Official Website

گلگت بلتستان میںترقیاتی منصوبوں سے معاشی انقلاب آئے گا

آبشاروں اور قلعوں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی معروف ادبی شخصیت اور گلگت بلتستان کے سپیکر امجد علی زیدی سے روزنامہ ''وائس آف پاکستان '' کا خصوصی انٹرویو

15

گلگت بلتستان میںترقیاتی منصوبوں سے معاشی انقلاب آئے گا
آبشاروں اور قلعوں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی معروف ادبی شخصیت اور گلگت بلتستان کے سپیکر امجد علی زیدی سے روزنامہ ”وائس آف پاکستان ” کا خصوصی انٹرویو

شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
گلگت بلتستان زمین پر ایسا خوبصورت ٹکڑا ہے جسے دیکھنے پر جنت کا گماں ہو تا ہے ،ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے گلگت کے دس اضلاع ہیں اور ہر ضلع دوسرے سے بڑھ کر خوبصورت ہے ،ضلع کھرمنگ گلگت بلتستان کا ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے،کھرمنگ کو آبشاروں اور قلعوں کی سرزمین کہا جا تا ہے ۔اسی خوبصورت دھرتی کے سپوت سید امجد علی زیدی نے گذشتہ سال بطور سپیکر گلگت بلتستان اپنے عہدے کا حلف لیا تھا ۔سید امجد علی زیدی قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے خوبصورت اسلوب کے شاعر بھی ہیں ،لکھنے لکھانے سے شغف رکھتے ہیں ۔گلگت بلتستان کی معروف ادبی شخصیت ہیں ،شعر و شاعری سے بہت زیادہ لگائو رکھتے ہیں ۔تعلیم کی اہمیت سے بہتر واقف ہیں اسی لئے اپنے علاقے کو تعلیم یافتہ ضلع بنانے میں سرگرم عمل رہتے ہیں ۔گذشتہ ہفتے گلوبل میڈیا ایسوسی ایشن کے صحافیوں پر مشتمل وفد نے گلگت بلتستان کا وزٹ کیا ،جس کا مقصد بطور مبصر گلگت کے بجٹ کو دیکھنا اور سیاحت پر رپورٹس بنانا تھا اسی وزٹ کے دوران سپیکرگلگت بلتستان سید امجد علی زیدی سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا گیا۔جو قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہے ۔
وائس آف پاکستان : آپ کی حکومت کی اولین ترجیحات کیا ہیں ؟اورآپ کیاسمجھتے ہیں کہ کیا چیلنجز درپیش ہو نگے ؟
سید امجد علی زیدی :پاکستان تحریک انصاف عام عوام کی پارٹی ہے ،پاکستان تحریک انصاف کی اولین ترجیح عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہے اور میں سمجھتا ہو ں کہ گلگت بلتستان کے عوام کی بھی پہلی ضرورت صحت اور پھر تعلیم ہے ۔عمران خان کے ویژن کو سامنے رکھتے ہو ئے ہم گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے میں بہت سے کام کرنے جا رہے ہیں ۔یہاں پر پاکستان تحریک انصاف سے پہلے جن پارٹیوں کی حکومت رہی انہوں نے عوام کی صحت کو قابل ترجیح نہیں سمجھا اور نہ ہی صحت کے کوئی بڑے منصوبے شروع کئے ۔آپ یہ سن کر حیران ہونگی کہ کہ جی بی کے دس اضلاع میںسے کسی ایک میں بھی آئی سی یو کی سہولت میسر نہیں ،عوام کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا شائد گذشتہ حکومتوں کو ادراک بھی نہیں ،ہماری حکومت چونکہ صحت کو ترجیح دیتی ہے تو یہی وجہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں محکمہ صحت کی 97 سکیموں کے لئے 4.15 بلین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں ۔اب ہم اپنے تمام اضلاع میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) کی سہولت قائم کرنے جا رہے ہیں ۔ چار اضلاع میں او پی ڈی آپریشنل کر دئیے ہیں اور باقی اضلاع میں بھی جلد ہی یہ آپریشنل ہو جا ئیں گے ۔جہاں تک آپ نے چیلنجز کی بات کی تو چیلنجز تو بہت زیادہ ہیں ۔۔محکمہ صحت میں 4000 سے زیادہ آسامیاں خالی ہیںاور ان پر بھرتیوں کی ضرورت ہے ، اور ٹیکنیکل سٹاف کی کمی ہاسپٹلز کی کارکردگی پر اثراانداز ہو تی ہے ۔ جب سے ہماری حکومت نے چارج سنبھالا ہے ،تب سے ہماری حکومت نے ہیلتھ کیئر یونٹوں میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی بھرتی کا منصوبہ بنایا ہے تا کہ جی بی کے عوام کو روزگاربھی ملے اور صحت کی بہتر سہولیات بھی فراہم ہوں ۔ اسکے علاوہ ہم نے میڈیکل کالج اور تربیتی اداروں کے قیام کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق جی بی میں ہر مستحق خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی جا ئے گی اور یہ دس لاکھ روپے تک ہو گی ۔ اسکردو میں 250 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر اور گلگت میں 50 بستروں پر کارڈیالوجی ہسپتال کی تعمیر بھی ہماری حکومت کی ترجیح ہو گی ۔صحت کے بعد ہماری دوسری ترجیح تعلیم ہے ، ہماری حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے 484.5 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ اس شعبے کو بہتر بنانے کے لئے بہت ساری نئی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جارہی ہیںاور یہاں بھی ہمارے سامنے چیلنجز ہیں کہ محکمہ تعلیم کی بہتر کاکارکردگی کیلئے خالی آسامیاں پر کی جا ئیں ۔کیونکہ محکمہ تعلیم میں 7000 سے زیادہ آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔

