سراہنا ضروری ہے ۔تارکین وطن پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ورچوئل دنیا اب ایک حقیقی دنیا بن چکی ہے۔ اس لیے ڈیٹا سکیورٹی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ جب آپ اپنے ووٹنگ سسٹم کی ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنا لیں گے تو سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے ملک کا ہی فائدہ ہوگا دنیا کے کئی ممالک اپنے سفارت خانوں میں الیکشن ڈے پر پولنگ سٹیشن قائم کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ ووٹنگ کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو وہ خود استعمال کرے ووٹر ووٹ بھی کاسٹ کریں۔
٭ نثار گلشن ( سابق سنئیر نائب صدرپاکستان پریس کلب یوکے )
تارکین وطن کو الیکشن میں ووٹ کا حق ملنے کے بل کے پاس ہونے کو بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے،اورسیز پاکستانی اپنے ملک سے دور ہیں لیکن ملکی خدمت میں وہ سب سے آگے ہوتے ہیں ۔
٭ شہزاد اختر (اٹلی )
اورسیزز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملناملکی ترقی میں ایک سنگ میل کی حییثت رکھتا ہے ،تارکین وطن وزیراعظم سے اپیل کرتے ہیںکہ الیکشن کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے اقدامات کیے جائیں ۔
٭چوہدری اکرم جوڑہ (صدر مجلس شوری تحریک منہاج القرآن ڈنمارک )
عمران خان کے اقدامات سے ڈنمارک میں مقیم پاکستانیوں کو بے حد خوشی ہوئی ہے امید ہے عمران خان پاکستان کی بہتری کے لئے دیگر اپنے وعدہ پورے کریں گے۔
٭تصور چوہدری (صدر پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب)
قومی اسمبلی کے جوائنٹ سیشن میں حکومتی اور اسکے اتحادی ارکان نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کا بل منظور کیا جس پر تمام پاکستانی مسرور ہیں کیوں کہ یہ انکا حق اور درہنہ مطالبہ تھا جس کو ہر حکومت نے تسلیم کیا اور منظور کروانے کی کوشش کی۔ مگر اس موجودہ حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل بھی منظور کروایا ھے جو بددیانتی پر مبنی ھے۔یہ مشین 2011 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں تیار کی گی تھی مگر اس وقت تمام اپوزیشن نے اسکی مخالفت کی تھی تو اس پروجیکٹ کو بند کردیا گیا تھا کیوں کہ اس کی وجہ دھاندلی کا خطرہ تھا اور بہت سے ممالک میں اسکو ممنوع کرار دے دیا گیا ھے۔اور یہ حکومت اسی پروگرام کو لیکر آگے بڑھ رھی ھے جس سے وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاھتی ھے جس سے اپنی مرضی کے رزلٹ حاصل کر سکے۔ مگر پاکستانی عوام اسکی پرزور مذمت کرتے ھیں. ضرورت اس امر کی ھے کہ اس مشین کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجاے نظام کو ٹھیک کریں تاکہ شفاف الیکشن ھوں نہ کہ سلیکشن۔ اور چاہتے ھیں کہ الیکشن کمیشن اس پر فوری ایکشن لے اور قانونی تقاضے پورے کرے جس سے جمھور کا فیصلہ آخری ھو۔
٭ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری (صدر حلقہ فکروفن ، سعودی عرب)

دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک اپنے بیرون ملک رہنے والے شہریوں کو کسی نہ کسی حوالے سے ملک میں ووٹ ڈالنے کا حق دیتے ہیں۔ زیادہ تر ممالک نے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی شرط رکھی ہے اور اگر کوئی اوورسیز شہری اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے اس شرط پر پورا اترنا ضروری ہے۔پاکستان میں اکثر ہر مسئلہ سمندر جتنا بڑا ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ تو مسئلے میں سمندر بھی حائل ہے۔ جی ہاں، یہ مسئلہ ہے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کا۔ اگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو دیکھا جائے تو زیادہ تر سمندر پار پاکستانی تو ووٹ کا حق ملنے پر خوش ہی نظر آ رہے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ووٹ پیرس میں ڈالا جائے اور نتیجہ ملتان میں نکلے۔یہی حال ہماری اندرونی سیاسی پارٹیوں کا ہے حکومتی پارٹی اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہی ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے 80 لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق ملا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس پر طرح طرح کے اعتراض کے جواز تلاش کر رہی ہے ساتھ حفظ تقدم کے طور پر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم سمند پار پاکستانیوں کے خلاف نہیں -میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ ایک اچھا فیصلہ ہے یہ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کا ڈائسپورا (تارکینِ وطن) کس قسم کا ہے۔ ہم یہاں بیٹھے ذات پات سے اوپر نکل چکے ہیں۔ اس لیے میری ووٹ دینے کی سوچ میکرو ایشوز پر ہو گی مائیکرو پر نہیں۔ میرے لیے پاکستان کی معیشت اور ترقی کے مسائل اہم ہوں گے نہ کے چھوٹے موٹے سطحی مسائل۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، جس کے بعد آئندہ الیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو گا، الیکشن کے نظام میں بڑی تبدیلی رونما ہو گی جبکہ ملک بھر میں ٹھپہ کا کلچر ختم ہو جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے EVM سے انتخابی دھاندلی کا توڑ نکالا جا سکتا ہے جس طرح دنیا کے بے شمار ممالک نے کیا تاہم اپوزیشن اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں دنیا بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناکام ہو چکی ہے۔ جہاں تک اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا تعلق ہے ان میں سے اکثر کا تعلق مقامی حکومتوں سے ہے جہاں پر ہمارے سفارتی عملہ ان مسائل کے حل میں ممد و معاون ہو تا ہے – جبکہ بہت سے مسائل پاکستان سے بھی ہیں جو ڈائریکٹ حکومت پاکستان کے دائرہ اختیار میں ہیں – حکومت پاکستان کو ان مسائل کو حل کرنے میں اور بیرونی ممالک میں اپنے سفارت کاروں کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ہو گی – لیکن اس کا تعلق ووٹنگ رائٹس پر نہیں پڑنا چاہئے وہ ایک اچھا قدم ہے جس سے لوگوں کی اکثریت خوش ہے –
٭ڈاکٹر عارف محمود کسانہ(مصنف،کالم نویس،سویڈن )

بہت سارے پاکستانی جو یورپ میں موجود ہیں انہوں نے پاکستان کی شہریت ترک کر کے سویڈش،جرمن ،فرانس اور دیگر یورپ ممالک کے شہری بن چکے ہیں اور وہ خود کو پاکستانی مانتے نہیں ہیں اب ان لوگوں کا تو ووٹ نہیں ہو سکتا مڈل ایسٹ کے علاوہ یورپ میں رہنے والے پاکستانی پس منظر ضرور رکھتے ہیں لیکن وہ پاکستانی نہیں ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی شہریت تبدیل کر دی ہوئی ہے اب ان کے ووٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے چند ایسے مملک ہیں دوہری شہریت کے حامی ہیں جیسے سویڈن ہے لیکن قانون میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ دوہری شہریت والا بھی ووٹ ڈال سکتا ہے کہ نہیں ،اگر یہ لوگ ووٹ نہیں ڈال سکتے تو پھر یورپ ممالک میں بسنے والے 80 فیصد لوگوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس کا فائدہ صرف اور صرف مڈل ایسٹ میں بسنے والے لوگوں کو ہو گا دوسرا میرا ذاتی نقطہ نظر ہے کہ اگر پاکستان سے باہر پاکستان کی سیاست کا آغاز کیا گیا تو لوگ تقسیم در تقسیم ہوں گے آج بھی یورپ میں لوگ مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک سے باہر صرف اور صرف پاکستان کا جھنڈا ہماری پہچان ہونا چاہیئے یہی ہم سب کی پہچان ہے
٭حافظ عرفان کھٹانہ (چیئرمین پاک کشمیر میڈیا فورم سعودی عرب )

