Official Website

دنیا کا آٹھواں عجوبہ…قراقرم ہائی وے

103

ایک زندگی کھو گئی سڑک کے ہر کلومیٹرپر
دنیا کا آٹھواں عجوبہ…قراقرم ہائی وے
اس شاہراہ کا قیام بہت سی قربانیوں کی وجہ سے تکمیل کے مراحل طے کرسکا ہے
یہ شاہراہ پاک چین دوستی کی علامت ہے اور اسے فرینڈشپ ہائی وے بھی کہا جاتا ہے
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے افسران کی جدوجہد پر مشتمل خصوصی تحریر

ترتیب و اہتمام: شکیلہ جلیل
شاہراہ قراقرم کو قومی شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک 1,300 کلومیٹر (810 میل) قومی شاہراہ ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حسن ابدال سے گلگت بلتستان کے درہ خنجراب تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں سے یہ چین میں جا کر چین کی 314 ویں نیشنل ہائی وے بن جاتی ہے۔ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ شاہراہ پاک چین دوستی کی علامت ہے اور اسے فرینڈشپ ہائی وے بھی کہا جاتا ہے۔یہ شاہراہ دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں سے ایک ہے، جو قراقرم پہاڑی سلسلے سے گزرتی ہے جو خنجراب پاس کے قریب 4,714 میٹر (15,466 فٹ) کی زیادہ سے زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ یہ شاہراہ کی تعمیر 1959 میں شروع ہوئی اور 1979 میں مکمل ہوئی جسکے بعد اس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ پاکستانی جانب سے یہ سڑک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن( FWO ) نے تعمیر کی، جس میں پاکستان آرمی کور آف انجینئرز کی خدمات شامل ہیں۔ قراقرم ہائی وے گلگت بلتستان، کشمیر اور سنکیانگ چین کی کئی چوٹیوں کی تقریبا تمام چوٹیوں کے لیے مہمات کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس خطے میں دنیا کے کچھ بڑے گلیشیئرز جیسے بالتورو اور سیاچن گلیشیئرز شامل ہیں۔ اس شاہراہ کا قیام بہت سی قربانیوں کی وجہ سے تکمیل کے مراحل طے کرسکا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مشہور کہاوت ”ایک زندگی کھو گئی سڑک کے ہر کلومیٹرپر” وجود میں آئی۔ ہائی وے کی تعمیر کے دوران 567 فوجی دستے (11 افسران سمیت)اور 246 عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 980 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ اموات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ اس تاریخی منصوبے کی تعمیر اور تکمیل کے مراحل کو ایک دستاویزی فلم ”ویئر مین اینڈ مانٹینز میٹ” آئی ایس پی آر نے ڈیلیریم پروڈکشنز اور ایف ڈبلیو او کے اشتراک سے بنائی ہے۔یہ دستاویزی فلم خاص طور پر ایف ڈبلیو او اور پاکستانی قوم کی بے مثال قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس فلم کے مصنف مستنصر حسین تارڑہیں ،جن کو ستارہ امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمس مل چکا ہے ۔قراقرم ہائے وے کی تعمیر کے مختلف ادوار میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کا حصہ رہنے والے درج ذیل افسران کے تجربات کو بھی دستاویزی فلم میں شامل کیا گیا ہے:- فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ان افسران کی جدوجہد کو وائس آف پاکستان کے قارئین کے لئے خصوصی تحریر کی صورت میں ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے ۔قراقرم ہائے وے کی تعمیر کے مختلف ادوار میں FWO کا حصہ رہنے والے درج ذیل افسران کے تجربات کو بھی دستاویزی فلم میں شامل کیا گیا ہے:-
لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ)جاوید ناصر، ایچ آئی (ایم)، ایس بی ٹی (1966-1969)…….101 انجینئرز بٹالین – کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
