Official Website

گلگت بلتستان کو مضبوط اور تعلیم یافتہ صوبہ بنانا میراعزم

106

گلگت بلتستان کو مضبوط اور تعلیم یافتہ صوبہ بنانا میراعزم

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بیرسٹرمحمدخالد خورشید خان سے گلگت بلتستان کے بجٹ اور تعمیر و ترقی پر ”وائس آف پاکستان ” کا خصوصی انٹرویو

شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com

گلگت بلتستان ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہو نے کے ساتھ ساتھ اپنے محل وقوع کی وجہ سے ایک اہم علاقہ ہے ،دس اضلاح پر مشتمل یہ علاقہ اپنی خوبصورتی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا ۔گذشتہ ہفتے گلوبل میڈیا ایسوسی ایشن کے صحافیوں پر مشتمل وفد نے گلگت بلتستان کا وزٹ کیا ،جس کا مقصد بطور مبصر گلگت کی سیاحت پر رپورٹس بنانا تھا اسی وزٹ کے دوران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان محمد خالد خورشید خان سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا گیا۔بیرسٹرمحمدخالد خورشید خان پاکستان تحریک انصاف سے سیاسی وابستگی رکھتے ہیں اور گلگت بلتستان کے موجودہ وزیر اعلی ہیں۔بیرسٹرمحمدخالد خورشید خان ایک مضبوط اور پڑھے لکھے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ 25 نومبر 1990 سے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبر رہے ہیں ،خالدخورشید کا تعلق بنیادی طور پر مچوکو قبیل سے ہے۔ پبلک اسکول اینڈ کالج ، گلگت سے میٹرک اور فیصل آباد سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے انگلینڈ کے کوئین میری یونیورسٹی لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔بیرسٹرمحمدخالد خورشید خان کے والد محمد خورشید خالد نے 1973 میں گلگت بلتستان میں منعقدہ استور1 ، جی بی ایل اے 13 سے ہونے والے پہلے انتخابات میں بڑے مارجن سے اپنی نشست جیت لی تھی۔ بعد میں وہ عدلیہ میں شامل ہوئے اور نومبر میں چیف جسٹس ، گلگت بلتستان کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے۔بیرسٹرخالد خورشید خان نے 28 جولائی 2018 کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2019 میں پاکستان تحریک انصاف استور دیامر ڈویژن کے صدر مقرر ہوئے۔بیرسٹرخالد خورشید خان نے 2020 ء میں گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 15 نومبر 2020 کو حلقہ جی بی اے 13 (استور 1)سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پرالیکشن لڑا۔ انہوں نے پی ایم ایل این کے رنر اپ فرمان کے مقابلہ میں الیکشن جیتا۔انہوں نے 33 رکنی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار امجد حسین کے نو ووٹوں کے مقابلے میں 22 ووٹ حاصل کیے۔اور یوں وہ گلگت بلتستان کے تیسرے وزیر اعلیٰ منتخب ہو ئے ۔ پی ٹی آئی نے خالد خورشید خان کو 27 نومبر 2020 کو وزیر اعلی گلگت بلتستان کا امیدوار نامزد کیا اور30 نومبر 2020 کوبیر سٹر خالد خورشید خان نے گلگت بلتستان کے وزیر اعلی کا حلف لیا ۔ان کی قیادت میںجی بی حکومت نے حال ہی میں مالی سال 2021-22 کے لئے سالانہ بجٹ 106 ارب روپے کے حجم کے ساتھ پیش کیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایک خوبصورت ترقیاتی پیکیج بھی حاصل کیا۔ پی ٹی آئی رہنمائوں نے اسے تاریخی بجٹ قرار دیا ہے۔بیرسٹرخالد خورشید خان اس بجٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور وہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کیا وژن رکھتے ہیں روزنامہ” وائس آف پاکستان” کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو کو ذیل میں قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے ۔
وائس آف پاکستان : آپ کی حکومت کی ترجیحات کیا ہیں ؟اور چیلنجز کیا ہیں ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : گلگت بلتستان کے عوام کی بہتری اور ان تک صحت کی سہولیات پہنچانا میری اور میری حکومت کی پہلی ترجیح ہے ،عوام کو صحت کی سہولیات ان کے در پر پہنچانا عزم ہے ،بہترین صحت کی سہولیات عوام کا حق ہیں ،وزیر اعظم کی خصوصی توجہ گلگت بلتستان پر ہے ،ہم نے جب بھی وزیر اعظم عمران خان سے اپنے علاقے کے بارے میں بات کی انہوں نے فوری طور پر احکامات جا ری کیے ،بجٹ دیا ۔کیونکہ وزیر اعظم کا وژن بھی گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی ہے ۔ جی بی حکومت نے موجودہ بجٹ میں محکمہ صحت کی 97 سکیموں کے لئے 4.15 بلین روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں کیونکہ لوگوں کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ماضی میں بھی صحت کا شعبہ نظرانداز رہا ۔ کیونکہ ان کے نزدیک عوام کی صحت کی سہولیات قابل ترجیح نہیں تھیں ۔ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ جی بی کے تمام دس اضلاع میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) کی سہولت قائم کی جائے کیونکہ ابھی تک کسی بھی ضلع میں آئی سی یو کی سہولت موجود نہیں ہے۔ جب سے ہماری حکومت نے چارج سنبھالا ہے ، ہم نے چار اضلاع میں او پی ڈی آپریشنل کر دئیے ہیں اور باقی اضلاع میں بھی جلد ہی یہ آپریشنل ہو جا ئیں گے ۔