اوورسیز پاکستانی وطن عزیز کا حقیقی سرمایہ ہیں وطن عزیز کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اوورسیز پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں جہاں تک بات کی جائے ووٹنگ کی تو سب سے پہلے ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے کیا ملکی معیشت مزید بہتر اور مضبوط ہو گی یا اوورسیز کے مسائل میں کمی آئے گی ؟حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے کر عارضی خوشی تو دی ہے مگر وقت کے ساتھ مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے اس وقت وطن عزیز کے اندر اتنے مسائل ہیں جن کو حکومت حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل تو بعد کی بات ہے اگر ووٹرز کی بات کی جائے تو اوورسیز میں ووٹ کے لحاظ سے پی ٹی آئی پہلے نمبر پر ہے جو اپنے ووٹرز کو کیش کرنا چاہتی ہے مگر پاکستان سے باہر سیاست کا آغاز کرنے سے لوگ تقسیم ہو جائیں گے پاکستان کی بجائے اپنی پارٹی کا نعرہ انکی اول ترجیح بن جائے گا ہمارا تعلق ترقی پذیر ملک سے ہے ہمیں سب سے پہلے اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہے اس کے بعد ہمیں ان پر کام کرنا چاہیئے ملک سے بار ہم سب کا نعرہ پاکستان ہونا چاہئے۔
٭گیلانی شاہ (یڈووکیٹ ،کویت)

ووٹ بھی دے اور نوٹ بھی دے دیار در سر دور رہنے والا۔بڑی ہی دلچسپ صورتحال ہے کہ سیاہ سی گروہ اپنے مفادات کے لیے دیار غیر میں مزدوری کرنے والوں کو اپنی مضبوطی کے لئے ووٹ کا حق تو دینا چاہ رہے ہیں۔ مگر انکا قومی و ملی حق جو انکی وفاداری کی بنا پہ ہے وہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ ووٹ دے سکتا ہے مگر اپنا فون اپنے دیس میں لا کر استعمال نہیں کر سکتا۔ اس کے پیسے ریاہ ست کو تو فائدہ دیتے ہیں۔ مگر اس کے لیے نہیں۔ اس کی زمین پہ قبضہ۔ گھر پہ قبضہ تو چھڑایا نہیں جاتا لیکن اس کی جیب کا صفایا ملک و ملت کے نام پہ کیا جاتا ہے۔ ووٹ دے تو سکتا ہے۔ لے نہیں سکتا۔ کوئی نمائندہ نہیں بن سکتا۔ کوئی آواز نہیں بن سکتا۔ کوئی باقاعدہ پہچان نہیں بن سکتا۔ بن سکتا ہے تو صرف راکھ۔۔۔۔
٭پروفیسر ڈاکٹر ندیم بھٹی(سابق ایڈوائزر سعودی حکومت ،کینیڈا )