میجر جنرل(ریٹائرڈ)صبیح الدین بخاری، ایس آئی، ایچ آئی (ایم(اکتوبر 1970 – اکتوبر 1971)…….173 انجینئرز بٹالین
میجر جنرل (ریٹائرڈ)محمد افسر (1966 – 1968)
پاکستان میں چین کے سفیر مسٹر لی جیان (1967 – 1969)
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اقبال احمد، ایس آئی (ایم)…..107 انجینئرز بٹالین
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ممتاز خالد(جولائی 1969 – اکتوبر 1969)
بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) محمد اربی خان، ایس آئی(ایم1970-1972)……104 انجینئرز بٹالین، پل کنسٹرکشن گروپ
کرنل ((ریٹائرڈ) تنویر احمد(1967-1969)….105 انجینئرز بٹالین
کرنل (ریٹائرڈ) ساجد بشیر شیخ(1969-1971)…..108 انجینئرز بٹالین
میجر (ریٹائرڈ) شاہد عطا اللہ)11 ای سی بی
نائب صوبیدار (ریٹائرڈ) منظور حسین (1969-1971)……108 انجینئرز بٹالین
٭ڈی جی ایف ڈبلیو او کمال اظفر
قراقرم ہائی وئے کو غیرسرکاری طور پردنیا کا آٹھواں عجوبہ کہتے ہیں۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں بنائی جانے والی یہ شاہراہ ہماری قوم، پاک فوج، کور آف انجینئرز کے بہادر سپوتوں کی ہمت، حوصلہ، مہارت اور جستجو اور اپنے ملک و قوم سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ جو ڈاکومنٹری فلم آپ دیکھیں گے اسمیں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو بتاسکیں شاہراہِ قراقرم کیسے بنائی گئی، اسکو بننے میں کیاتکالیف پیش آئیں، کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیا وہ چیلنجز تھے جس سے نبردآزما ہوکر اس عجوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا گیا۔ اس فلم کے توسط سے ہم اپنی قوم، پاک فوج انجینئرز اور خصوصا ایف ڈبلیو او کے جری جوانوں اور افسران کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اس پراجیکٹ کو شرمندہِ تعبیر کیا۔ ہمارا سیلوٹ ہے ان شہیدوں کو جنہوں نے شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
٭٭٭٭٭
٭کرنل (ر) ساجد بشیر شیخ
(1969-1971)
108 انجینئرز بٹالین

میرا نام ساجدبشیر شیخ ہے۔ میں 3 انجینئرز بٹالین میں سکینڈلیفٹیننٹ تھا۔ جب مجھے آفیشیئٹنگ کمانڈ ملی تومیں اس بٹالین کا پہلاکپتان تھا۔ قراقرم ہائی وے کے پورے منصوبے کے دوران کسی اور کو یہ کمانڈ بطورکپتان نہیں ملی۔ وہاں آپ ٹھنڈ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ میں نے سردیوں میں پہلی بار گھٹن محسوس کی جو کہ صرف گرمیوں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔بھارت کو سی پیک کی طرح یہ چیز بھی بالکل پسند نہیں آئی تھی اور آپ جانتے ہیں کہ سی پیک بھی قراقرم ہائی وے سے گزرتا ہے۔میں اپنے جوانوں کو سیلوٹ کرتا ہوں۔میں نے فوج میں ہمیشہ یہی سیکھا ہے کہ جب بھی آپ فلاحی کام کریں گے تو جوان آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوگا۔ میں اپنا دوپہر کا کھانا واپس ہیڈکواٹر میں پہنچ کر نہیں کھاتا تھا بلکہ جہاں وقت ملتااپنے لوگوں کے درمیان انہی پلیٹوں میں دال روٹی کھا لیتا۔ پتھروں کے اوپر بیٹھ کر چائے پینے سے میں اپنے آپ کو انہی جیسا محسوس کرتا تھا۔پہلے تو رہنے کو کوئی جگہ نہیں ہوتی تھی تو جو بھی مہم جاتی لوگ ان کو گھروں میں ٹھہراتے تھے اب وہاں باقاعدہ ہوٹل ہیں جس سے ان کی معیشت کو کافی استحکام ملا ہے۔ آپ ان کی دستکاری کو دیکھیں،دکانیں بھری پڑی ہیں، یہ سب قراقرم ہائی وے کی ہی بدولت ہے کہ وہ اپنی چیزوں کو گلگت بلتستان سے باہر پاکستان کے دوسرے شہروں میں برآمد کر رہے ہیں۔سیاحت کی وجہ سے ان لوگوں کو ایک بڑا معاشی فروغ ملا۔وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے ہمارے لیے یہ فوج اور چینی بھیجے ہیں یہ ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں، ہماری تو نسلیں بدل گئی ہیں۔یہ قراقرم ہائی وے پاک چائنہ فرینڈشپ ہائی وے بھی کہلاتی ہے۔یہ دنیا کی سب سے اونچی بین الاقوامی شاہراہ ہے۔دنیا میں کہیں اورایسی کارپٹڈ ہائی وے موجود نہیں ہے۔
