Official Website

باجوڑ میں پانی کے بحران نے سنگین صورتحال اختیار کرلی

44

بڑا انسانی المیہ قریب
باجوڑ میں پانی کے بحران نے سنگین صورتحال اختیار کرلی
زیر زمین پانی کی سطح 32فٹ نیچے ہے، حکومت سمیت عوام کی غفلت نے خطرے کی گھنٹی بجادی
باجوڑ صوبہ خیبر پختونخواہ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ اضلاع میں چوتھے نمبر پرہے

تحریر: حنیف اللہ

ضلع باجوڑ کے گائوں اسلام گٹ کے لوگ پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی سے محروم ہیں۔ اس گا ئوں کے لوگوں کا انحصار قدرتی چشموں پر ہے تاہم وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہورہے ہیں۔ اس گائوں کی16سالہ لڑکی عظمی روزانہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے دو کلومیٹر دور سے اپنے سر پر پانی لانے پر مجبور ہیں ۔ عظمی کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی مشکل عمل ہے لیکن پانی تو لانا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمارا جینا مشکل ہے ۔ اسلام گٹ کی آبادی 1102افراد پر مشتمل ہیں۔ اس گائوں کا ذیادہ تر انحصار قدرتی چشموں پر ہیں لیکن قدرتی چشموں آہستہ آہستہ خشک ہورہے ہیں۔ یہاں کے مقامی باسی محمد طاہر کا کہنا ہے کہ گائوں اسلام گٹ میں ہمارے علاقہ میں 15سے زائد قدرتی چشمے خشک ہوگئے ہیں۔ اور اب صرف پانچ رہ گئے ہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ اب لوگوں نے ڈرلنگ شروع کردیا ہے لیکن پانی کی سطح بہت ذیادہ نیچے ہیں اور اکثر ڈرلنگ ناکام ثابت ہورہی ہیں ۔ لوگ متبادل کے طورپر ڈگ ویل بناتے ہیں اور پھر سولر سسسٹم سے چلاتے ہیں جس پر 10 لاکھ سے لیکر 12 لاکھ روپے خرچ آتاہے ۔ لیکن یہ ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے اور اکثر شمسی توانائی کے ٹیوب ویل حکومت ہی بناتے ہیں۔ قدرتی چشمے خشک ہونے کیوجہ سے لوگ اور خصوصاخواتین دور دراز علاقوں سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں۔
ضلع باجوڑ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث پانی کی سطح نیچے جانے سے نہ صرف لوگوں کومشکلات کا سامنا ہے بلکہ ماہی گیری کی صنعت بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔اس حوالہ سے محکمہ فشریز باجوڑ کے ریسرچ آفیسر محمد ریاض نے بتایا کہ ہمارے محکمہ نے سال2017میں ماہی گیری کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے 26ماڈل فش فارم قائم کئے اوران میں مچھلیاں چھوڑے گئے تھے ۔لیکن پانی ختم ہونے کیوجہ سے 23فش فارم ختم ہوگئے جبکہ تین فارم موجودہ وقت میں فعال ہیں۔ محمد ریاض کے مطابق ایک فارم پر تقریبا تین لاکھ روپے خرچ آیا تھا یعنی 69لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں صرف تین فارم فعال ہیں ۔ ریاض کے مطابق مذکورہ فارموں میں سالانہ دس ہزار مچھلیاں چھوڑی جاتی تھیں ۔ لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہواہے کیونکہ 23فارم پانی نہ ہونے کیوجہ سے ختم ہوگئے ہیں۔
پانی کے غیر ضروری استعمال سے خیبر پختونخواہ کے پانچ اضلاع میں زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلاگیا ہے، پانی کی سطح مزید تیزی کیساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔ وزارت آبی وسائل کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں انکشاف ہواہے کہ خیبر پختونخواہ کے پانچ اضلاع کا زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جارہاہے اور گزشتہ دس سال میں زیرزمین پانی25سے74فٹ تک نیچے جاچکاہے،خدشہ ظاہر کیاگیاہے کہ اگر اسی رفتار سے پانی کی سطح کم ہوتی رہی تو آئندہ چند سال میں ان اضلاع میں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے،تحریر ی جواب کے مطابق خیبر پختونخواہ میں 28اضلاع ایسے ہیں جہاں زیر زمین پانی مسلسل نیچے جارہاہے اور اس میں پانچ اضلاع سب سے ذیادہ متاثر ہے جن میں سب سے ذیادہ متاثر ہونیوالا ضلع خیبر ہے جہاں گزشتہ 10سال میں زیر زمین پانی74فٹ نیچے چلاگیاہے ، دوسرے نمبر پر ضلع ہری پور ہے جہاں گزشتہ 10سال میں زیر زمین پانی61.50فٹ نیچے چلاگیاہے ،تیسرے نمبر پر ضلع مہمند ہے جہاں زیر زمین پانی 5742فٹ نیچے چلاگیاہے ،چوتھے نمبر پر ضلع باجوڑ ہے جہاں زیر زمین پانی 32.79فٹ نیچے چلاگیاہے ، پانچویں نمبر پر ضلع کرم ہے جہاں زیر زمین پانی 25.75فٹ نیچے چلاگیاہے، دستاویزات کے مطابق گزشتہ دس سال میں زیر زمین پانی مسلسل نیچے جارہاہے اور ہر سال اس کے شدت میں اضافہ ہورہاہے۔
پانی کے غیر ضروری استعمال کے حوالہ سے ضلع باجوڑ کے سماجی کارکن حبیب الحسن یاد نے کہا کہ پانی کے استعمال کے حوالہ سے شہری اور دیہات کی آبادی کو علیحدہ مد نظر رکھ ہم بات کرسکتے ہیں۔ دیہات میں صاف پانی کو ایریگشن کیلئے حد سے زیادہ استعمال کیا جاتاہے کسان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس فصل کو کتنا پانی چاہیے۔ وہ کونسی سبزیاں ہے جس کو کم پانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایریگیشن کے مناسب اوقات کو دیکھ کر کافی پانی بچایا جاسکتا ہے۔ دیہات میں بھی ٹینک والے واش رومز میں اضافہ ہورہاہے۔ غسل خانوں میں لیکیج کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ شہری آبادی میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کے کمی یا فرسودہ انفراسٹرکچر بہت اہم ہے۔ جگہ جگہ ہم دیکھتے ہیں کہ پائپ لیک ہوتا ہے اور پانی کا بے جا اخراج ہورہاہے لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح گھروں کے اندر بھی پانی کا بے جا استعمال، دن میں دو مرتبہ گھروں کے فرش دھونا وغیرہ شامل ہیں۔