Official Website

‘دوست مزاری رولنگ کیس، سیاسی جماعتوں کے ردعمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا’

7

اسلام آباد:  چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ مارچ 2022 میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے سیاسی مقدمات عدالتوں میں آئے، دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا اس کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی معاملات میں عمومی طور پر مداخلت نہیں کرتے لیکن لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ایسے مقامات بھی سننے پڑتے ہیں، مارچ 2022 سے ہونے والے سیاسی واقعات کی وجہ سے سیاسی مقدمات عدالتوں میں آئے ہیں۔

عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا، پانچ دن سماعت کرکے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا، سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا فیصلہ بھی 3 دن میں سنایا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا، سیاسی جماعتوں کے سخت رد عمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آگاہ ہیں ملک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے، ملک میں اس وقت بدترین سیلاب کا بھی سامنا ہے، سیلاب متاثرین کیلئے ججز نے 3 دن اور عدالتی ملازمین نے دو دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