سب سے پہلے وہاں تعینات CO میجر مختارنے دربار بلایا۔دربار سے خطاب کے دوران میجر مختار نے بتایا کہ یہ سڑک صرف ہمارے لئے نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بھی فائدہ مند ہوگی۔ اس کے بعد یونٹ ایک نئے جذبے کے ساتھ شاہراہ قراقرم روانہ ہوئی۔
٭٭٭٭٭
٭میجر جنرل (ر)صبیح الدین بخاری
ایس آئی، ایچ آئی (ایم(اکتوبر 1970 – اکتوبر 1971)173 انجینئرز بٹالین
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشہ لب ِبام ابھی

میرا نام صبیح الدین بخاری ہے اور یہ انٹرویو اس دور کا ہے جب میں اکتوبر 1970سے اکتوبر1971 تک قراقرم ہائی وے پربطورکپتان تعینات تھا۔
اتنے بڑے منصوبے پر ذرائع نقل وحمل Logisticاور انتظامات (Administration)کے مسائل کا ہونالازم تھا۔ لوگوں اوسازوسامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حمل ایک بہت بڑا کام تھا۔
جہاں تک حفاظتی ساز و سامان (Protecting Gear) کی بات ہے تو فوجی کواس کی ضرورت نہیں ہوتی اس کی ضرورت عام شہری کو ہوتی ہے، فوجی تو لڑتا ہی ہاتھوں سے ہے۔آج آپ کے پاس ڈوزر اور ڈرلنگ مشینیں ہیں،ہم نے اس وقت ان کا نام بھی نہیں سنا ہوا تھا۔ہمارے پاس دو تین ہتھیار،جس میں چیزر، ہیمراور روبار شامل تھے انہی سے ہم پتھروں کو توڑتے تھے اور نیچے گراتے تھے۔ مشینری نام کی کوئی چیز ہمارے پاس نہیں تھی،ہم نے یہ سڑک گینتی بیلچے سے شروع کی اورپائلٹ کٹ کیا۔پائلٹ کٹ انداز 14فٹ تھا۔ہم نے 14 فٹ کی روڈ گینتی بیلچوں سے بنائی۔میرا نام میرے کورس کے ساتھیوں نے پی ایم اے سے ہی ہتھوڑا ڈالا ہوا تھا۔ ایک بار میں نے ایک جوان کو یہ کہتے سنا ”کمانڈر ہتھوڑا آرہا ہے سیدھے ہوجا”۔ایک با رخنجراب ٹاپ سے تھوڑا سا پہلے مجھے چالیس سے پچاس مارخوروں کا ریوڑ نظر آیا۔ اگرچہ دوربین سے برف میں ٹھیک طریقے سے نظر نہیں آتا مگر میں نے اپنے آپ کو پھنے خان سمجھتے ہوئے اوپر سے ہوکر ان کو پکڑنے کا سوچا۔ رائفل لے کر جیسے ہی میں نے چڑھنا شروع کیا تو بمشکل پچاس گز میں ہی میرا سانس پھول گیا پھر مجھے اندازہ ہوا کہ میری اوقات کیا ہے۔
کہا جاتا ہے ہر ایک کلومیٹرپر ایک سیپر کی شہادت ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے آپ بہت کم بتا رہے ہیں کیونکہ شہادتیں صرف سیپرز کی ہی نہیں بلکہ ہمارے مقامی مزدوروں نے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
یہ بلکل سچ ہے کہ ہر ایک کلو میٹر پر ایک جان کا نذرانہ پیش کیا گیا ہے۔کسی نے گنتی نہیں کی یہ ایک اندازہ ہے کیونکہ اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ایک وقت میں دو سال ایسے آئے جس میں بہت سی گاڑیوں کو حادثات پیش آئے۔ دھماکوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی شہادتیں بلا شبہ بہت زیادہ ہیں۔اے ایس سی کے ایک کپتان کریم،جو بشام میں فارورڈ سپلائی ڈپو کے انچارج تھے ایک روز مجھے سے ملنے میرے کیمپ آئے، ان کے ساتھ ان کے دو جے سی اوز بھی تھے۔ ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ ہم فارورڈ ڈمپنگ کا جائزہ لینے آگے جارہے ہیں۔ مشکل سے دو تین گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے اطلاع ملی کہ ان کی جیپ ایک موڑ کاٹتے ہوئے دریائے سندھ میں گر گئی ہے۔ جیسے ہی سٹیاں بجیں تو سول مزدور پریشانی کے عالم میں بھاگے۔ گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف ہونے کی بجائے تین لوگوں نے اسی طرف بھاگنا شروع کردیا جس طرف پتھر لڑک رہے تھے۔ایک دن ہمارے ایک سنتری نے گاڑی میں بیٹھے ایک باریش اور معتبر بزرگ کو دیکھا تو سنتری نے کہا باباجی یہ جھنڈا گاڑی سے باہر ہاتھ نکال کر پکڑ لیں اور منزل پرپہنچ کر دوسرے سنتری کے حوالے کردیجئے گا۔ بابا جی جھنڈا لے کر چل دئیے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بابا جی آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم صاحب تھے۔