وائس آف پاکستان : عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے کیا کام ہو رہا ہے ؟
سید امجد علی زیدی :عبوری آئینی صوبہ کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاق میں بھی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ،قانون سازی کے کام کے لئے مرکز اور جی بی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ جس کی دو تین میٹنگ ہو چکی ہیں ۔وہ عبوری سیٹ اپ کے خدوخال کا جائزہ لے رہی ہے ۔ہماری ساری توجہ صوبائی حیثیت حاصل کرنے کے لئے قانون سازی کے کام کی طرف ہے۔ ہمیںامید بھی ہے اور توقع بھی کہ جی بی کو اس سال صوبائی حیثیت مل جائے گی کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صفحے پر ہیں اور پارلیمنٹ سے منظوری کا امکان ہے۔کیونکہ گلگت بلتستان کے عبوری سیٹ اپ سے عوام کی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے ۔اور گلگت بلتستان کی تمام پارٹیاں جی بی کے عبوری سیٹ اپ کے حق میں ہیں اسلیے توقع ہے کہ جلد ہی یہ کام مکمل ہو جا ئے گا ۔

وائس آف پاکستان : گلگت بلتستان کو اللہ پاک نے قدرتی حسن سے نوازا ہے ،سیاحت یہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے سیاحت کے فروغ اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے آپ کی حکمت عملی کیا ہے ؟
سید امجد علی زیدی : گلگت بلتستان زمین پر جنت ہے ،یہاں بہت سے وسائل ہیں جن کے استعمال سے معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے ۔ ہمارا فوکس سیاحت ہے انفراسٹرکچر کی بہتر ی سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے سہولیات پیدا کرنا ، سیاحوں کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہمارا مشن ہے ۔کرونا وبا کی دنوں میں سیاحت بہت متاثر ہو ئی لیکن شکر الحمداللہ اب حالات بہتر ہیں ۔اور سیاحت کا دوبارہ سے آغاز ہوگیا ہے ۔بہت سے زیر تکمیل منصوبے سیاحت کے فروغ میں معاون ثابت ہو نگے ۔ قراقرم ہائی وے کی بہتری سے سیاحوں کیلئے آسانی ہو گی ۔قراقرم ہائی وے سڑک کے بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔اس کے علاو کونڈاس ، گلگت سے نلتر ایئر فورس بیس تک سڑک کو اپ گریڈ کرنے کے لئے 1 ارب 25 کروڑ روپے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔رہائش اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے ماسٹر اور ٹائون پلانرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کی ہماری بہت سی کوششیں ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے گلگت بلتستان میں ترقی کا انقلاب آئے گا ۔اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ لاہور سمیت مختلف شہروں سے براہ راست جی بی پروازوں کا آغازہو سکے ۔ سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کو قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لئے کھلا رکھنے کے لئے جی بی میں ویکسینیشن کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔جی بی کی ثقافت بہت مالدار ہے اور ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔داریل نگر ایکسپریس وے پر 700 ملین روپے اور نگر ہائی وے کے لئے 500 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ ایک بار مکمل ہونے والے یہ منصوبے جی بی اور قومی معیشت میں گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ ان شاہراہوں کی تکمیل کے ساتھ سیاحت کو فروغ ملے گا اور سیاحوں کو سیاحت کیلئے نئے اور خوبصورت نظاروں والے علاقے میسر آئیں گے ۔
وائس آف پاکستان:کارگل سکردو روڈ کے حق میں آپ نے اکثر بات کی گذشتہ دنوں اس روڈ کے حق میں کچھ مظاہرے بھی گلگت میں ہوئے اور تعمیر میں تاخیر پر احتجاج بھی کیا گیا آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں ؟
