Official Website

توہین عدالت کیس میں عمران خان کا جواب غیرتسلی بخش قرار، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

17

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے عبوری جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا، 8 ستمبر تک دوبارہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ عمران خان اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہوئے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان سے کہا کہ آپ کا تحریری جواب پڑھ لیا ہے، ماتحت عدالت کے ججوں سے متعلق جو کہا گیا اسکی توقع نہیں تھی۔

معزز جج نے کہا کہ ستر سال میں عام آدمی کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں رسائی نہیں ہے، کم از کم جو جن حالات میں رہ رہے ہیں وہ بھی دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرکے کہا کہ جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی چیز واپس نہیں آتی، میں توقع کر رہا تھا کہ غلطی کا احساس ہوگا۔

عدالت نے کہا ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے فالورز ہوتے ہیں تو اس کو کچھ کہتے سوچنا چاہیے، عمران خان کے قد کے آدمی کو کیا ایسا کرنا چاہیے تھا؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سب سے بدترین ٹارچر جبری گمشدگیاں ہیں، گزشتہ تین سال میں بغیر کسی خوف کے ہم نے ٹارچر کا ایشو اٹھایا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے جواب سے مجھے اندازہ ہوا کہ عمران خان کو احساس نہیں ہے، جواب سے لگتا ہے کہ عمران خان کو احساس ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کہا؟ اسد طور اور ابصار عالم کے کیسز آپ دیکھ لیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو پتہ ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس نےمعاملہ ماتحت عدالت کو ریمانڈ کیا تھا، اس دوران ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے بولنے کی کوشش تو عدالت نے انہیں بولنے سے روک دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ معاملہ کورٹ اور جس سے متعلق توہین عدالت کی کارروائی ہے اس کے درمیان ہے۔

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ اپنے کلائنٹ کیںطرف سے نہیں آپ عدالتی معاون کے طور پر ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھیں اور اپنے آپ کو صرف عمران خان کا وکیل نہ سمجھیں، آپ اس کورٹ کے معاون بھی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کس کے ماتحت ہے؟ کسی قیدی پر ذرا بھی تشدد ہو تو کیا کوئی جیل اس کو اس طرح رکھ لیتی ہے؟ کیا ٹارچر کی ذرا سی بھی شکائت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز اور کورٹ، جوڈیشری پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں، یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے لیکن یہ عدالت کمزور کے لیے بھی اور چھٹی کے روز بھی 24 گھنٹے کھلی رہی ہے۔

اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے آرڈینس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نا ہوتی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں، انہوں نے بڑے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے، ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے لیکن اس عدالت کے کسی جج کو کوئی influence نہیں کر سکتا ۔

عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ طلال چوہدری اور دانیال چوہدری کا کیس اور ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے، لیکن اس کورٹ نے کبھی بھی پروا نہیں کی کہ کون کیا کہتا ہے۔

انہون نے کہا کہ سیاسی لیڈر شپ نے سوشل میڈیا کو خراب کیا ہے اگر کوئی سیاسی لیڈر کہہ دے کہ سوشل میڈیا پر ایسا نہیں کرنا تو یہ سب رک جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ مجھے کبھی فلیٹ دلا دیا گیا کبھی تصویر ایک معزز جج کے ساتھ وائرل کردی گئی لیکن یہ ہم پر کوئی اثر نہیں کرتا لیکن ہم توہین عدالت کی کاروائی کو ہم غلط استعمال نہیں ہونے دیں گے نا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ججز کی تصویریں لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں لیکن جو جواب آپ نے جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبہ کے مطابق نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں، جس پر عدالت نے عمران خان کے وکیل کو سپریم کورٹ کے تین فیصلے پڑھنے کی ہدایت کی۔

توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر کہا کہ یہ پروسیڈنگ آج بھی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپ کا جواب پڑھ کر اب یہ پروسیڈنگ آگے بڑھیں گی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آپ نے جو جواب بھی دینا ہے زرا سوچ سمجھ کر دینا ہے کیوں کہ اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب آئین سپریم ہوگا۔

اٹارنی جنرل اختر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ 2014 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھتے ہیں تو اس وقت منیر اے ملک پراسیکوٹر تھے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پولرائزیشن اتنی ہو گئی ہے کسی بھی غیر جانبدار شخص کا نام بتائیں جس پر آپ سب متفق ہوں؟

توہین کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سات روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

عمران خان توہین عدالت کیس میں 3 عدالتی معاون مخدوم علی خان، منیر اے ملک اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے کو عدالتی معاون مقرر کردیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