Official Website

مجھے پاکستان کی عدلیہ سے جنگ نہیں لڑنی، عمران خان

8

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے جس سے جنگ نہیں لڑنی، وہ پاکستان کی عدلیہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں مافیاؤں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں اور مجھے جس سے جنگ نہیں لڑنی، وہ پاکستان کی عدلیہ ہے۔

قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ میری 26 سال کی کوشش رول آف لا کی ہے۔ میرے سوا جلسوں میں رول آف لا کی کوئی بات نہیں کرتا۔

سماعت سے قبل عدالت پہنچنے پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ عدالت سے معافی مانگیں گے، جس پر عمران خان نے کہا دیکھیں گے۔ ایک صحافی نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ مشروط یا غیر مشروط معافی مانگیں گے، تو عمران خان نے جواب دیا کہ آپ کو پتا چل جائے گا۔ صحافی نے عمران خان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کی عدالتوں سے جان کب چھوٹے گی؟ تو عمران خان کا کہنا تھا کہ ابھی تو نہیں چھوٹنے لگی۔

واضح رہے کہ خاتون جج کو دھمکی پر توہین عدالت کیس  میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اُن پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نے عدالت میں اپنے بیان پر معافی مانگ لی، جس کے بعد عدالت نے توہین عدالت کی کارروائی مؤخر کردی۔