Official Website

سانحہ مری …ذمہ دار کون ؟

ملکہ کوہسارنے ملک کو سوگوار کردیا

12

ملکہ کوہسارنے ملک کو سوگوار کردیا
سانحہ مری …ذمہ دار کون ؟
کیا ہم اس سانحہ سے کچھ سیکھ سکھیں گے یا کچھ دن افسوس کے بعد پھر ویسے ہی اپنی دنیا میں مگن ہو جا ئیں گے
سیاحت کا فروغ صرف باتوں سے ممکن نہیں بلکہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے انفراسٹرکچر بہتر کیا جا تا ہے
وفاقی دارلحکومت سے ایک گھنٹے کی مسافت کے سیاحتی مقام کا یہ حال ہے تو پھر دوردراز سیاحتی مقامات کی حالت زار کیا ہوگی
ڈیک
مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں کیا رکیں ،زندگی بھی تھمنے لگی ، اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا موسم کی یخ بستی اور تیز پڑنے والی برف نے قدم روک لئے کہ بچوں کو لیکر کیسے پیدل جایا جا ئے ،واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے کو ترجیح دی گئی اور تھنڈ سے بچنے کیلئے ہیٹر لگا لیے گئے ،اور انتظامیہ کی راہ تکنے لگے کہ ابھی کوئی مدد آئے گی ۔موت کا فرشتہ آگیا مگر مدد نہ آئی
ڈیک
فیملی اور بچوں کے ساتھ مری سمیت کسی ہل اسٹیشن پر جاتے سے قبل فرسٹ ایڈ سمیت ضرورت کی ہر وہ چیز ساتھ رکھیں کہ جو کسی بھی قدرتی آفت یا موسم کی گرمی سردی میں کام آ سکے ،ساتھ ہی موسم کی اپڈیٹ ضرور رکھیں
شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
برف کی چادر اوڑھ کر
مٹ گئے کئی نام و نشاں
ملکہ کوہسار مری ہمیشہ سے لوگوں کیلئے ایک خوبصورت سحر انگیز خواب جیسا رہا ،جیسے ہر شخص جاگتی آنکھوں دیکھنے کا خواہش مند ہے ،یہی وجہ ہے کہ ملکہ کوہسار نے ابھی سفید چادر اوڑھی ہی تھی کہ سیاحوں نے مری کا رخ کر لیا ،مری کی سیاحت کے خواب کو تقویت حکومت کے اعلانات نے بھی دی کہ سیاحت کے بہترین انتظامات موجود ہیں ،نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی جا رہی اور پرانے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سہولیات کا انتظام موجود ہے ،سادہ پاکستانی عوام حکومت کے سبز باغوں کو حقیقت سمجھ بیٹھی ،بچوں کو سکول سے چھٹیاں کیا ہو ئیں والدین نے بچوں کی خواہش پر سیاحتی مقامات کا رخ کیا ۔ملک کے مختلف شہروں سے سیاحوں نے مری کا رخ کیا وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ شائد ان کی زندگی کا یہ آخری سفر ہو ،مری میں ایک موت کا سایہ تھا جو بچوں سمیت 22افراد کی جان لے گیا ،مری میں شدید برف باری نے بڑے سانحہ کو جنم دیا جو ذہنوں پر نقش ہوگیا ،جس سے ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار ہے ۔صرف 3 فٹ برف پڑی اور 22 قیمتی جانیں چلی گئیں، کوئی بچوں سے محروم ہو ا توکسی کا پیارا اس دنیا سے رخصت ہو گیا ۔
روئے ،چیخے ،کانپے ،تڑپے آہ بھر کر مر گئے
کتنے سپنے برف خانے میں ٹھٹھر کر مر گئے
مری میں ایک طرف شدید برف باری ،دوسری طرف سیاحوں کا سیلاب ،انتظامیہ کی لاپرواہی ،راستوں کی بندش ٹریفک جام اور گاڑیوں میں پھنسے سیاح ،صبح کے وقت سوشل میڈیا پر گاڑیوں میں پھنسے افراد کی لاشیں دیکھ کر پورے ملک میں کہرا م مچ گیا ۔۔۔۔
برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عوام کو خوشخبری سنائی”ملک میں سیاحت فروغ پارہی اور لوگ اتنے خوشحال ہو چکے کہ لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچ گئی ہیں ،ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگران سیاحوں کیلئے حفاظتی انتظامات کی طرف کسی کی نظر نہ گئی ۔
ملکہ کوہسار میں گذشتہ اتوار سے ہفتہ 8جنوری 2021تک ملک بھر سے 1لاکھ 60ہزار سے زائد سیاحوں کی گاڑیاں داخل ہوئیں ،جن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق4لاکھ سے زائد سیاح موجود تھے ،جبکہ جمعرات تک 1لاکھ 6ہزار گاڑیاں مری سے آوٹ ہوئیں ہیں ،یوں جمعہ 7جنوری 2022تک مری میں کل تک 55ہزار سے گاڑیاں موجود تھیں ،جن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیاح مری میں تھے۔ایسے میں حکومت کو موسم کی شدت اور انتظامات پر گہری نظر رکھنی چاہیے تھی ،تاکہ سیاح کسی مشکل سے دوچار نہ ہو تے مگر غفلت کی انتہا نے ایک رات میں سیاحت سے موت کا سفر طے کر لیا ۔ گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کر دیا ،۔ ایسے میں موسم نے بھی تیور دکھائے اور یخ ہوائوں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی محکمہ موسمیات دے چکا تھامگر نہ سیاحوں کی رہنمائی کی گئی اور نہ ہی ان کو روکا گیابس صرف سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہاجبکہ مشکل میں پھنسے سیاح مدد مدد پکار رہے تھے ۔مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں کیا رکیں ،زندگی بھی تھمنے لگی ، اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا موسم کی یخ بستی اور تیز پڑنے والی برف نے قدم روک لئے کہ بچوں کو لیکر کیسے پیدل جایا جا ئے ،واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے کو ترجیح دی گئی اور تھنڈ سے بچنے کیلئے ہیٹر لگا لیے گئے ،اور انتظامیہ کی راہ تکنے لگے کہ ابھی کوئی مدد آئے گی ۔موت کا فرشتہ آگیا مگر مدد نہ آئی ۔۔۔ ہمارے ادارے شاید ستو پی کر سو رہے جو صرف لوگوں کے مرنے کے بعد ہی جا گتے ہیں ،اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال( جو اپنے بچوں اور بھتیجوں کے ساتھ برفباری کا لطف اٹھانے کیلئے مری گئے تھے )کی امداد کے سلسلے میں کی گئی ٹیلی فون کالز لوگوں کو ریسکیوکی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی کا پول کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ایک پولیس آفیسر اور اسکے بچوں کو 20گھنٹے گذرنے کے باوجود ریسکو کی سہولت نہ فراہم کرنا اور ان سب کا موت کی وادی میں اتر جانا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔
دوش دیتے کس کو اپنے قتل کا معصوم لوگ
خود پہ اپنی موت کا الزام دھر کے مر گئے
