Official Website

ای سی سی اجلاس ،گاڑیوں کی درآمد پر مزید ٹیکس عائد

10

اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چین سے حکومتی سطح پر50 ہزارمیٹرک ٹن یوریا کھادکی درآمد اور درآمدی گاڑیوں ودیگراشیا پرپرٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات کی منظوری دیدی ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق سید فخرامام،وزیرصنعت و پیداوارمخدوم خسروبختیار، وزیرتوانائی حماداظہر، وزیرنجکاری محمدمیاں سومرو، وفاقی وزیرآبی وسائل مونس الہی، وزیراعظم کے مشیرتجارت وسرمایہ کاری عبدالرزاق داد، وفاقی سیکرٹریز اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے درآمدی گاڑیوں اوردیگراشیا پرٹیرف کی شرح کومعقول بنانے کے حوالہ سے سمری پیش کی گئی، یہ سمری وزارت صنعت وپیداوار اوردیگرشعبہ جات کی درخواست پرجمع کرائی گئی، اجلاس میں اس سمری کاتفصیل سے جائزہ لیاگیا اوربعض تبدیلیوں کے ساتھ ٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات کی منظوری دی گئی۔

فیصلوں کے مطابق ای سی سی نے ہر قسم کی گاڑیوں کی درآمد پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کرنے کے علاوہ 50 کلوواٹ آورز (KWH) سے زائد بیٹری پاور کی برقی گاڑیوں (الیکٹرک) کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ اس ضمن میں بسوں اور ٹرکوں کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے مقامی کار ساز اداروں کے دباؤ کی وہ سے برقی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی شروع کردی ہے حالانکہ اب دنیا بھر میں برقی گاڑیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

ای سی سی نے 1500 سی سی سے لے کر 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 15 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کی بھی منظوری دی۔ حکومت کا موقف ہے کہ ڈیوٹیوں میں اضافہ درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے جو مستقل بڑھ رہا ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں کی درآمد بھی شامل ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں آر ایل این جی درآمد کرنے والے صنعتی صارفین کے لیے چالیس ارب روپے بطور سبسڈی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ اقتصادی راہداری کے تحت چین کی جانب سے لگائیگئے پاور پلانٹ کے واجبات کی مد میں حکومت نے 50 ارب روپے ادائیگی کی بھی منظوری دی جبکہ ان کمپنیوں پر حکومت کے ذمے 250 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے ٹریڈنگ کارپویشن آف پاکستان کے زریعہ چین سے یوریا کی درآمد سے متعلق سمری پیش کی گئی،ای سی سی نے تفصیلی بحث کے بعد پاکستان سٹینڈرڈ اینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی سے کلئیرنس ملنے کے بعد چین سے حکومتی سطح پر 50 ہزارمیٹرک ٹن یوریا کی فوری درآمد کی اجازت دیدی۔

ٹریڈنگ کارپویشن آف پاکستان کوچینی حکومت کے منظورشدہ سپلائیر سے یوریا کی قیمت پربات چیت کا ہدف بھی دیا گیا۔اجلاس میں پیٹرولیم ڈویڑن اورپاورڈویڑن کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی،اجلاس میں پاورڈویڑن کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی تاہم اسے وزارت خزانہ سے مفاہمت سے مشروط کردیا گیاہے۔