Official Website

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی فنڈنگ تفصیلات میں کروڑوں روپوں کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف

43

اسلام آباد:
تحریک انصاف کی جائزہ رپورٹ میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی فنڈنگ میں کروڑوں روپے مالیت کی ڈونیشن کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

وائس آف پاکستان کے مطابق الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی فنڈنگ تفصیلات میں مبینہ اکاؤنٹس کی موجودگی پر نیا پنڈورا بکس کھلنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ تفصیلات میں اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں، تحریک انصاف آئندہ ہفتے اپنے اعتراضات الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کو جمع کرائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی فنڈنگ تفصیلات کے حوالے سے پی ٹی آئی اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں کروڑوں روپے مالیت کی ڈونیشن کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کس نے چندہ دیا کس نے امداد دی، بڑی اہم رقوم کا ریکارڈ ہی نہیں ہے، مسلم لیگ ن کے 9 اکاؤنٹس میں سے 7 اکاؤنٹس کی بینک اکاؤنٹس کی بینک اسٹیٹمنٹ نہیں دی گئی۔2013 سے 15 تک پی ٹی ائی آڈیٹرز نے ن لیگ کے مبینہ 7 اکاؤنٹس کی نشاندہی کر دی ہے جو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے، 5 اکاونٹ پنجاب کے پی کے اور سندھ میں چل رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی ائی کے مرتب اعتراضات میں بتایا گیا ہے کہ ن لیگ مبینہ طور پر 45 کروڑ سے زائد کا حساب پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، صرف دو فیصد کا مسلم لیگ ن ریکارڈ پیش کرسکی، الیکشن کے لئے پارٹی ٹکٹ کی مد میں ساڑھے 16 کروڑ کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا۔

پی ٹی ائی جائزہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حنیف خان کے نام سے 45 کروڑ اور بھون داس سے 3 کروڑ کی رقم لی گئی، اس رقم کا ریکارڈ بھی پیش نہ کیا جاسکا، مسلم لیگ ن کو 2013 سے 2015 کے 3 سالوں میں 46 کروڑ کے عطیات آئے، ایک کروڑ 65 لاکھ کے اخراجات کا کوئی حساب نہ دیا جاسکا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلیمٹیرین کے ایک دوسرے کو رقوم منتقل کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس میں 10 کروڑ روپے کے قریب پی پی پی پارلیمنٹرین نے پیپلز پارٹی کو خلاف ضابطہ دئیے، پیپلز پارٹی کا 35 کروڑ عطیات کا تصدیق شدہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، 2013 میں 9 ، 2014 میں 11، 2015 میں 10 اکاؤنٹس کی پیپلز پارٹی نے بینک اسٹیٹمنٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی۔