Official Website

آرمی چیف تقرری، سمری کو آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں: عمران خان کی صدر کو ہدایت

7

لاہور:  پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے صدر عارف علوی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری پر سمری کو آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں۔

ذرائع کے مطابق صدر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین سے لاہور کے علاقے زمان پارک میں ان کے گھر جا کر ملاقات کی، ملاقات کے دوران آرمی چیف کی تقرری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر سابق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

سپہ سالار کی تقرری کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر پی ٹی آئی چیئر مین نے صدر علوی کو کہا کہ آرمی چیف کی تقرری پر سمری کو آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں۔ اگر سمری درست ہے تو اُس معاملے پر آگے بڑھیں۔ ہم نے آئین اور قانون کی پاسداری کرنی ہے۔ ہماری کسی ادارے سے کوئی جنگ نہیں۔

عمران خان پرویز الٰہی ٹیلیفونک رابطہ

اُدھر عمران خان سے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی فون پر بات چیت ہوئی جس میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی ، موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پرویز الٰہی نے عمران خان کی خیریت دریافت کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ تیزی سے صحتیاب ہورہا ہوں۔ معمولی سی تکلیف باقی ہے۔ عمران خان اللہ تعالیٰ آپ کو جلد از جلد صحت یاب فرمائے۔

عمران خان کی زیر صدارت اجلاس

قبل ازیں افواج پاکستان میں اہم تقرری کے حوالے سے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی زیر صدارت سینئر لیڈرشپ نے مشاورت کی۔

عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں اسد عمر شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری سمیت دیگر رہنما شریک تھے، صدر کی آمد سے قبل تحریک انصاف کی قیادت نے اہم تعیناتی سے متعلق صلاح مشورے کیے۔

انٹرویو

یاد رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر عارف علوی کے پاس آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری آئے گی تو وہ مجھ سے مشورہ کریں گے، اس معاملے پر ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کھیلیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں صدر سے رابطے میں ہوں اور وہ مجھ سے مشورہ کریں گے کیونکہ یہاں تو آرمی چیف کے بارے میں پوچھنے کے لیے وزیراعظم ایک مفرور کے پاس چلا جاتا ہے میں تو پارٹی کا سربراہ ہوں، وہ مجھ سے بالکل بات کریں گے۔ نواز شریف اتنی دور سے اگر کسی کو آرمی چیف تعینات کرے گا تو وہ پہلے دن ہی متنازع ہوجائے گا کیونکہ وہ نوازشریف کا آدمی ہو جائے گا۔ ماضی میں جب کوئی آرمی چیف تعینات ہوتا تھا تو ادارے کی حدود سے باہر نہیں نکلتا تھا لیکن نواز شریف کی پوری کوشش ہے کہ اپنا آدمی لائیں۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے ان کی نیت پر شک ہے کہ یہ لوگ اس لیے آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کر رہے ہیں کہ ملک اور ادارے کی بہتری ہو مگر یہ اپنی ذات کے لیے سوچ رہے ہیں کہ کس طرح آرمی چیف عمران خان کو نااہل کرکے کونے سے لگائے گا۔ نواز شریف یہ امید لگا کر اپنا آرمی چیف لانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ عمران خان اور تحریک انصاف کو ختم کرے گا۔ مجھے نہیں پتا کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا مگر صدر عارف علوی اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قانون کے اندر رہ کر کھیلیں گے۔