Official Website

کرپشن کے خلاف ہماری جنگ لازم ہے، شاہ محمود قریشی

48

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کرپشن کے خلاف ہماری جنگ لازم ہے۔

’اوآئی سی‘ کے خودمختار مستقل انسانی حقوق کمیشن کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف جنگ اور جملہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا، ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں سرفہرست ہے، کرپشن کے خاتمے کے لئے پاکستان کا عزم اور عہد واضح اور مضبوط ہے، اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کرپشن کے خلاف ہماری جنگ لازم ہے، سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی اور ترقی کے حق سمیت تمام انسانی حقوق کو شرمندہ تعبیر کرنے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، یہ اچھی حکمرانی اور جمہوریت کی جڑوں پر ضرب لگاتی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے، قانون کی حکمرانی پر اثرانداز ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرپشن، شفافیت، احتساب وجوابدہی، انصاف اور منصفانہ ویکساں مواقع کی فراہمی کی اقدار کے خلاف ہے، یہ معاشی شرح نمو کو متاثر، عدم مساوات میں اضافے اور خوش حالی کی راہ میں رکاوٹ بن کر پائیدار ترقی کے تمام 17 اہداف پر کامیاب عمل درآمد پر اثرانداز ہوتی ہے، کرپشن خاص طور پر غریب اور محروم طبقات کے لئے راہیں مسدود کرتی اور ان کی زندگیوں کو اذیت اور غیرمساوی برتاؤ کے زہر سے بھر دیتی ہے، اس کے نتیجے میں ترقی پزیر ممالک سے ناجائز دولت بڑی مقدار میں بیرون ملک چلی جاتی ہے، اس پر مستزاد معاشی خساروں کا بھاری بوجھ پیدا ہوتا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مالیاتی جوابدہی، شفافیت اور ساکھ پر اقوام متحدہ کے اعلی سطحی پینل نے تخمینہ لگایا ہے کہ لوٹ کی7 کھرب ڈالر کی خطیر رقم مالیاتی طور پر دوردراز ”محفوظ ٹھکانوں“ میں چھپائی گئی ہے، منظم لوٹ مار اور ناجائز اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی کے ترقی پزیر اقوام پر بے پناہ منفی اثرات ونتائج مرتب ہوئے ہیں، اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ عوامی خزانے سے لوٹی گئی اس دولت سے تعمیر و ترقی کیلئے درکار، ضروریات کو پورا کیاجاسکتا تھا، عوام کو غربت سے چھٹکارا دلایاجاسکتا تھا، بچوں کو تعلیم فراہم ہوسکتی تھی، ان رقوم سے، خاندانوں کو ضروری ادویات فراہم کی جاسکتی تھیں اور ہر روز موت کے منہ میں جاتے ہزاروں افراد کوبچایا جا سکتا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کورونا عالمی وبا نے موجودہ عدم مساوات کی خلیج کو مزید بڑھادیا ہے، لاکھوں لوگوں کو بدترین غربت میں دھکیل دیا ہے اور لاکھوں لوگ اس کے نتیجے میں روزگار سے محروم ہوچکے ہیں، ان حالات میں کرپشن اور ناجائز سرمائے کے بہاؤ کو جاری رہنے دینا کسی جرم سے کم نہیں، قومی اور عالمی سطح پر فوری اور بھرپور کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ ترقی پزیر ممالک کا بہتا لہو بند ہوسکے۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کو منظور ہوئے 15 سال گزر چکے ہیں، یہ کنونشن اس وقت انسداد رشوت ستانی کا واحد عالمی قانون ہے، انسداد رشوت ستانی پر اقوام متحدہ کے اس کنونشن کی واضح شقوں کے باوجود بدقسمتی سے لوٹی گئی دولت اور اثاثہ جات کی برآمدگی اور ان کی متعلقہ ممالک کو تیز رفتار واپسی کے عمل میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں، ناجائز دولت کے بہاؤ کو روکنے، برآمدگی اور لوٹے گئے اثاثوں کی واپسی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں وسائل کی فراہمی کی صورت نہایت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم یہ زور دیتے آرہے ہیں کہ جن ممالک میں لوٹی گئی دولت رکھی گئی ہے، وہ ممالک برآمد ہونے والے اثاثے شرائط کے بغیر ان ممالک کو واپس لوٹائیں جہاں سے یہ دولت لوٹی گئی ہے، ہمیں اقوام متحدہ کے انسداد رشوت ستانی کے کنونشن کے تحت برآمد ہونے والی ناجائز دولت کے ضمن میں اضافی پروٹوکول (ضابطے) کے امکان کی راہ بھی تلاش کرنی چاہئے تاکہ اس عالمی قانون کی معاونت ممکن ہوسکے۔