٭٭٭٭٭
٭بریگیڈئیر(ر) ممتاز خالد
(جولائی 1969 – اکتوبر 1969)

میرا نام ممتاز خالد ہے۔ میرا تعلق 36 پی ایم اے لونگ کورس سے ہے۔ 8 انفنٹری بٹالین سے میں انفنٹری اسکول گیا اور پھر وہاں سے قراقرم ہائی وے پوسٹ ہوگیا۔
1965 میں جب امریکہ نے پاکستان کی درآمدات و برآمدات پرپابندی لگائی تو اس وقت چین نے ہماری مدد کی۔ دفاع کا سارا سامان چین سے آیا۔ تمام دفاعی سامان زمینی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے بذریعہ ہوائی جہاز آیا کرتا تھا اور پھر میں اس کو فوج میں تقسیم کیا کرتا تھا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جنرل بہادر شیر کی سربراہی میں ایک وفد چینی حکومت کا شکریہ ادا کرنے یہاں سے روانہ ہوا۔ اس وقت چونگ جی لائی نے تاریخی جملہ بولتے ہوئے کہاکہ اگر ہمارے درمیان ایک سڑک ہوتی توہم زیادہ اچھے طریقے سے تعاون کرسکتے تھے۔جب یہ پیغام فیلڈ مارشل جنرل ایوب تک پہنچایا گیاتو انہوں نے فوری طورپر اس پر کام کے آغاز کا حکم دیا۔ یہاں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ نہ تخمینہ لاگت بنایا گیا، نہ پی سی ون اور نہ ہی سروے نام کی کوئی چیز، اس لئے یہ کام آرمی کوسونپا گیاکہ ہنگامی بنیادوں پر اس کی تعمیر شروع کی جائے۔
قراقرم ہائی وے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ ایبٹ آباد سے لیکر بٹ گرام، دوسرا بٹ گرام سے چلاس کے قریب تھور (یاغستان)، تیسرا تھور سے گلگت اور آخری حصہ گلگت سے خنجراب پاس تک ہے۔
فوج تو پہنچ گئی تھی لیکن ان کیلئے سازوسامان کی بہت کمی تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ چلاس ایئر فیلڈ کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ اس پر بھاری سامان اتر سکے۔اس امر کے تحت امریکیوں کو کہا گیا کہ آپ یہاں آئیں۔امریکہ کی ایک ٹیم فرانس سے اپنے C-130 لے کر آئی اور ان جہازوں سے مشینری جس میں گریڈر،ڈوزر، رولروغیرہ تھے اتارے گئے۔اس سے رن وے کو مضبوط کیا گیا۔پھراس رن وے پر چارٹرڈ پی آئی اے پروازوں سے سامان چلاس اتارا جاتا تھا۔
جب ششکٹ میں سیلاب آیا اور بند باندھنے کے لئے سڑک بند ہوگئی تو ایکSuspension Belly Bridge کی ضرورت محسوس کی گئی۔جب یہ پل کھولاگیا تولوگ کہتے تھے عربی خان نے بنایاہے۔
جو لوگ پنجاب کے میدانی علاقوں سے گئے تھے ان کو نہ تو حالات سے ہم آہنگی تھی نہ تربیت تھی صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ سڑک بنانے کیلئے آپ کو وہاں اتارا جائے گا۔جب خنجراب فورس کو بھیجا گیا توا س وقت تک نہ کوئی دفتری اجازت تھی نہ یونٹس کھڑی کرنے کے بارے میں حکومت کا کوئی حکم، بس صرف ایک سوچ تھی کہ یونٹیں بنائی جائیں گی۔ جو لوگ اردگرد سے اکھٹے کئے گئے تھے ان کو رسالپور میں لایا گیا اورایک طیارے میں بٹھا کر چین روانہ کردیا گیا۔مجھے جب حکم ملاکہ کام شروع کروتو میری سب سے بڑی پریشانی وہاں صرف پی ڈبلیوڈی ٹریک کی دستیابی تھی۔
خنجراب میں دو بنیادی مسائل تھے،ایک سخت سردموسم دوسرا اونچائ…ہر جگہ سڑک پر جوانوں کے ساتھ افسران موجود ہوتے تھے۔ جب ایک جوان دیکھتا ہے کہ میرا افسر میرے ساتھ ہے تو کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔خنجراب کے قریب یہ سست کے علاقے میں پھنس گئے تو انہوں نے ایک سگنل بھیجا کہ برائے مہربائی ہمیں فلاں چیز چاہیے۔۔تو دوسری طرف سے جواب آیاکہ آپ جواز پیش کریں آپ کو کیا چاہیے۔اس وقت پھنسی ہوئی پارٹی نے سگنل بھیجا کہ
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