یہ صورتحال کیوں پیدا ہو ئی اور اس کی وجوہات کیا ہیں ان کو جاننا بہت ضروری ہے ،سب سے اہم چیز کہ سیاحتی مقام پر پارکنک کی سہولت سب سے پہلے ہو نی چاہیے ،مگر ہمارے ہاں پارکنگ کو اتنی اہمیت دی ہی نہیں جاتی یہی وجہ ہے کہ صوبے کا سب سے اہم ترین سیاحتی مقام اور ملکہ کوہسار مری میں ملک کے طول عرض سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لیئے صرف 3374گاڑیوں کی سرکاری پارکنگ موجود ہونے کاانکشاف ہواہے،دوسری جانب تبدیلی سرکار کے دور میں سیاحوں کو سہولتیں اور معیاری رہائش گاہیں فراہم کرنے کے لیئے مر ی کے دو اہم ترین مقامات جھیگا گلی بائی پاس اور مال روڈ پر ان گنت ہوٹلوں کی تعمیرکی اجازت دی گئی لیکن تعمیر کے دوران پارکنگ کا کوئی انتظام نہ کیا گیا،اور نہ ہی اس سلسلے میں سٹی ٹریفک پولیس سے مشاورت لی گئی ہے ،جس کی وجہ سے سٹی ٹریفک پولیس نے ان دو مقامات کو اپنے سرکاری کاغذات میں ؛ٹربل پوائنٹ ؛ڈکلیئر کیا ہواہے۔ جب ٹریفک کا اہم ترین ادارہ آپ کومسئلے کی نشاندہی کر رہا ہے تو اس طرف توجہ دینا حکومت کا فرض ہے مگر تبدیلی سرکار صرف دعوئوں اور باتوں پر یقین رکھتی ہے عملی اقدامات پر نہیں ۔انتظامیہ کا کہیں کنٹرول نظر نہیں آتا ،یہی وجہ ہے کہ سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے ساتھ بدتر سلوک کیا جا تا ہت اور انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا تا ہے ۔یہی حال مری میں سیاحوں کے ساتھ ہوا ۔ایک طرف موسم کی شدت اور دوسری طرف ہوٹل انتظامیہ کا لوٹ مار کا رویہ اس روز بھی جب سیاحوں کی گاڑیوں میں پٹرول ختم ہوگیا ، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوگئیں۔لوگ شدید ٹھنڈ میں اپنی اپنی گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ سردی کی شدت بڑھ گئی۔ گاڑیوں کے ہیٹنگ سسٹم کام کرنا چھوڑ گئے ۔ گاڑیوں میں پھنسے لوگ دم گھٹ کے باعث مرنے لگے ، تو کسی مقامی باشندے ،تاجروںاورہوٹل مالکان نے کسی پریشان حال مسافرکی کوئی مدد نہ کی ۔ یہ وہ شہر ہے کہ جہاں سیاحوں کو 100 والی چیز 1000 میں بیچی جاتی ہے ،۔عام دنوں میں جس ہوٹل کا کرایہ 3000 ہوتا ہے سیزن میں اس کے 15000 ہزار تک لئے جاتے ہیں۔ صرف گاڑی پارک کرنے کے 500 سے1000 روپے تک چارج کئے جاتے ہیں۔ گاڑی کو دھکا لگانے کے2000 اورچین لگانے کے 15000 وصول کئے جاتے ہیں۔ گویا پریشان حال مجبور و بے بس پردیسوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے ۔اس رویے کی وجہ سے بھی لوگ گاڑیوں میں محصور ہو نے پر مجبور ہو ئے ۔مری والوں کو حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ یہی یہی سیاح مری والوں کی آمدن کا ذریعہ ہیں ۔اگر سیّاح مری کا رخ نہ کریںتو سیاحت ختم ہو جائے اور ان کا روزگار بھی ۔اس حوالے سے انتظامیہ اوت ہوٹل ایسوسی ایشن کو اپنا کردار داکرنے کی ضرورت ہے کہ ہوٹل اپنی کیٹگری کے حساب سے بل چارج کریں اور زیادہ چارج کرنے کی صورت میں ان سے سختی سے نمٹا جا ئے ۔وفاقی دارلحکومت سے ایک گھنٹے کی مسافت کے سیاحتی مقام کا یہ حال ہے تو پھر دوردراز سیاحتی مقامات کی حالت زار کیا ہوگی۔۔۔۔حکومت کو سوچنے ،سمجھنے اور متعلقہ ادارون کے خلاف بھرپور ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔۔۔
حکومتی کارکردگی اپنی جگہ مگر ہماراایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم سفر پر نکلتے وقت احتیاطی تدابیرپر یکسر دھیان نہیں دیتے ،ہمیں چاہئے کہ ہم فیملی اور بچوں کے ساتھ مری سمیت کسی ہل اسٹیشن پر جاتے سے قبل فرسٹ ایڈ سمیت ضرورت کی ہر وہ چیز ساتھ رکھیں کہ جو کسی بھی قدرتی آفت یا موسم کی گرمی سردی میں کام آ سکے ۔ساتھ ہی موسم کی اپڈیٹ ضرور رکھیں ۔
