Official Website

اس سیارے کا ایک سال ہمارے 16 گھنٹوں کے برابر ہے

57

مشتری سے پانچ گنا کمیت رکھنے والا TOI-2109b نامی سیارہ ہماری زمین سے 855 نوری سال کے فاصلے پر ہے لیکن یہ اپنے ستارے کے گرد اتنی تیزی سے گردش کررہا ہے کہ صرف 16 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرلیتا ہے؛ یعنی وہاں پر ’’ایک سال‘‘ صرف 16 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی محقق ایان وانگ نے بتایا کہ اس سیارے کا درجہ حرارت بھی دوسرے سیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال میں جتنے بھی سیاروں کی خصوصیات کا مشاہدہ کیا گیا ہے ان میں ایسے سیارے بہت نایاب ہیں۔

واضح رہے کہ گیس سے بنے ہوئے بڑے اور گرم سیاروں کو ’’گرم مشتری‘‘ (ہاٹ جیوپیٹرز) بھی کہا جاتا ہے جو عام طور پر اپنے ستارے سے خاصی دوری پر واقع ہوتے ہیں۔ البتہ ستارے سے بہت کم فاصلے پر رہتے ہوئے گردش کرنے والے، ایسے بڑے سیارے اب تک ہمارے مشاہدے میں بہت کم آئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سائنسدان TOI-2109b کو نایاب ترین سیاروں میں شمار کررہے ہیں۔

اسے ’ٹرانزٹنگ ایگزوپلانٹ سروے سیٹلائٹ‘ (TESS) کی مدد سے دریافت کیا گیا ہے جو زمین کے گرد چکر لگانے والا ایسا مصنوعی سیارچہ (سیٹلائٹ) ہے جسے دوسرے ستاروں کے گرد سیارے تلاش کرنے کےلیے بطورِ خاص بھیجا گیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ جب کسی دور دراز ستارے کے گرد چکر لگانے والا کوئی بڑا سیارہ جب اس کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس ستارے سے آنے والی روشنی میں معمولی سی کمی واقع ہوتی ہے؛ جبکہ یہ عمل ایک خاص وقفے سے بار بار ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے سائنس کی زبان میں ’’عبور‘‘ یا ’’ٹرانزٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہ مصنوعی سیارچہ 2020 سے TOI-2109 کہلانے والے ستارے کی روشنی میں کمی یعنی ’’ٹرانزٹ‘‘ کا مشاہدہ کررہا تھا جو ہر 16 گھنٹے بعد واقع ہو رہا تھا، جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ اس ستارے کے گرد کوئی سیارہ گردش کررہا ہے جو ہر 16 گھنٹے کے دوران مدار میں اپنا ایک چکر مکمل کرلیتا ہے۔ ستارے کی مناسبت سے اس سیارے کو TOI-2109b کا نام دیا گیا۔

مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیارہ ہمارے مشتری کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ بھاری بھرکم ہونے کے علاوہ، اپنے ستارے سے بہت قریب اور بے حد گرم بھی ہے۔