Official Website

وفاقی حکومت کا ناظم جوکھیو کے خاندان کی جانب سے صلح کی صورت میں کیس لڑنے کا اعلان

28

اسلام آباد:
وفاقی وزیر شیرین مزاری نے اعلان کیا ہے کہ اگر ناظم جوکھیو کا خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو ریاست اس کیس کو آگے بڑھائے گی۔

وائس آف پاکستان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر شیرین مزاری شریک ہوئیں۔ اجلاس میں جیلوں میں قیدیوں کے برے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کمیٹی نے اڈیالہ اور بکھر جیل کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ڈی آئی جیز انسانی حقوق کمیٹی میں پیش ہوئے۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ سندھ کے ایم پی اے اور ایم این اے اجلاس میں شریک ہیں تو آئی جی کو پیش ہونا چاہیے۔ سندھ میں صحافی کے قتل کا معاملہ اہم ہے اس میں پولیس ناکام نظر آرہی ہے، اس صوبے سے کبھی کوئی سینئر آفیشل نہیں آتا۔

سندھ میں ناظم جوکھیو کیس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس اور عبدالکریم نے عرب مہمانوں کو بلایا، سندھ میں صرف پرندوں کا شکار نہیں ہوتا بلکہ عرب سے آئے شہزادے جو کرتے ہیں ان پر بریفنگ ہونی چاہیے، سندھ میں شکار پر آئے عرب شہزادوں کے کاموں کو بتاتے شرم محسوس ہوتی ہے، جہاں یہ بحثیت مہمان شریک ہوتے ہیں وہاں نہ جانے کیا شرمناک کام ہوتے ہیں۔

سیف اللہ ابڑو نے اجلاس کو بتایا کہ ایم پی ایز کے گارڈز ناظم جوکھیو کو فارم ہاؤس میں پکڑ کر اندر لے گئے، افضل اپنے بھائی ناظم کو لے کر گیا اس نے اپنے چھوٹے بھائی کہ چیخیں سنیں، سندھ میں ہزاروں ایسے قتل ہو رہے ہیں، لیکن کوئی سرکاری اعداد وشمار نہیں ہوتے، ناظم جوکھیو کے اہل خانہ نےبھی جسد خاکی کو نیشنل ہائی وے پر رکھا تو ایف آئی آر درج ہوئی۔

وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کو مقتول ناظم جوکھیو کے خاندان کی حفاظت کی ہدایت کی ہے، ناظم جوکھیو کا خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو ریاست اس کیس کو آگے بڑھائے گی، قندیل بلوچ کا کیس ہمارے سامنے ہے، وفاقی حکومت کا فیصلہ ہے کہ ریاست اس کیس کو آگے بڑھائے گی اور کیس لڑے گی۔

قتل کیس کا پس منظر

ناظم جوکھیو نے اپنے قتل سے پہلے فیس بک پر ایک وڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایک گاڑی میں بیٹھے افراد ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہماری سڑک بلاک کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ اس علاقے میں کیا کر رہے ہیں، یہ ہمارا علاقہ ہے، تو وہ ہم نے بد سلوکی کر رہے ہیں۔ ہمیں پولیس کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ودیو کے دوران ہی گاڑی سے اترنے والے افراد نے ناظم کا موبائل فون لینے اور وڈیو روکنے کی کوشش کی۔

ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس نے اپنے پرسنل سیکریٹری کے نمبر سے کال کی اور کہا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ ورنہ میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ اپنے بھائی کو میرے پاس پیش کرو اور اس سے کہو کہ یہ وڈیو سوشل میڈیا سے ہٹائے۔ میرے بھائی نے یہ کرنے سے منع کردیا۔

افضل جوکھیو کا کہنا ہے کہ جس روز ان کے بھائی کا قتل ہوا، اس رات 11 بجے جام سومرو کے لوگ آئے اور زبردستی مجھے اور میرے بھائی کو ملیر میمن گوٹھ میں فارم ہاؤس لے گئے۔ انہوں نے میرے سامنے میرے بھائی پر تھوڑا تشدد کیا اور رات 3 بجے مجھ سے کہا کہ میں اپنے بھائی کو ان کے پاس چھوڑ کر چلا جاؤں کیونکہ وہ ہماری اور شکار کے لیے آنے والے افراد کی صلح کروائیں گے۔ میں مجبورا اپنے بھائی کو ان کے بھروسے چھوڑ کر گیا مگر پھر مجھے اطلاع ملی کہ انہوں نے صبح چھ بجے میرے بھائی پر بہت تشدد کرکے قتل کردیا اور اس کی لاش کو میم گوٹھ میں کہیں پھینک دیا۔

ناظم جوکھیو قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس اور ان کے دو ملازمین سمیت 5 افراد نامزد ہیں۔