Official Website

توہین عدالت کیس میں ڈرامائی موڑ، رانا شمیم نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی

10

اسلام آباد: ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق رانا شمیم نے معافی نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج کا نام بیان حلفی میں لکھنا تھا، غلط فہمی کی بنا پر اس وقت کے سینئر جج کی جگہ ہائیکورٹ کے موجود حاضر جج کا نام لکھ دیا، لان میں چائے پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کے دوران اُن کے منہ سے سینئر پیونی جج کے الفاظ بار بار سنے۔

رانا شمیم نے مؤقف اختیار کیا کہ بیان حلفی 3 سال بعد 72 سال کی عمر میں ذہنی دباؤ میں لکھا، غلطی پر گہرا دکھ ہے اور عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔

رانا شمیم نے جواب میں مزید تحریر کیا کہ عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، جب سے پروسیڈنگز شروع ہوئی ہیں تب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہا ہوں۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان نے لکھا کہ میری غلط فہمی کی بنا پر جو صورت حال پیدا ہوئی شروع دن سے اس کا اظہار کرتا آرہا ہوں، اس عدالت کا کوئی حاضر سروس جج اس تنازع میں شامل نہیں، اپنی غلط فہمی پر اس عدالت کے تمام حاضر سروس ججز سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔

رانا شمیم نے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ مؤدبانہ درخواست ہے کہ میری معافی قبول کی جائے، رانا شمیم نے اپنے وکیل عبداللطیف آفریدی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریری معافی نامہ جمع کرا دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس عدالت کا توہین عدالت کے حوالے قانون طے ہے، ججز کے فیصلوں پر آپ بے شک تنقید کریں، آپ کو توہین عدالت میں نہیں بلائیں گے، یہ عدالت ان (رانا شمیم) کو مزید وقت دے سکتی ہے کہ بیان حلفی جمع کرائیں، جو اتنا بڑا الزام اس عدالت پر لگایا گیا، عدالت اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔

اطہر من اللہ نے کہا کہ اس عدالت کا پٹیشنر پر کوئی دباؤ نہیں، تسلی سے سوچ کر بیان حلفی جمع کرائیں، یہ عدالت آپ کو ایک ہفتے کا وقت دیتی ہے، توہین عدالت کی پروسیڈنگ ہے اس کی حساسیت کو عدالت سمجھتی ہے، بیان حلفی پر قائم رہنا اور معافی دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم کو ایک اور بیان حلفی جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