Official Website

امریکا نے افغانستان کے منجمد اربوں ڈالرز ایک نئے فنڈ میں منتقل کردیے

18

امریکا کی جانب سے سوئٹزرلینڈ اور افغان معاشی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک نئے فنڈ کو قائم کیا گیا ہے جس کو افغانستان کے معاشی استحکام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس فنڈ میں وہ اربوں ڈالرز منتقل کیے جائیں گے جو افغانستان کی ملکیت ہیں مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان اثاثوں کو منجمد کردیا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق ساڑھے3 ارب ڈالرکےافغان اثاثےسوئٹزلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں منتقل کیے جائیں گے۔

حکام نے بتایا کہ اس نئے افغان فنڈ میں منتقل کی جانے والی رقم کو فوری طور پر جاری نہیں کیا جائے گا کیونکہ افغانستان میں کوئی ایسا قابل اعتماد ادارہ موجود نہیں جو اس بات کی ضمانت دے سکے کہ یہ فنڈز افغان عوام کی بہبود کے لیے استعمال ہوں گے۔

حکام کے مطابق فنڈ میں موجود ساڑھے3 ارب ڈالر افغان معیشت کی بحالی کے لیے استعمال ہوں گے، مگر افغان مرکزی بینک تک اس رقم کی رسائی کا انحصار 2 عناصر پر ہوگا، ایک بینک کی ذمہ دار انتظامیہ اور دوسری اس بات کی ضمانت کے فنڈز کو دہشتگردوں یا جرائم پیشہ افراد کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ سیاسی مداخلت کےخاتمے تک کوئی رقم افغان مرکزی بینک کو منتقل نہیں کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کےزیراثر افغان مرکزی بینک میں اثاثوں کی منتقلی ناقابل قبول خطرہ ہے، تو مرکزی بینک کو سیاسی اثر رسوخ اور مداخلت سے آزادی کا اظہار کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بینک کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو سرمائے کی فراہمی کے خلاف کارروائی کا اہل ہے۔

سوئٹزرلینڈمیں نیا افغان ٹرسٹ فنڈ امریکا،سوئٹزرلینڈ اور طالبان کےدرمیان بات چیت کےبعد قائم ہواہے اور اس حوالے سے شرائط سے آگاہ کرنے کے لیے ایک خط افغان مرکزی بینک کو امریکی حکام نے ارسال کیا ہے۔