Official Website

یہ امن کی باڑ ہے ضرور مکمل ہوگی۔۔آئی ایس پی آر

30

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑے، بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہوچکا ہے، یہ امن کی باڑ ہے اور یہ ضرور مکمل ہوگی، اس باڑ کو لگانے میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا اثر  پاکستان پر بھی پڑسکتا ہے، موجودہ صورتحال سنگین انسانی المیہ کے جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کیا، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 890تھریٹ الرٹ جاری کیے، 70فیصد ممکنہ دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں مدد حاصل ہوئی۔

اس پریس کانفرنس کا مقصد2021کی  صورتحال کا جائزہ پیش کرنا ہے ایل او سی پورا سال پرامن رہی

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے بھارتی فوج دہشتگردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی محاصرہ  جاری ہے۔ بھارت اندرونی طور پر مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہے بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کیاگیا،

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ کشمیر کا بدترین محاصرہ جاری ہے  بھارت جنیواکنونشن اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مستند سیاسی قیادت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب ناصرف بھارت بلکہ کشمیری قیادت اور دنیا بھر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال سنگین انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد حکومت، عوام اور اداروں کےد رمیان خلیج پیدا کرنا اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے، ایسی تمام سرگرمیوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان کے لنکس سے بھی آگاہ ہیں، یہ لوگ پہلے بھی ناکام ہوئے اب بھی ناکام ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ نوازشریف سے متعلق سب قیاس آرائیاں ہیں جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی سے سیز فائر9 دسمبر کو ختم ہوچکا ہے
ڈیل کی خبروں میں کوئ حقیقت نہیں.. ڈیل کون کررہا ہےاس کی تفصیل سامنے آنی چاہئے۔ اگر کوئی ڈیل کی بات کررہا ہے تو اس سے کہیں تفصیلات بھی بتائے

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ  افغان بارڈر پر پاکستان کی 12ہزار سے زائد پوسٹیں ہیں جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی سے گفتگو کا آغازموجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کیا

انہوں نے سول ملٹری تعلقات پر کہا ہے کہ فوج اور حکومت میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا مسئلہ کشمیر کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے

جبکہ افغان صورتحال پر انہوں نے کہا غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی کا مسئلہ ہوا ہم نے افغان حکومت سے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو افغان حکومت نے کہا ٹی ٹی پی کو ٹیبل پر لائیں گے وہ آپ کی بات سنیں گے
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی کے حملوں کو ناکام بنایا گیا اندرونی اور بیرونی تمام حالات سے نمٹنے کو تیار ہیں
جبکہ پاکستان میں آئی ایس آئی ایس کی موجودگی نہیں ہےجبکہ  ہم نے بہت سے دہشت گرد مارے اور گرفتار بھی کیے ہیںفیٹف سے متعلق انہوں نے کہا کہ  پاکستان نے تمام اپنے تمام نکات پر عملدرآمد کرلیا ہے

تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے سیز فائر 9 دسمبر کو ختم ہوچکا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی سے گفتگو کا آغاز موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کیا، کراچی میں دہشتگردی، جرائم کے واقعات میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے

بکہ انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے  کہا کہ ملک کی خاطر جو بھی قربانی دینی پڑی ہم دیں گے