Official Website

شہباز شریف اداروں اور سیاسی جماعتوں میں تصادم نہیں چاہتے، رانا ثنا

36

لاہور:
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما راناثنااللہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف اداروں اور سیاسی جماعتوں میں تصادم نہیں چاہتے۔

راناثنااللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ انہوں نے ملک دشمنوں سے پیسے لیے، عمران خان کے پاس ملک میں مسلط رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا، چندہ دینے والے ہی حکومت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مریم نواز کی آڈیو ایجنسی نے وائرل کی

پرویز رشید اور مریم نواز کی لیک آڈیو ٹیپ کے بارے میں رانا ثنا نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے کوئی قابل اعتراض الفاظ استعمال نہیں کیے گئے، آڈیو ٹیپ اس دن چلائی گئی جب اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آئی، 2 افراد نجی گفتگو کر رہے ہوں تو اسے ریکارڈ اور پبلک کرنا جرم ہے، کسی حکومتی ایجنسی نے یہ ٹیپ وائرل کی ہے جو ممکنہ طور پر آئی بی ہوسکتی ہے، انہوں نے یہ کافی دنوں سے سنبھال کر رکھی تھی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کی کرپشن دنیا کے سامنےعیاں ہے، ساڑھے 3 سالوں میں ملک کی معیشت کو تباہ کردیا، آٹا بحران ہو، چینی بحران ہو یا رنگ روڈ یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، حکومتی اے ٹی ایمز نے عوام کی جیبوں سے پیسہ نکالا، یہ لوگ مافیا بنا کرعوام کو لوٹ رہے ہیں، جس نے اس نالائق ٹولے کو مسلط کیا وہ بھی معافی مانگے۔

نواز شریف وطن واپسی پر گرفتار ہوگئے تو ان کی رہنمائی ہمیں میسر نہیں ہوگی

نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف خدانخواستہ وطن واپس آکر جیل میں بند ہوجاتے ہیں تو ان کی رہنمائی ہمیں میسر نہیں ہوگی، مسلم لیگ ن کے وزیراعظم میاں نوازشریف ہی ہیں، وہ جب چاہے آسکتےہیں کوئی انہیں نہیں روک سکتا، توشہ خانہ پر نوازشریف کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، لیکن عمران خان توشہ خانے کی 10کروڑ مالیت کی گھڑی فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے، اب ان کاگریبان اورعوام کا ہاتھ ہوگا، لوگوں کو چور چور اور ڈاکو ڈاکو کہنے والا خود چور ثابت ہوا، اب اس کاگریبان اورعوام کا ہاتھ ہوگا۔

فوج سے ڈیل کی خبروں پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر ادارے غیر جاندار رہیں تو یہ اچھی بات ہے، ہم کسی ادارے سے ڈیل کی گفتگو میں شامل نہیں، نواز شریف کسی ڈیل کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں، انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو فوج کے اعلیٰ حکام سے ملنے سے منع کیا ہے اور ملاقات کےلیے پارٹی سے پیشگی اجازت لینے کا حکم دیا ہے۔

شہباز شریف کا اپنا ایک موقف ہے

رانا ثنااللہ نے شہباز شریف کی پنڈی میں ملاقاتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایک بریفنگ تھی وہاں ہم سبھی ملے ہیں، اسے ملاقاتیں نہیں کہہ سکتے، شہباز شریف قطعا کسی ڈیل اور سازش کا حصہ نہ تھے، نہ ہیں اور نہ بننے کو تیار ہیں، لیکن ان کا اپنا ایک موقف ہے کہ ملک میں اداروں اور سیاسی جماعتوں میں تصادم نہیں ہونا چاہیے، سب کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے، یہ ان کی رائے ہے جو پارٹی کی رائے کے تابع ہے، بعض اوقات ان کی رائے پارٹی کی رائے کے مخالف بھی گئی ہے تو شہباز شریف اس وقت بھی پارٹی کی رائے کے ساتھ رہے ہیں۔