سید امجد علی زیدی :یہ ہماری عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اور میں اس مطالبے کی حمائت کرتا ہو ں ۔کرگل روڈ کھلنا چاہیے کیونکہ کارگل سکردو روڈاس لئے بھی اہم ہے کہ دو منقسم خاندان ان علاقوں کے اطراف میں رہتے ہیں ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں ان کے آپس میں روابط کیلئے ضروری ہے کہ کرتار پور ہ طرز کی ایک راہداری بنا دی جا ئے تاکہ ان علاقوں کے رہائشی لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں ۔جس طرح سے کرتا ر پورہ والوں کا مطالبہ سنا گیا اور پھر اسے تسلیم کیا گیا اس لئے کرگل لداغ کا بھی مطالبہ سنا جائے ،لیکن اس حوالے سے میں پہلے بھی ایک بات کہہ چکا ہوں اور آپ کے اخبار کے توسط سے ایک بار پھر یہ کہنا چاہتا ہوں اگر قومی سلامتی ہمیں پہلے عزیز ہے ،اگر ریاست کو درست لگتا ہے اور قومی سلامتی کا کوئی ایشو نہیں تو یہ راہداری بنائی جا ئے ۔لیکن اگر اس راہداری سے قومی سلامتی پر کوئی حرف آتا ہے تو ہمیں ریاست پہلے عزیز ہے باقی سب اس کے بعد کی باتیں ہیں ۔اگرچہ میرا اپنا خاندان کارگل میں بستا ہے ۔لیکن اس کے باوجود میں ریاست کو ہر بات پر ترجیح دیتا ہوں ۔اور سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے احتجاج کرنا مناسب نہیں ۔
وائس آف پاکستان:آپ اپنے حلقے کے حوالے سے کیا بہتری لانے کاپلان رکھتے ہیں ؟
سید امجد علی زیدی :کھرمنگ ایک بہت خوبصورت علاقہ ہے ،تاریخی اعتبار سے بھی اپنے اندر بہت کشش رکھتا ہے اور قدرتی آبشاروں کی عمت سے بھی مالال ہے ۔سیاحت کے فروغ کے لئے ان علاقوں میں انفراسکٹرکچر بہتر کرنا اولین ترجیح ہے تاکہ سیاحوں کو اس طرف راغب کیا جا ئے ۔خاموش آبشار ،منٹوخ آبشار ،منٹھوکھا جھیل سیاحوں کو مسحور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔معلومات کی کمی کی وجہ سے اس مقام تک بہت کم سیاح پہنچ پاتے ہیں ۔میری کوشش ہے کہ گلگت کے دوسرے سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ کھرمنگ کے سیاحتی مقامات کی ترویج کی جا ئے اور سیاحوں کو اس طرف راغب کیا جا ئے ۔یہ ایک سرسزو شاداب علاقہ ہے ،یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے اور کھرمنگ کا مشہور پھل سیب ہے اور یہاں سیب کی بہت سی اقسام پائی جا تی ہیں ،ان کو منڈیوں تک پہنچانا اور مقامی لوگوں کو معاشی طور پر مضبوط کرنا میرا عزم ہے ،
وائس آف پاکستان:پاکستان تحریک انصاف کا عزم کرپشن اور بدعوانی کا ختمہ رہا ہے ،گلگت بلتستان میں کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے کیا کام ہو رہا ہے ۔
سید امجد علی زیدی :کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ،بدعنوانی نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں ۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنا اور بلاتفریق احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا ہماری پارٹی کا عزم ہے ،ملک میں میرٹ کو عام کرنا ہماری حکومت کا عزم ہے ،تاکہ ہم نئی نسل کو میرٹ پر جاب دیں ،ان کو سہولیات دیں۔کرپشن ایک ناسور ہے اس کا خاتمہ ضروری ہے ۔ ہمیں اگر اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں اپنے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا ،۔ہم اپنے ملک کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں ۔گلگت بلتستان میں کرپشن فری گورننس سسٹم ہماری ترجیح ہے اور حکومت جلد ہی انسداد بدعنوانی مہم شروع کرے گی۔