چینی فوجی بارہ سے پندرہ منٹ میں ٹینٹ لگالیا کرتے تھے۔ہمارے آدمی جب شروع شروع میں ٹینٹ لگاتے تو چینی مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے یہ سڑک بھی اسی طرح بنائیں گے جس طرح ٹینٹ لگارہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ہمارے ٹینٹ اور طرح کے ہوتے ہیں،آپ ہمیں ایک بار لگا لینے دیں پھر شام کو ہم آپ سے مقابلہ کریں گے۔ شام کو جب مقابلہ ہوا تو میرے ایک نائیک شفیع جومستعد تھا،نے پانچ منٹ میں پورا ٹینٹ لگا دیا۔ اب میں نے چینی ترجمانوں کو بتایا کہ پاکستانی سڑک بھی اتنی مستعدی سے ہی تیار کریں گے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو ِتماشہ لب ِبام ابھی
ہنزہ اور گلگت کے لوگ بہت تعاون کرنے والے ہیں۔ چونکہ میرے ہنزہ کے میر سے اچھے تعلقات تھے لہذا وہاں کی آبادی سے بھی اچھے مراسم پیدا ہوگئے اور کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔میری ڈیوٹی گلگت بلتستان نہیں بلکہ انڈس کوہستان میں تھی جو بشام سے چلاس تک کا علاقہ ہے۔ جب انڈس ویلی روڈ بن رہا تھا تووہاں کے لوگ جیسے پتھر کے زمانے میں جی رہے تھے، پتھر کو گرم کرکے اس پر روٹی پکانے والے لوگ ہم سے ڈرے ہوئے تھے کہ شائد ہم لوگ وہاں قبضے کیلئے آئے ہیں۔ جب ان کو فائدے نظر آئے تو وہ ہماری لیبر فورس میں بھرتی ہونا شروع ہوگئے جس سے انکی آمدن کے ذرائع پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ وہ اپنے لئے لباس خرید سکتے تھے، اچھا کھانا کھا سکتے تھے۔ ہمارا اچھا لباس اور اچھا کھانا دیکھ کر ان کی زندگی میں بھی بدلا ئوآیا۔ہماری خوارک میں گوشت تھا، مقامی گائوں کے زمیندار ہماری خوراک پہنچانے کے ٹھیکیدار بن گئے، ان کی زندگی خانہ بدوشی سے ہٹ کر پرسکون ہوگئی۔
٭٭٭٭٭
٭لیفیٹنٹ جنرل(ر) جاوید ناصر
ایچ آئی(ایم)، ایس بی ٹی (1966-1969)101 انجینئرز بٹالین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

پاکستان۔ چین کے بارڈر خنجراب پاس، جوکہ16500فٹ بلند ہے، تک یہmetalledروڈ بنی ہوئی ہے۔آپ صرف یہ اندازہ لگائیں کہ اس وقت 70کی دہائی میں مشینری کیسے اوپر پہنچائی گئی اور کام شروع کیا گیا۔میں اس کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ اس لئے بھی کہتا ہوں کہ یہ سول انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔اس علاقے میں خوبصورت وادیاں اور گھاٹیاں ہیں،اس میں پتھر کے اندرسرنگیں بنی ہوئی ہیں۔ جو انسان کو حیران کرنے کیلئے کافی ہیں۔
٭٭٭٭٭
٭بریگیڈئیر ریٹایئرڈ اقبال احمد
یہ کام کسی اورادارے کو نہیں دیا جاسکتا تھا کیونکہ فوج ہی ایک ایسا ادارہ تھاجو ان سب مشکلات سے نبردآزما ہونا جانتا تھا۔ آرمی کے علاوہ اور کوئی یہ سڑک نہیں بنا سکتا تھا۔
٭٭٭٭٭
٭میجر جنرل ریٹائیرڈ محمد افسر

اس سنگلاح علاقے میں کوئی سویلین ٹھیکیدار یا کمپنی کام نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہاں پہنچنا، رہنا، کھانا دینا، ذرائع نقل و حمل (Logistic support) جیسے اہم امور کیلئے ایک بڑے ادارے کی ضرورت تھی جس کو آرمی اور انجینئرز کور کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔میری انجینئرز بٹالین (173 EB) کے ذمہ بانڈہ سازین سے کائیگا تک کے ٹریک کو چوڑا کرنا تھا۔
جون 1966 میں ہماری پہلی دو بٹالینز 1انجینئرز بٹالین اور151پنیئر بٹالین جو چکلالہ سے بذریعہ ہوائی جہاز آئے، ان کے ذمہ ہوتن،جو چینی علاقہ ہے،سے خنجراب تک سڑک بنانا تھا۔
