Official Website

عالمی حدت کا پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں کتنا کردار ہے؟ سائنسدانوں کی رپورٹ جاری

11

بین الاقوامی موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں میں انسانی سرگرمیوں کا کردار خارج از امکان نہیں ہے۔

ورلڈ ویدر آٹریبیوشن گروپ میں کلائمیٹ ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعتی دور کی انسانی سرگرمیوں نے عالمی حرارات کو 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھایا۔

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تغیر نے سندھ اور بلوچستان کے لیے 5 روزہ مجموعی بارش کو 50 فیصد تک بڑھایا، موجودہ موسمی حالات میں کسی بھی سال اس طرح کے واقعات ہونےکا ایک فیصد امکان تھا، انسان کے پیدا کردہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کے بغیر ایسے واقعات کا امکان کم ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 1400 افراد ہلاک اور 3 کروڑ30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ ایک کروڑ 70 لاکھ گھر تباہ ہوئے اور بڑے پیمانے پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شدید متاثرہ علاقوں میں حالیہ دہائیوں میں 75 فیصد تک زیادہ بارشیں ہوئیں، سندھ اور بلوچستان میں ریکارڈ سطح کی بارشوں کی ممکنہ وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں، اس کا مطلب ہے موسمیاتی تغیر نےشدید بارشوں کے امکان کو بڑھا دیا، تاریخی طور پر پاکستان میں مون سون بارشوں میں بڑے تغیرات ہیں۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں کہ انسانی کی پیدا کردہ حرارت نے 60 روزہ مجموعی بارش میں کتنا حصہ ڈالا ہے، پاکستان میں وہی ہوا جس کا امکان سالوں سے موسمیاتی پیش گوئیوں میں ظاہر کیا جا رہا تھا، یہ تاریخی ریکارڈ سے بھی مطابقت رکھتا ہےکہ جب سے انسان نے بڑے پیمانے پر زہریلےگیسز کا اخراج شروع کیا خطے میں شدید بارشوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔

عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق دنیا میں موسم سے متعلق سانحات 50 سالوں کے دوران 5 گنا بڑھے، موسمی سانحات میں اوسطاً روزانہ 115 اموات ہوتی ہیں۔

اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے مرکز کے محقق فہد سعید کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ سیلاب نے ظاہر کیا کہ امیر ممالک کو فنڈز میں اضافہ کرنا چاہیے، اس سے دوسروں کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ کرنے میں مدد مل سکے گی، پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک سے بھی کہنا چاہیےکہ وہ ذمہ داری قبول کریں۔

فہد سعید کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ممالک اور آبادیوں کو موافقت کے علاوہ نقصانات کا ازالہ بھی کریں۔

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نومبر میں کوپ27 کے سربراہ اجلاس کی تیاریاں کی جاری ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ممالک کا مطالبہ ہےکہ امیر اور تاریخی آلودگی والے ممالک نقصانات کی تلافی کریں۔