Official Website

بلال یاسین پر فائرنگ کرنے والے ملزمان شناخت، تصاویر بھی سامنے آگئیں

6

لاہور:
لیگی ایم پی اے بلال یاسین پر فائرنگ کا معاملہ، مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر منظر عام پر آگئیں۔

وائس آف پاکستان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے بلال یٰسین پر فائرنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، گزشتہ روز لیگی رہنما پر فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کرلیا گیا تھا، جب کہ آج فائرنگ میں ملوث مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے بلال یاسین پر حملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کررکھا ہے، اور مختلف مقامات سے سی سی ٹی فوٹیج جمع کی گئی ہیں، اور ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کی نقل و حرکت سامنے آگئی ہے، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مبینہ حملہ آور نے سبز اور ایک نے کالی جیکٹ پہن رکھی تھی۔

فوٹیج میں نظر آرہا ہے کہ مشتبہ حملہ آوروں نے اپنے منہ پر رومال لپیٹ رکھے تھے، اور حملے کے بعد کچھ دور جا کر مبینہ حملہ آوروں نے چہروں سے رومال ہٹادیئے، تاہم جائے حادثہ سے پچاس میٹردور لگا سیف سٹی اتھارٹی کا کیمرہ بھی خراب نکلا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزمان کی تصاویر نادرا کو بھجوا دی گئی ہیں، مشتبہ افراد کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

دوسری جانب لیگی رہنما بلال یاسین پر فائرنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور ذرائع نے بتایا ہے کہ سی آئی اے نے واقعے میں ملوث ملزمان کو ٹریس کر لیا ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ محسن نامی بندے کی بلال گنج کباڑی بازار میں حاجی لیاقت سے دوکان پر تنازعہ چل رہا تھا، اور حاجی لیاقت نے بات چیت میں بلال یاسین کو درمیان میں ڈالا، بلال یاسین نے بھی محسن نامی بندے کی مخالفت کی اور حاجی لیاقت کا ساتھ دیا، جس پر محسن طیش اور غصے میں آگیا، تاہم اس نے فوری قدم اٹھانے کے بجائے اپنی بھڑاس نکالنے اور بلال یاسین کو ڈرانے کے لئے کرائے کے شوٹرز ہائر کیے، اور انہیں حاجی لیاقت کو ٹارگٹ کرنے کا ہدف سونپا گیا۔ تاہم شوٹرز کو صرف ٹانگوں پر گولیاں مارنے کا کہا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلی افسران نے کیس پر تحقیقات کرنے والی دیگر 6 تفتیشی ٹیموں کو کام سے روک دیا ہے، جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے سی آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

واضح رہے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین 31 دسمبر کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔ بلال یاسین لیگی کارکن کے گھر موٹرسائیکل پر پہنچے تھے کہ اسی دوران حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور انہوں نے فائرنگ کردی جس سے ان کی ٹانگ اور پیٹ میں گولیاں لگی تھیں۔