Official Website

46

کابل:
طالبان نے افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں خواتین کے حمام خانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

ترک خبررساں ادارے اناتولو کے مطابق بلخ میں ’فضیلت اور برائی کی روک تھام‘ کی وزارت کے صوبائی سربراہ سردار محمد حیدری نے کہا کہ خواتین حجاب پہن کر صرف نجی غسل استعمال کر سکتی ہیں۔

محمد حیدری نے یہ بھی کہا کہ مردوں کے نہانے پر بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں طالبان حکام نے ملک بھر میں خواتین کے سفر کو 45 میل تک محدود کر دیا۔

15 اگست کو ملک پر قبضہ کرنے کے بعد، طالبان نے کئی پابندیاں لگائی ہیں، جن میں ثانوی اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلہ پر پابندی بھی شامل ہے۔

طالبان نے وزارت برائے امور نسواں کی جگہ فضیلت کی تبلیغ اور برائیوں کی روک تھام کی وزارت کو تبدیل کر دیا۔

نومبر میں طالبان نے ٹی وی چینلز پر خواتین اینکرز سے کہا ہے کہ وہ حجاب کی پابندی کریں۔

خیال رہے کہ دسمبر 2021 میں طالبان حکومت نے اپنے نئے حکم نامے میں دکانوں پر لگے خواتین کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی عائد کردی تھی۔

طالبان حکومت نے دکانوں بالخصوص بیوٹی پارلز اور مردوں کے سیلون میں خواتین کی تصاویر والے اشتہارات آویزاں کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