Official Website

عالمی سطح پر خوراک کا بحران دستیابی کی بجائے مہنگائی کی وجہ سے ہے، اقوام متحدہ

20

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ جاری رہنے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

یہ بات اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے چیف اکنامسٹ عارف حسین نے ایک انٹرویو میں بتائی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے باعث سپلائی لائن متاثر ہونے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں کمی آنا ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے ‘پہلے سے بھڑکتی آگ کو مزید ایندھن’ فراہم کردیا ہے۔

یوکرین دنیا میں گندم، مکئی اور سورج مکھی برآمد کرنے والا اہم ملک ہے اور روسی حملے کے بعد اس کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

مگر عارف حسین نے کہا کہ عالمی سطح پر خوراک کا بحران دستیابی کی بجائے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک تو دستیاب ہے مگر قیمت بہت زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2022 میں عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھیں اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

کھاد کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث بھی اشیائے خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ روس کی جانب سے کھاد کی برآمد کو محدود کرنا ہے۔

عارف حسین کا کہنا تھا کہ اگر کھاد کی سپلائی کو بحال نہ کیا گیا تو خوراک کے بحران پر قابو پانا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ اس وقت خوراک سے محروم افراد کی تعداد 34 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو 2019 میں ساڑھے 13 کروڑ تھی۔

اسی طرح توانائی ذرائع کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین متاثر ہونے سے بھی حالات خراب ہوئے ہیں اور عالمی بینک کے مطابق آئندہ 2 سال تک حالات میں بہتری کا امکان نظر نہیں آتا۔