الیکٹرانک ووٹنگ مشین اس وقت ایک اہم ایشو بن چکا ہے اپوزیشن اور حکومتی گروپ ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے ہیں EVMکے فوائد کیا ہیں دیکھا جائے تو ماضی میں جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ان انتخابات میں کچھ ایسے حلقے ہوتے تھے جہاں بیلٹ بکس غائب کر دئیے جاتے تھے جعلی پرچیاں چھاپ کر استعمال کی جاتی تھی ماضی کے ہر الیکشن میں رزلٹ تبدیل کر دیا جاتا تھا ان ساری وجوہات کے پیچھے یہی محرکات ہوتے تھے اس لیے EVM سسٹم کی بہت ضرورت تھی کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی انتخابی اصلاحات کا موقع ملا لیکن وہ نہ کر سکے موجودہ حکومت نے انتخابی اصلاحات پر اسٹینڈ لیا EVM کے ذریعے ووٹوں کی گنتی ہوگی اس مشین کے ذریعے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی ضرورت نہیں ہوگی پہلے ووٹر کی تصدیق نہیں ہوتی تھی ایک ووٹر ایک سے زائد مرتبہ ووٹ کاسٹ کر کے چلا جاتا تھا یہاں تک کہ مرا ہوا ووٹر بھی ووٹ کاسٹ کر دیتا تھا یہ سب اس لیے ہوتا تھا کہ ووٹر کی تصدیق نہیں ہوتی تھی EVM کے ذریعے ووٹر کی تصدیق ہوگی اس سسٹم سے ایسا نہیں ہوگا کہ مردہ شخص ووٹ ڈال سکے اب پوری دنیا میں الیکٹرانک بینکنگ سسٹم کے ذریعے پوری دنیا میں اکاونٹ چلائے جا رہے ہیں اب اگر بینکنگ سسٹم اتنا مضبوط اور پوشیدہ ہو چکا ہے اس سسٹم کے ذریعے اکاونٹ ہولڈر محفوظ ہے تو EVM سسٹم سے انتخابی اصلاحات ممکن ہیں اس سسٹم کے ذریعے ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جا سکے گا ۔
٭پاسٹر پرویز یوسف (چیئرمین پاکستان کرسچن ویلفیئر سوسائٹی سعودی عرب )

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا بڑی خوش آئندہ بات ہے اوورسیز پاکستانیوں کا بڑا درینہ خواب تھا جس کو عمران خان نے پورا کر دیا ہے امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اوورسیز پاکستانیوں کے دوسرے مسائل کو بھی حل کرے گی ساری عمر پاکستان کی خدمت کرنے کے بعد جب ہم لوگ اپنے گھر واپس جاتے ہیں تو پلاٹس پر قبضہ ہو چکا ہوتا ہے ہر چیز مہنگی خریدنی پڑتی ہے بچوں کی پڑھائی کا مسئلہ ہوتا ہے اوورسیز کے لئے سپیشل کوٹہ ہونا چاہیئے اور ایسی سکیم ہونی چاہیئے کہ تاکہ وطن میں جا کر کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اس پر کام کریں گے سعودی عرب میں موجود پوری کرسچن کمیونٹی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتی ہے ۔
محمد رفیع(کاروباری و سماجی شخصیت (اٹلی)
اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا بڑی بات ہے مگر اس کے ساتھ بہت سارے مسائل ہیں جن پر حکومت پاکستان کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے جس کی مثال یہ ہے کہ اٹلی کے اندر جب ہم پاکستانی پیپرز ورک کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اس وقت اپرول کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے ہمارے پاس ایسا سسٹم نہیں ہے کہ جس کے ذریعے ہم اس کو حل کروا سکیں اس کو بہتر کیا جائے جب ہم لوگ پیسا کما کر وطن عزیز میں بھیجتے ہیں تو وہاں پر جا کر جب ہم کوئی گھر یا کاروبار شروع کرتے ہین تو ہمیں دوبارہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ہم حکومت وقت سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے مسائل سے نجات دلائی جائے۔
٭چوہدری محمد اکرم گجر (چیئرمین پاکستان مسلم لیگ ن سعودی عرب )

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا اچھی بات ہے مگر اوورسیز پاکستانیوں کیاور بھی بہت سارے مسائل ہیں جن کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ہم سعودی عرب میں موجود ہیں تو سعودی عرب کے مسائل کی بات کروں تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے سٹاف کی تعداد کم ہے جس کی وجہ بہت سارے ورکرز تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے جب عام پاکستانی جو مزدوری کرتا ہے جب اس کو کسی مسئلے کا سامنے کرنا پڑتا ہے تو وہ سب کو برا بھلا کہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی عزت پر حرف آتا ہے سٹاف کے ساتھ دوسرے شہروں میں ایسے مستقل مقامات بنائے جائیں جہاں پر عام آدمی اپنے مسئلے کے لئے جا سکے ۔امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان جلد اس پر عملی اقدامات کرے گی دیار غیر میں سب سے پہلے ہم پاکستانی ہیں۔