Official Website

قائداعظم ایک ہمہ جہت شخصیت

پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کے زیراہتمام ہاد قائد

86

اعلی کردار اور باعظمت اور معاصرین میں قد آور حیات والی صرف ایک ہی شخصیت قائد اعظم ہیں۔

ایس ایم ظفر معروف قانون دان نے یہ بات پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کے زیر انتظام یاد قائد اعظم کے پروگرام میں کہی۔


پاکستان عوامی سوسائٹی کویت نے اپنی ریت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے قائد اعظم کے یوم پیدائش کی نسبت اور سلسلے میں ایک پروگرام

یاد قائد اعظم

سے معنون منعقد کیا۔ پروگرام کی انتظامی حسن اور ترتیب وتزئین
جناب عطا الہی نے سرانجام دی۔۔ تلاوت۔ نعت۔ پاکستان اور کویت کے ترانوں کے بعد استقبالیہ کلمات جناب انجنئیر آصف کمال صدر پاکستان عوامی سوسائٹی ترکی نے ادا کرتے ہوئے مقررین کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ھم بجا طور پہ فخر کرتے ہیں کہ ھمارے قائد نے اکیلے تاریخ رقبہ اور ملک کا حصول ممکن کر دیکھایا۔ پروگرام میں فیاض المعروف فوجی۔شاہد وسیم۔ پاکستان وہاڑی سے جناب عثمان اور اوکاڑہ کیڈٹ کالج سے لکچرار جناب احمد خان اور ترکی سے کالم نگار جناب یاسین شاہین نے قائد کو خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کیا اور انکی عظمت کو سلام پیش کیا۔

کراچی سےشبیر ابن عادل نے پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ھماری تاریخ کا وہ سنہرا نام قائد اعظم ہے جس نے اپنے اعلی جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن برائے پیروی اسلام لیکر دیا۔

معروف کالم نگار ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے کہا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی بڑا کام ہے تو وہ قیام پاکستان ہے جس کا سرخیل قائد اعظم محمد علی جناح ہے اور جناح بھی وہ جو ایک حضرت علامہ اقبال علیہ رحمہ کا انتخاب ۔ علامہ اقبال کیسے ایک لادین کو مسلمانوں کی قیادت سونپ سکتے تھے۔ یہ مملکت خداداد صرف اسلام کے سنہرے اصولوں پہ عملدرآمد کے لئے حاصل کیا گیا ہے۔ اور اس عظیم قائد نے اپنے اربوں کے اثاثے بھی تو اس کے معروف علمی مذہبی اداروں کے لیے وقف کر دئے کیا ھمیں اس سے سبق نہیں ملتا کہ وہ کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے۔
محترم فیاض خان وردگ معروف شاعر نے قائد کے حضور گلہائے عقیدت پیش کیے۔


مشہور موٹیویشنل مقرر جناب ڈاکٹر عارف صدیقی صاحب نے قائد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قائد کے سنہرے اصولوں پہ عمل کرکے ہی وہ وطن ممکن کر دیکھایا جا سکتا ہے۔


کلیدی خطبہ صدارت میں معروف محقق مقرر جناب اوریا مقبول جان صاحب نے پیش کیا کہ میں پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت کا شکریہ ادا کیا اور اپنے موضوع کہ کیا قائد سیکولر پاکستان چاہتے تھے پہ اپنا خطبہ پیش کیا۔

اور اپنے کاٹ دار جملے اور حملوں سے قلع قمع کر دیا کہ قائد کا کراچی بار کو خطاب میں اپنے 11 اگست والے خطبہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ وہ شرعیہ لا اس ملک میں چاہتے ہیں۔ اور وہی سپریم ہوگا اور سٹیٹ بینک کے افتتاح پہ موقعہ پہ فرمایا کہ بینکنگ کے باب میں اسلامی اصول کو بنیاد بنا کر ترویج دی جائے۔ اور اس مملکت خداداد میں اسلام کو بطور فائنل کوڈ اپنایا جانا قائد کے پاکستان کی تعبیر ہے۔

آخر میں جعفر صمدانی ایڈووکیٹ صدر پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت نے تمام شرکاء سامعین محققین، مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت پاکستان اسلام عوام اور شعور کے ساتھ ہمیشہ راہ عمل پر کھڑی رہے گئ۔

اور آخر میں دعا کے ساتھ اختتام ہوا