میں اس وقت کپتان تھا اور مجھے 491روڈ کنسٹرکشن گروپ میں بطور جی ایس او تھری ورکس (GSO – III Works) تعینات کیا گیا۔ہم پہلے انجینئرز دستے تھے جو گلگت میں لینڈ کئے گئے۔میں کمپنی کمانڈر ہونے کے باوجود اپنے جوانوں کے ساتھ انہی کے کیمپ میں رہ رہا تھا۔ میرا بنکر ایک طرف تھا مگر کام سب اکٹھے ہوکر کرتے تھے حالانکہ ہاتھوں سے کام میرے جوان کر رہے تھے میں صرف ان کی نگرانی کررہا تھا۔ جوانوں کو پتہ ہوتا تھا کہ کمپنی کے افسر یعنی میجر صاحب کھڑے ہیں لیکن کبھی کسی نے برا نہیں منایا۔ میں اپنے جوانوں کو سلیوٹ کرتا ہوں۔آپ اصل درد تب ہی محسوس کرسکتے ہیں جب آپ خود ٹیم کا حصہ ہوں۔ ایک زخمی یا مرتے ہوئے انسان کوخود کندھوں پر اٹھا کر لے جانا اس کے باوجود اپنے افسر کیلئے جوانوں کی طرف سے ادب کا رشتہ ہمیشہ برقرار رہتا تھا۔ سب کو پتہ تھا کہ مذاق، گپ شپ اور حتی کہ ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود بھی کیسے ادب سے پیش آنا ہے۔ اسی رشتے کو لے کر ہم ایک اچھی ٹیم کے طور پر ابھرتے اور کام کرتے تھے۔افسر اور جوان ایک ہی قسم کے ماحول میں تھے، ایک ہی قسم کا لباس اور کھانا پینا تھا یعنی سب ایک ہی جیسے حالات سے گزر رہے تھے۔ایسے سخت حالات میں آپ کو معمول سے ہٹ کے چلنا پڑتا ہے۔ کام کے دوران تو آپ کو جوانوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہی ہے لیکن جب کام نہیں ہورہا تو ان کے ساتھ گپ شپ لگانا، حال احوال پوچھنا اور تکالیف بانٹنا، یہ سب منصوبے کا حصہ ہوتا ہے۔ دھماکا کرنے کی صورت میں چٹان کا سارا ڈھانچہ ہل جاتا ہے۔ ایک مرتبہ دھماکے کے بعد ملبے کو جوان بیلچے سے ہٹا رہے تھے جبکہ دو بندوں نے دو اطراف سے رسی ڈال کر پکڑا ہواتھا۔ یکا یک سلائیڈ کو اپنے اوپر آتا دیکھ کر رسیاں ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئیں اور اور بیچارے نیچے گھاٹی میں گر گئے۔ جب سڑک ایک انچ بھی نہیں بنی تھی تو اونچائی کی وجہ سے چار آدمی مر گئے تھے۔کئی بار ایسا ہوا کہ پہاڑ ریزہ کرتے کرتے تو آپ بچ گئے لیکن پہاڑ کی زمین دھماکو ں کے بعد نرم ہونے کی صورت میں اچانک آپکے اوپر آگری جس سے آپ شہید ہوگئے۔
٭٭٭٭٭
٭کرنل ریٹائرڈ تنویر احمد

میرا نام کرنل تنویر احمد ہے،میں قراقرم ہائی وے پر 1967میں تعینات ہوا۔قراقرم ہائی وے پر تعیناتی کے وقت میں لیفٹیننٹ تھا۔ KKH سے پہلے آرمی انجینئرزIVR پر ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے لہذا KKH کی ابتدا دراصل IVRمنصوبے کے اختتام پر وقوع پذیر ہوئی۔میری بٹالین 105 روڈکنسٹرکشن بٹالین گلگت سے آگے خنجراب کی طرف کام کررہی تھی جبکہ قراقرم ہائی وے دریائے ہنزہ کے بائیں کنارے پر بننا تھی جہاں کوئی اور رستہ نہیں جاتا تھا۔ تو ہم نے پوری کوشش کی کہ گرمی آنے سے پہلے کوئی ایسا طریقہ اپنالیں کہ پار جاسکیں۔ پارجانے کیلئے ہم نے وہاں ایک رسی کے ذریعہ ہوائی رستہ((Aerial ropeway بنایا۔پس ہماری ساری لاجسٹک اس ایریل روپ وے کے ذریعے پار جایا کرتی تھی۔آغا نیک ایک ڈی جی ایف ڈبلیو او گزرے ہیں، انہوں نے کہا کے ہر گروپ کمانڈر کوئی مضمون لکھے گا۔1987 میں، میں نے ایف ڈبلیو او پر ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا "A fabulously wonderful organization "۔
حال ہی میں کرتار پور رہداری جیسے بڑے منصوبے کی ریکارڈ وقت میں تکمیل نے پاکستان سمیت کور آف انجینئرز، پاکستان آرمی اور ایف ڈبلیو او کو ایک نام دیا ہے۔ایف ڈبلیو او کا ایک اور منصوبہ جس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے وہ چالیس دن میں 250 بستروں پرمشتمل اسپتال کا قیام ہے۔قراقرم ہائی وے مکمل ہونے کے بعد میں شائد ایک یا دو بار وہاں گیا ہوں مگر مجھے آج بھی وہاں جاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں اس کی تعمیر کے وقت موجود تھا۔
٭٭٭٭
٭بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد عربی خان

