Official Website

افغانستان میں غربت کے باعث والدین اپنی بچیاں فروخت کرنے پر مجبور، اے ایف پی

96

کابل:
جنگ سے زخم خوردہ افغانستان میں غربت اور بھوک کے باعث والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے جنگ جھیلنے والے افغانستان میں اب حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں غربت، بھوک اور افلاس کی وجہ سے والدین نے اپنے کم سن بچوں اور بچیوں کو فروخت کرنا شروع کردیا ہے تاکہ خاندان کے دیگر افراد کی شکم کی آگ بجھا سکیں۔

اے ایف پی کے نمائندوں نے صوبے بدغیث کے دارالحکومت قلعہ نو کے پناہ گزین کیمپ دورہ کیا اور کیمپوں میں رہنے والے پناگزینوں سے ملاقاتیں کی۔ یہ انہی لوگوں کی دکھوں کی درد بھری داستان ہے۔

فہیمہ کی آنکھوں کے آنسو اُس وقت سے تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں جب سے ان کے شوہر نے دوبیٹیوں 6 سالہ فرشتہ اور 18 ماہ کی شوکریہ کی رقم کے عوض شادی طے کردی ہے۔

بچیوں کے والد نے روتے ہوئے بتایا کہ بڑی بیٹی کی 3 ہزار 350 ڈالر اور چھوٹی بیٹی کی 2 ہزار 800 ڈالر کے عوض شادی طے کی ہے۔ دونوں دلہا بھی ابھی کم سن ہیں۔

دکھ، شرمندگی اور ندامت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بے بس والد نے مزید بتایا کہ یہ رقم دلہا کے والدین ہمیں ابھی قسطوں میں ادا کر رہے ہیں جس سے گھر کا خرچہ چل رہا ہے جیسے ہی رقم پوری ہوجائے گی بیٹیوں کو رخصت کردیں گے۔

فہیمہ نے شوہر کو دلاسہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر اُن کے شوہر نے ایسا نہیں کرتے تو ہم سب ہی ایک ایک کرکے بھوک سے مرجاتے۔

بھوک و افلاس سے شدید متاثرہ صوبے بدغیث کے دارالحکومت میں صرف فہیمہ ہی بدقسمت نہیں، پڑوسی 25 سالہ بیوہ صبیرہ پر پرچون کی دکان والے کا قرضہ چڑھ گیا اور دکاندار نے قرضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جیل بھیجنے کی دھمکی دینے لگا۔

اب بیوہ خاتون صبیرہ کے پاس اب کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ اپنی 3 سالہ بیٹی زخیرح کو دکاندار کے 4 سالہ بیٹے ذبیح اللہ کے نکاح میں دیدے۔ رخصتی دونوں کے بالغ ہونے پر ہوگی اور تب تک بیوہ خاتون کو دکان سے اجناس ملتا رہے گا۔

اپنے نصیبوں کو کوستی بیوہ خاتون نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مجھے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے لیکن ہمارے پاس اب نہ تو کھانے کو خوراک ہے اور نہ ہی پینے کو پانی۔

گل بی بی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، وہ اشیائے ضروریہ کے لیے لیے گئے قرضے کو اتارنے کے لیے اپنی 9 سالہ بیٹی کو 23 سال کے نوجوان کے ساتھ بیاہنے پر مجبور ہوئی جس کے خاندان نے گل بی بی کو قرضہ دیا تھا۔

قلعہ نو کے کیمپ میں ہی محمد حسان نے روتے ہوئے اپنی 9 اور 6 سالہ بیٹیوں کی تصاویر دکھائیں جو اب کسی دور دراز علاقے میں پیسوں کے عوض بیاہی جا چکی ہیں اور اس کے بعد سے والدین سے مل بھی نہیں سکی ہیں۔

حسان کو اب ایک نئی مشکل درپیش ہے، اس کی بیمار بیوی داد گل کی ادویہ کے باعث قرضہ چڑھ گیا ہے جسے اتارنے کے لیے اب انھیں اپنی 4 سالہ تیسری بیٹی کی بھی قرض اتارنے کے عوض دکاندار کے بیٹے سے شادی کرنا ہوگی۔

حسان کی بیمار بیوی داد گل کہتی ہیں میں کسی دن پاگل ہوجاؤں گی اور کیمپ سے بھاگ نکلوں گی اور نہیں معلوم کہاں جاؤں گی۔

ایک اور 43 سالہ بیوہ خاتون رابعہ کے حالات قدرے مختلف ہیں انھوں نے جیسے تیسے کرکے اپنی بیٹی کو 12 سال سے اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے، وہ 550 ڈالر جمع کررہی ہیں۔

رابعہ کا 11 سالہ بیٹا ایک بیکری میں کام کرتا ہے اور 9 سالہ بیٹا کچرا چنتا ہے تاکہ بہن کے سسرال والوں کو قرضہ چکا دیں اور بے جوڑ شادی سے جان چھوٹ جائے۔

لیکن اب رابعہ کی بیٹی کے سسرال والے رخصتی کے لیے بضد ہیں اور رابعہ مزید ایک سال کی مہلت کی بھیک مانگ رہی ہے۔

ملک کے تیسرے بڑے شہر ہرات کے نواحی علاقوں میں بھی حالات بہتر نہیں، بے زمین ہوجانے پر علاؤالدین نامی کسان اپنی 10 سال بیٹی کو فروخت کرنے پر مجبور ہوا اور ایسا ہی چلتا رہا تو شاید 5 سالہ بیٹی کو بھی بیچنا پڑے۔

یہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، آواز بھرائی ہوئی تھی اور آنکھیں اس کی زمین کی طرح بنجر تھیں۔

قلعی نو کے کیمپ کے سربراہ نے بتایا کہ کم عمری میں شادی افغانستان کی قدیم روایت ہے جو اب دم توڑنے لگی تھیں اسی طرح شادی کے عوض دلہا کے خاندان سے رقم لینے کی رسم بھی تقریباً ختم ہوگئی تھی لیکن بھوک اور افلاس نے دوبارہ ہمیں پرانی نہج پر لے آیا۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کو قحط کا سامنا ہے اور نومبر سے 2 کروڑ 28 لاکھ افراد کو غذائی قلت کا سامنا ہوگا۔

صوبے بدغیث کے نگراں گورنر مولوی عبدالستار نے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا کہ کم عمری میں شادی کی بنیادی وجہ غربت ہے یہ نہ تو امارت اسلامیہ افغانستان کا قانون ہے اور نہ ہی کوئی شرعی حکم۔