حکومت ہیلتھ کیئر یونٹوں میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی بھرتی کا منصوبہ بنا رہی ہے اس سے ایک طرف جی بی کے عوام کو روزگار ملے گا تو دوسری طرف بہتر صحت کی سہولیات بھی مہیا ہو نگی ۔ ہم نے میڈیکل کالج اور تربیتی اداروں کے قیام کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ہر ایف پی سی ایس ڈاکٹر کو اب نوکری کا موقع دیا جائے گا۔محکمہ صحت میں 4000 سے زیادہ آسامیاں خالی ہیںاور ان پر بھرتیوں کی ضرورت ہے ، پچھلی حکومتوں کی توجہ بھرتیوں پر تو رہی مگر انہوں نے صرف سیاسی بھرتیاں کیں اور اپنے ووٹ پکے کرنے کی کوشش کی ۔لیکن ہمارا مقصد سیاسی بھرتیاں نہیں بلکہ اہل تکنیکی عملے کی خدمات عام عوام تک پہنچانا ہے ۔جی بی میں صرف 75جنرل نرسز ہیں اتنی تعداد تو کسی بھی ایک اچھے ہاسپٹل میں ہو تی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہم ٹیکنیکل سٹاف کی بھرتیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہو ئے ہیں ۔اس کے علاوہ عوام کی سہولت کیلئے ایمبولینس سروس اور 1122کی طرز پر ریسکیو سروس بھی شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔اور جلد اس پر کام کاآغاز ہو گا ۔اس کے علاوہ جی بی میں ہر مستحق خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی جا ئے گی اور یہ دس لاکھ روپے تک ہو گی ۔ اسکردو میں 250 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کے لئے 1.20 ارب روپے ، اور گلگت میں 50 بستروں پر کارڈیالوجی ہسپتال کی تعمیر کے لئے 1.10 ارب روپے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
وائس آف پاکستان : عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے کیا کام ہو رہا ہے ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : عبوری آئینی صوبہ کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاق میں بھی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ،قانون سازی کے کام کے لئے مرکز اور جی بی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ جس کی دو تین میٹنگ ہو چکی ہیں ۔پہلے چھ مہینوں میں ، ہم عوام کے حامی بجٹ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ہم نے یہ کیا ہے اور ہماری اگلی توجہ صوبائی حیثیت حاصل کرنے کے لئے قانون سازی کے کام کو تیزکرنے کی طرف ہے۔ مجھے امید ہے کہ جی بی کو اس سال صوبائی حیثیت ملے گی کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صفحے پر ہیں اور پارلیمنٹ سے منظوری کا امکان ہے۔کیونکہ یہ کسی ایک پارٹی کی بات نہیں اور نہ ہی سیاست کرنے کی بات ہے بلکہ یہ مضبوط پاکستان کی بات ہے ،گلگت بلتستان کی مضبوطی پاکستان کی مضبوطی ہے یہاں کے عوام کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے ۔صحت کے بعد ہماری دوسری ترجیح تعلیم ہے ، ہماری حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے 484.5 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ اس شعبے کو بہتر بنانے کے لئے بہت ساری نئی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ ، محکمہ تعلیم میں 7000 سے زیادہ خالی آسامیوں کو پر کیا جارہا ہے،ماضی میں اس طرف بالکل بھی تو جہ نہیں دی گئی ۔حالانکہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،تعلیم یافتہ قومیں ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں ۔
وائس آف پاکستان : گلگت بلتستان کو اللہ پاک نے قدرتی حسن سے نوازا ہے ،سیاحت یہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے سیاحت کے فروغ اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے آپ کی حکمت عملی کیا ہے ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : قراقرم ہائی وے کی بہتری سے سیاحوں کیلئے آسانی ہو گی ۔قراقرم ہائی وے سڑک کے بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔اس کے علاو کونڈاس ، گلگت سے نلتر ایئر فورس بیس تک سڑک کو اپ گریڈ کرنے کے لئے 1 ارب 25 کروڑ روپے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔رہائش اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے ماسٹر اور ٹائون پلانرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کی ہماری بہت سی کوششیں ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے گلگت بلتستان میں ترقی کا انقلاب آئے گا ۔اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ لاہور سمیت مختلف شہروں سے براہ راست جی بی پروازوں کا آغازہو سکے ۔ سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کو قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لئے کھلا رکھنے کے لئے جی بی میں ویکسینیشن کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔جی بی کی ثقافت بہت مالدار ہے اور ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔داریل نگرس ایکسپریس وے پر 700 ملین روپے اور نگر ہائی وے کے لئے 500 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ ایک بار مکمل ہونے والے یہ منصوبے جی بی اور قومی معیشت میں گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ ان شاہراہوں کی تکمیل کے ساتھ ہی سیاح نئے علاقوں کی تلاش کر سکیں گے ، جو اب تک سیاحوں کی پہنچ سے دور تھے ۔