میرا نام محمد عربی خان ہے۔ میرا تعلق29 پی ایم اے لانگ کورس سے ہے جس نے 1964میں آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔میری پہلی تعیناتی 1970میں شاہراہ قراقرم پر104انجینئر نگ بٹالین میں ہوئی۔میری کمپنی کا پہلاکام Suspension Bridge کی تکمیل تھی تا کہ بھاری گاڑیوں کودریائے ہنزہ کے پار لے جایا جا سکے۔ جگہ کا انتخاب سب سے مشکل مرحلہ تھا کیونکہ زیادہ سے زیادہ پھیلا ئوکی گنجائش2انچ ہوتی ہے۔400فٹ دریا کے آر پار ناپنا ایک مشکل ترین امر تھاکیونکہ جب حکومت کسی کام کا حکم دیتی ہے تو ہمیں ہر صورت تکمیل کرنی ہوتی ہے۔ اگر آپ نے جنرل جاوید ناصر کا انٹرویو کیا ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کو چین کے بارڈر پر ڈراپ کیا گیا۔ بلا شبہ جنرل جاوید ناصر جن کا تعلق 101 انجینئرز بٹالین سے ہے،نے سب سے مشکل وقت دیکھا ہوا ہے۔جون1966میں مجھے بلا کے کہا گیا کہ تجھے بڑا لمباغیر ملکی دورہ دے رہا ہوں۔اور اگلے دن ساری تفصیلات کے ساتھ حکومتی خط بھی آگیا کہ اس مخصوص گروپ کا افسر چین جارہا ہے۔ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا گیاتھا کہ سڑک بنانے کیلئے کور آف انجینئرز کے جو آدمی منتخب کئے گئے ہیں ان کے تم انچارج ہو۔جب میں نے یہ پوچھا کہ یہ سڑک بننی کہاں ہے توجواب ملاکہ چین کے بارڈر سے شروع کر کے گلگت کی طرف آنا ہے جس کا مطلب 10,000فٹ سے بھی اوپر جاناتھا۔ جب میں نے جگہ کا نام اور اونچائی پوچھی تو مسکرا کر انہوں نے جواب دیاکہ نقشہ دیکھو اور چائنہ بارڈر پر خنجراب ڈھونڈو۔ اگلے دن جب نقشے پر خنجراب ڈھونڈا تو اسکی اونچائی 16500 فٹ تھی۔کسی کو بالکل اندازہ نہیں تھاکہ خنجراب کہاں اور کیسا ہے، وہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ مجھے تشویش یہ تھی کہ آپ 150 لوگوں کو اتنی بلندی پر بھیج رہے ہیں جہاں پیشگی ٹیم (Advance Party) کے سا تھ کوئی ڈاکٹر بھی نہیں ہے۔حالانکہ میں نے کوئی ٹریننگ نہیں لے رکھی تھی لیکن اس کے باوجود میں سوچ رہا تھا کہ 150بندےC-130میں جائیں گے کیسے کیونکہ تمام سیٹیں نکال دی گئی تھیں۔جوانوں کوبٹھانے سے پہلے میں جہاز کے اندر انتظامات دیکھنا چاہتا تھا۔ وہاں پر چند کرسیاں تھیں اور ایک موٹی رسی جو جہاز کے آخری حصے سے آگے کاک پٹ تک لگائی ہوئی تھی۔چالیس چالیس کی قطار میں لوگ بٹھائے گئے، میں نے آج تک لوگوں کو اس طرح جہاز میں بیٹھتے نہیں دیکھا۔ہمارے شاہراہِ قراقرم پر جانے سے دو سال پہلے چین سے اڑان بھرتاایک C-130 اسی علاقے میں لا پتہ ہوگیا جس کا پتہ نہ چل سکا۔ ہمارے ریسٹ ہاس کے سامنے دریا کے پار ایک بہت بڑا پہاڑ تھا جس میں کچھ کالے نقطے نظر آتے تھے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا ہے۔ ایک روز ایک چرواہے نے آکر میری یونٹ میں رپورٹ کی کہ وہاں پہاڑ پر اسٹیل کے کچھ ٹکڑے گرِے پڑے ہیں۔ میں نے اپنے ایک لیفٹیننٹ کو بھیجا جس نے واپس آکر بتایا کہ وہ کسی ہوائی جہاز کے ٹکڑے ہیں۔ ہمیں وہاں جانے کیلئے ایک ہیلی کاپٹر درکار تھا جو چوٹی کو چھوسکے۔چوٹی پر اترنے کے بعدوہاں آفیسرز نے کچھ ٹکڑے اٹھائے اور واپس آگئے۔جہاز کے وہ ٹکڑے توہمارے کسی کام کے نہیں تھے لیکن ہمیں یہ پتہ لگ گیا کے وہ C-130 یہاں تباہ ہوا تھا۔ داسو کے مقام پر ایک سو اسی فٹ بلند ایک ڈبل بیلی برِج تھا، ایک روز اتفاق سے ایک ڈوزر جو 173انجینئرز بٹالین سے آرہا تھا،جیسے ہی وہ درمیان میں پہنچا پل درمیان سے ٹوٹ گیا اور ڈوزر سمیت دریا میں گر گیا۔ چند ہی لمحوں بعد وہاں کچھ رسیاں باقی رہ گئیں اور یوں محسوس ہونے لگا جیسے پل یہاں پر تھا ہی نہیں۔
سخت موسم کی وجہ سے ساری فورس بیمار ہوگئی تھی کیونکہ اونچائی کی وجہ سے سب کو الٹیاں شروع ہوگئیں تھیں۔ خود ڈاکٹر کی حالت سب سے خراب تھی۔ جب ڈاکٹر کے پاس جاتے تو وہ کہتااونچائی پر الٹی کی کوئی دوائی نہیں ہوتی۔ بے شمارطوفان، بارشیں اور ہر طرف سڑک بند تھی۔ہوا کے بھگولے اور ریت ہر طرف اڑتی دکھائی دیتی تھی۔ پانی آپ کے جسم یا سڑک پر پھینکنے سے جم جاتا تھا۔اکتوبر شروع ہواتو ہمارے 5سے6لوگوں کے ہاتھ کاٹنے پڑے کیونکہ پتھروں کے شدیدکم درجہ حرارت کی وجہ سے ان کے ہاتھ پتھروں سے ہی چمٹ کر رہ گئے۔
