Official Website

بھارتی پولیس نے جیل میں مسلم جوڑے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

46

بھارتی ریاست جھارکنڈ کے بوکارو ضلع میں ایک مسلمان جوڑے کو جیل میں چوری کے شبے میں پولیس نے رات بھر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 47 سالہ امانت حسین اور ان کی اہلیہ کو پڑوس میں چوری کے شبے میں جمعرات کو سمن موصول ہوا تھا جس پر وہ تھانے بلائے گئے اور ان سے بوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوا۔

حسین نے بتایا کہ ایک پولیس والا ہم سے پوچھ گچھ کررہا تھا کہ دریں اثناء ایک اور پولیس والا آیا اور کہا کہ ایسے بات چیت نہیں ہوگی۔ پھر مجھے رسیوں سے باندھا اور مجھے مارنا شروع کردیا جبکہ اہلیہ (حاذرہ بیگم) کو خاتون پولیس اہلکاروں نے بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

امانت حسین نے مزید بتایا کہ انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ میرے تلوے ٹوٹ گئے اور مجھ میں کھڑے ہونے کی سکت باقی نہ رہی جبکہ میرے ناخن ادھیڑنے کی بھی کوشش کی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ امانت حسین اچھے کردار کا مالک ہے اور محلے میں عزت دار سمجھا جاتا ہے۔ محلے کے معزز افراد نے امانت حسین کی رہائی کے حوالے سے پولیس تھانے سے رابطہ کیا جس پر دونوں کو جمعے کے دن رہا کردیا گیا تاہم دونوں کی حالت غیر تھی۔ امانت حسین نے تھانے کے ایس ایچ او نوتن مودی پر تشدد کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