Official Website

چھت چھن گئی، غربت، بھوک، پیاس اور بیماریاں، ملک بھر کے سیلاب متاثرین کی ایک کہانی

15

سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی ایک ہی کہانی ہے کہ سر کی چھت چھن گئی، غربت، بھوک، پیاس اور بیماریاں رہ گئیں۔

ضلع داد و میں قائم 201 امدادی کیمپوں میں رجسٹرڈ متاثرین کی تعداد 23 ہزار سےتجاوز کر چکی ہے جبکہ 2 لاکھ سے زائد متاثرین اب تک غیر  رجسٹرڈ  ہیں۔

ادھر ٹنڈوالہ یارمیں سیلاب متاثرین سڑک کنارے امداد کے منتظر ہیں، خیموں اور مچھردانیوں سے محروم افراد بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔

ضلع مٹیاری کے گوٹھ محمد ملوک خاص خیلی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ امداد کے بجائے ان کی زمینوں سے پانی نکالا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل پر پانی کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھنے کے باعث کٹ لگائے گئے تھے جس سے سیہون کی 5 یونین کونسلز کے ڈوبنے کا امکان ہے۔