مری سانحہ میں مرنے والوں کی موت کی وجہ کوئی بھی ہو ہمیں اس سانحہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے ہمیں باتوں ،دعوئوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ انتظامیہ اگر اپنا بھر پور کردار نبھائے تو سانحات سے بچا جاسکتا ہے ،نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی تربیت دی جائے لوگوں کو آگاہی دی جا ئے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی نظر آئی ہے ،حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاحت کا فروغ صرف باتوں سے ممکن نہیں بلکہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں۔انفراسٹرکچر بہتر کیا جا تا ہے ،پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے رواں دواں رہتی ہیں ،کہیں معمول کی زندگی نہیں رکتی نہ ہی علاقوں اور راستوں کو سیاحوں کیلئے بند کیا جا تا ہے کیونکہ اگر ایسے اقدامات ہو ں تو سیاحت اپنی موت آپ مر جائے ، تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ اور ان کا حق ہے کہ انہیں سیاحت کے بہترین مواقع فراہم کئے جا ئیں ۔ اس سانحے کی روشنی میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ آئندہ اس قسم کی صورتحال میں عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔دیکھا گیا ہے کہ مری جانے والوں کو بسااوقات واپس آنے میں دشواری پیش آتی ہے ،کیونکہ اکثرمقامات پر یو ٹرن ہی موجود نہیں ہے ۔۔ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے داخلی راستوں سے زیادہ خارجی راستوں کا ہونا ضروری ہے ۔دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی ایمرجنسی میں کوئی بندہ واپس آنا چاہے تو اسے راستہ ہی نہیں ملتا،اس لئے حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مری میں جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے ،لواحقین کو صبرجمیل عطافرمائے ۔اور ہم سب کو دکھی انسانیت کی خدمت کی توفیق عطافرمائے ۔آمین ۔

٭ کاشف نویدترجمان سٹی ٹریفک پولیس

سٹی ٹریفک پولیس کے ترجمان کاشف نوید کے مطابق سابقہ ادوار میں تعمیرات پر پابندی تھی موجودہ دور میں تعمیرات س پابندی اٹھائی گئی مگر ہوٹل بنے مگر پارکنگ کی سہولت ان میں سے کسی ہوٹل میں نہیں ۔اور نہ ہی اس سلسلے میں ٹریفک پولیس کے ڈیپارٹمنٹ سے کوئی مشاورت کی گئی یہی وجہ ہے کہ مری میں ہوٹلوں کی تعداد بڑھ گئی ہے مگر پارکنگ پلازہ نہ ہونے سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ 3374سرکاری پارکنگ والے سیاحتی مقام ملکہ کوہسار میں گذشتہ اتوار سے ہفتہ 8جنوری 2021تک ملک بھر سے 1لاکھ 60ہزار سے زائد سیاحوں کی گاڑیاں داخل ہوئیں ،جن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق4لاکھ سے زائد سیاح موجود تھے ،پچھلی اتوار کو 33ہزار،پیر کو 23ہزار،منگل کو 44ہزار،بدھ کو 8ہزار،جمعرات کو 17ہزار ،جمعہ کو35ہزار سے زائد سیاحوں کی گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں ،جبکہ جمعرات تک آوٹ 1لاکھ 6ہزار گاڑیاں مری سے آوٹ ہوئیں ہیں ،یوں جمعہ 7جنوری 2022تک مری میں کل تک 55ہزار سے گاڑیاں موجود تھیں ،جن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیاح مری میں تھے ،ماضی میں سٹی ٹریفک پولیس اس طرح کے رش کی صورت میں مری کی تمام سٹرکوں کے کنارے پر ایک ایک گاڑ ی کی پارکنگ کی اجازت دے دیتی تھی لیکن اس بار سڑکوں پر برف اس قدر زیادہ تھی کہ وہاں گاڑیاں کھڑی کرنے کی گنجائش ہی نہ رہی جس کی وجہ سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل وائر لیس پر ہائی وے کی مشنری کو سٹرکوں سے برف ہٹانے کا میسج دیتے ہرہے ،کچھ جگہوں پر برف ہٹانے کا کام جاری بھی تھا مگر برف اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی ایک کلومیٹر کی صفائی کرکے واپس آتی تو سٹرک پر پھر سے برفپڑ جاتی ،ہمارے اپنے لوگ گاڑیوں کے ستاھ ڈیوٹی دیتے رہے اور برف ہٹانے میں مصروف رہے ،انہوں نے کہا کہ جس طرح کی برف باری تھی اس میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ بانسہ گلی سے سنی بینک تک ایک گاڑی ،سنی بینک سے گلڈنہ تک ،دوسری گاڑی اور گلڈنہ سے باڑیاں تک ایک گاڑی سڑک کی صفائی اور برف ہٹانے پر معمور ہو تی تو کسی حد تک روڈ کلئیر رہتا مگر شاید ان کے پاس گاڑیاں کم ہیں یا پھر ور ک فورس،جس کی وجہ سے برف ہٹانے کا کام بھی آہستگی کا شکار رہا ۔اسی طرح نمک کے ڈمپنگ پوئنٹ مین چوکوں میں ہو نا چاہیے تاکہ نمک پاشی جلدی سے کی جا سکے ۔،

٭راجہ عرفان عباسی
چئیرمین ہوٹل ایسوسی ایشن مری

برف باری میں اس طرح کا سانحہ پیش آنا اور لوگوں کا زندگی سے ہاتھ دھو دینا یقیناافسوسناک ہے لیکن جس طرح سے سارا الزام ہوٹلوں پر لگایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے لوٹ مار کی ایسا درست نہیں ،جب رش ہوتا ہے یاسیزن ہوتا ہے تو ریٹ تھوڑے بڑھ جاتے ہیں مگر ایسا کہنا بالکل درست نہیں کہ بیس سے پچاس ہزار وصول کئے گئے ،سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں میں سچائی نہیں ،مری میں تقریباً 450کے قریب ہوٹل ہیں جن میں سے 60فیصد باہر کے لوگوں نے خرید رکھے ہیں ،مقامی لوگوں کے پاس کم ہوٹل رہ گئے ہیں ۔ان ہوٹلوں میں ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ باآسانی رہ سکے ہیں ،جس دن یہ سانحہ پیش آیا آدھا مری خالی تھا ہوٹل خالی پڑے تھے ،سانحہ کی وجہ یہ ہے کہ برف باری کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر پھنس گئے ۔راستہ ہی نہیں ملا ۔سڑکیں تنگ ہیں سیاحوں کی تعدادبڑھ رہی ہے گاڑیاں بڑھ گئیں ہیں پارکنک کی سہولت نہیں ،ٹریفک جام سے لوگوں کی گاڑیوں کا فیول ختم ہو گیا وہ ہوٹلوں تک پہنچ ہی نہیں سکے ۔4فٹ کے قریب برف پڑی جس سے گاڑیوں کی رفتار سست رہی اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔ہم اپنے ہوٹلوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھتے ہیں ہماری ایسوسی ایشن میں ساڑھے تین سو سے زیادہ ہوٹل ہیں ۔اور وہ کبھی بھی بہت زیادہ کرایہ یا کھانے پینے کا بل وصول نہیںکرتے ۔