سب سے بڑی تبدیلی جو پاکستانیوں میں آئی وہ چینی فوجیوں کی طرح نیلی جیکٹوں اور نیلے پاجاموں کا استعمال تھا جن پر چینی وردیوں کی طرح کوئی رینک نہیں لگا ہوا تھا۔رینک کے بغیر سب کی ایک جیسی وردیاں شب و روز کام میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی تھیں۔ سست اور خنجراب کے درمیان چرواہے اپنی بکریوں کو چرواتے وقت پہاڑوں کو عبور کرنے کیلئے کیل لگے لکڑی کے تختوں کا استعمال کرتے تھے۔ وہاں میری پوری ٹیم کو یہ عمل کرکے دکھایا گیا کہ جب تم نے اس پر سے گزرنا ہے تو پہاڑ کی سیدھی طرف دیکھنا ہے مڑنا نہیں، اگر مڑے تو تمہارا سامان پہاڑ کو لگے گا اور تم نیچے گر جا گے اس تنبیہ کے باوجودچار لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔میں سمجھتا ہوں دنیا کے سات عجوبوں کی طرح اس سڑک کا اتنے مشکل حالات میں بننا کہ جہاں شدید سردی، کھانے کا وقت نہ ہونا وغیرہ بنیادی مسائل تھے، ایک معجزے سے کم نہیں۔
data-src=”https://dailyvoiceofpakistan.com/news/wp-content/uploads/2021/12/Iqbal-300×169.jpg” alt=”” width=”300″ height=”169″ class=”alignnone size-medium wp-image-2339″ />
ایک دن اچانک بہت بھیانک آواز آئی، میں کالے دھوئیں کے بیچ پھنسے اپنے تین لوگوں کو بمشکل پہچان سکا۔ میرا ایک جوان بہت بڑے پتھر پر کھڑا بہتی چٹانوں کو ((Avalanche ایک طرف سے نکل جانے کے انتظار میں تھا کہ یکا یک اس بڑے پتھر سے بھی اونچی لہر آئی اوراسے دفن کرتی ہوئی آگے بہا لے گئی۔اتنی اونچائی اور ٹھنڈے پانی میں گر کر بھی کسی کا بچ جانا بھی بلاشبہ ایک معجزہ تھا۔اس سڑک کی فوجی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک اسٹرٹیجک اہمیت بھی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہِ کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر چار جنگیں ہو چکی ہیں مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کے 1971,1965,1947 اور کارگل کے بعد پانچویں جنگ نہ ہو۔ آئے دن بھارت دھمکیوں اور سرجیکل اسٹرائیک کی بات کرتا ہے۔دوسری طرف چین نے پوری طرح سے بھارت کو گھیرا ہوا ہے۔ کوئی بعید نہیں کے اگلی جنگ کشمیر کے مسئلے پر ہو اور پاکستان چین مل کر بھارت کے ساتھ وہی کریں جو بھارت نے روس کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان میں کیا۔
(یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا مرتے دم تک آزادی کیلئے لڑیں اور میرا ماننا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔اور ہم لڑیں گے۔ہم آخری گولی آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے۔اور اس کے لئے ہم ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔اس شاہراہ کے قیام سے فوجی سازوسامان باآسانی ہماری مدد کو پہنچ سکتا ہے جو کہ بھارت کو گوار ہ نہیں۔ آپ سی پیک کی مثال لے لیں، وہ بھی قراقرم ہائی وے سے گزرتا ہے۔اوراسمیں گوادر پورٹ کی چرچا بھی بے حد اہم ہوجاتی ہے بھارت کو گھیرنے کے چینی کے ارادے میں گوادر کا اہم رول ہے۔جیسے سی پیک سے بھارت اور امریکہ کو کافی تکلیف ہے ٹھیک اسی طرح سے قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے دوران وہ ناخوش تھے۔پاکستان نئی بلندیوں پر پہنچ رہا ہے۔چین دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی پکی سڑک قراقرم ہائی وئے کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ زمین کی سب سے اونچی ہموار سڑکوں میں سے ایک ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چین کا انقلاب ہے۔