وائس آف پاکستان : آپ قلم قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں آپ ایک ادبی تنظیم کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں ۔شاعر و ادیب حساس دل ہو تے ہیں ،سیاست بہت بے رحم ،آپ کیاکہتے ہیں ؟
سید امجد علی زیدی : شاعری کو سیاست سے پہلا درجہ دیتا ہوں ،شاعری روح کی غذا ہے ،میں خدمت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں ،اور ہمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے ۔روحانی تسکین کیلئے دو زرائع ہیں میرے پاس ،ایک شاعری اور دوسرا اپنے لوگوں کی خدمت ۔میں اپنے علاقے کی فعال ترین تنظیم کا جنرل سیکرٹر ی ہوں ،اس تنظیم کے تحت نیشنل اور انٹرنیشنل مشاعروں کا انعقاد کیا جا تا ہے ،گلگت بلتستان مختلف زبانوں ،مختلف رسم و رواج اور کلچر رکھتا ہے یہاں مختلف زبانوں کا گلدستہ ہے ،اور ہر زبان میں طبع آزمائی کی جا تی ہے ،یہ سرزمین بہت زرخیز ہے ہم اس کلچر کو پاکستان کے دیگر علاقوں سمیت انٹرنیشنل لیول پر متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ادب کی ترویج مں لگا رہتا ہوں ،اس حوالے سے اکادمی ادبیات اسلام آباد کے چئیرمین یوسف خشک سے ملاقات کی تاکہ اکادمی کا ایک آفس گلگت میں بھی ہو نا چاہیے ،تاکہ یہاں پر بھی روٹین میں مشاعروں کا انعقاد ہو ،اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو ۔جہاں تک سیاست کی بے رحمی کی بات ہے تو ہم علامہ اقبال کے بتائے راستے پر چل رہے ہیں انہوں نے شاعری سے اس قوم کو بیدار کیا ہم بھی اپنی شاعری کے ذریعے سے قوم کو شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاست سے عوام کی خدمت ہی ترجیح ہے۔
ماضی نثار ہو گیا مقتل میں حال پر
ماتم کناں عروج ہے وقت زوال پر
ناکامیوں کی اوٹ میں ڈوبا ہوا آفتاب
جسکو بہت غرور تھا اپنے کمال پر
عمر دراز چاہیے اس کار خیر کو
خدمت محیط رہتی ہے کب ماہ و سال پر
وائس آف پاکستان: بہت خوبصورت کلام لکھتے ہیں تو کتابیں کیوں پرنٹ نہیں کیں ؟
سید امجد علی زیدی :ادب کی ترویج میری خواہش ہے ،نئی نسل کتابوں سے جڑی رہے ،اس لئے ادبی تنظیم چلا رہے ہیں ۔کتابوں سے تعلق جتنا مضبوط ہو ،اتنی ہی ترقی کی منازل طے ہو تی ہیں ،لکھنا میرا شوق ہے میرے پاس نو کتابوں کا مواد موجود ہے ،لیکن اس سے پہلے میں اپنے شہید بھائی کی کتابیں پرنٹ کرائیوں گا وہ بہت اچھا لکھنے والے تھے ،میرے لئے وہ رول ماڈل تھے ،بہت اچھے ذاکر تھے ،بس فرقہ واریت کی نذر ہو گئے اور شہید کر دئیے گئے ۔ان کی کتابوں کی پرنٹنگ کے بعد اپنی کتابیں پرنٹ کروائوں گا ۔
وائس آف پاکستان : اپوزیشن والے اکثر آپکی شاعری پر ناراض ہو جا تے ہیں ؟
سید امجد علی زیدی : میری شاعری پر اپوزیشن والے سمجھتے ہیں کہ میں شاعری کے ذریعے ان پر طنز کرتا ہوں ،حالانکہ ایسی بات نہیں ہوتی ،میں سپیکر ہو ں اور شاعر بھی ۔ اندر کا شاعر جاگ اٹھتا ہے ۔شاعری کو ہمیشہ مثبت پیرائے میں لینا چاہیے ۔
وائس آف پاکستان: آپ عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
سید امجد علی زیدی : میں عام لوگوں کو کہوں گا کہ وہ کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنا سیکھ لیں ،تعمیری اختلاف رکھیں ،اچھے جذبے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں ،اور سیاست کرنے والوں کو کہوں گا کہ اقتدار اور کرسی سدا کسی کی نہیں رہی ،عروج کو زوال ہے اس لئے اپنے کام کو اخلاص سے سرانجام دیں ،اقتدار پر غرور نہ کریں اپنے لوگوںکو نہ بھولیں ۔اور اپنی ذات کو ہمیشہ یاد کراتا رہتا ہوں کہ مجھ پر اللہ پاک اور اپنے لوگوں نے بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے دعا ہے کہ اس کو اچھی طرح نبھا سکوں اور اپنے لوگوں اور گلگت بلتستان کی ترقی میں اللہ مجھ ناچیز سے کوئی اچھا کام لے لے