وائس آف پاکستان : گلگت بلتستان میں لوڈ شیڈنگ سے عوام تنگ نظر آ رہے ہیں اور سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اس کے تدارک کے لئے آپکی کیا پلاننگ ہے ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : موجودہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہم نے بجلی کے شعبے میں 94 منصوبوں کے لئے 16 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ گذشتہ حکومتوں کے دور حکومت میں بجلی کا شعبہ سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے عوام کو یہاںسردیوں میں 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔وفاقی حکومت کی حمایت سے ، ہنزہ میں 20 میگاواٹ کے پن بجلی منصوبے کے لئے 2،50 ارب روپے ، سکارڈو کے شگرتھنگ میں ایک پن بجلی منصوبے کے لئے 180 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں ، چھانس ، چلاس میں ایک ہی منصوبے کے لئے 1 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد۔ نلتر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے 46 ارب ، اور گلگت میں علاقائی گرڈ اسٹیشن کے مرحلے کے لئے 1.52 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ ایک بار مکمل ہونے والے منصوبے جی بی میں لوگوں کے لئے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو نگے۔
وائس آف پاکستان : بلدیاتی انتخابات کے لئے جی بی کا کیا منصوبہ ہے؟کیا بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو گا ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : جیسے ہی جی بی کو صوبہ کا درجہ مل جائے گا ، ہماری حکومت بلدیاتی انتخابات کرائے گی۔ اقتدار کو لوکل سطح تک اور عام عوام میں اقتدار کی منتقلی وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے اور ہم اس وژن کی پاسداری کریں گے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 2021 کے آخر تک منعقد کئے جا سکیں گے۔
وائس آف پاکستان : اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا جمہوریت کا حسن ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
بیرسٹرخالد خورشید خان : :ہماری اپوزیشن سے کوئی لڑائی نہیں ہماری لڑائی کرپشن سے ہے ملک کو کرپشن سے پاک کرنا اور بلاتفریق احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا ہے ،ملک میں میرٹ کو عام کرنا ،کرپشن ایک ناسور ہے اور ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ہمیں اگر اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں اپنے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا ،۔ہماری جنگ جہالت سے ہے ،ہم اپنے ملک کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں اور اپوزیشن اگر ہہمارے ساتھ چلے گی تو ہم اپوزیشن کو ویلکم کہیں گے ۔کرپشن فری گورننس سسٹم ہماری ترجیح ہے اور حکومت جلد ہی انسداد بدعنوانی مہم شروع کرے گی۔ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہمارا اگلا ہدف حاصل کرنا ہے۔