Official Website

جو کسی کے سہارے حکومت بناتے ہیں وہ عوام نہیں آئی ایم ایف کی ہی بات مانتے ہیں، بلاول بھٹو

35

اسلام آباد:
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جو کسی اور کے سہارے حکومت بناتے ہیں وہ عوام کی بجائے آئی ایم ایف کی ہی بات مانتے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ منی بجٹ پیش کرنا ثبوت ہے کہ یہ حکومت معیشت کے معاملے پر ابہام کا شکار ہے، ہم نے پہلے روز کہا تھا کہ معاشی کنفیوژن معاشی طور پر موت کے مترادف ہے، آئی ایم ایف میں نہ جانے کا اعلان کرکے پہلے عوام کو مشکلات میں ڈالا اور پھر آپ مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس گئے، آپ کمزور پوزیشن میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے اور ڈیل میں کمزور کی تھی، ہم نے اس وقت کہا تھا کہ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ سے غریب کو نقصان ہوگا، اسے بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 2019 میں قائد حزب اختلاف نے میثاق معیشت کی پیشکش کی، صدر زرداری نے بھی معیشت کی پیشکش کی، اس وقت آپ نے انکار کردیا، پھر آپ نے اکیلے فیصلے لئے، قوم کو نظر آرہا ہے جو کچھ آپ نے کیا، آپ اگر شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی بات مانتے تو آپ کو اس کا فائدہ ہوتا، ایسی صورت میں جب آپ آئی ایم ایف سے ڈیل کرتے تو حکومت یا پارٹی نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی کرتے، مگر آپ کی ضد، انا، پسند ناپسند کی وجہ سے آپ نے عام آدمی کی جیب اور پیٹ پر ڈاکا ڈال دیا، ایک نئے وزیر کے ساتھ ایک نیا بجٹ پیش کردیا، اس وقت بھی آپ کی معاشی کارکردگی نظر آرہی تھی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے کم اشاریے ہم نے کبھی نہیں دیکھے جو منفی پوزیشن پر گئے، جب ہم جنگ لڑ رہے تھے، جب ہم دو ٹکڑے ہوئے، جب عالمی پابندیوں کا سامنا ہوا اس وقت بھی نیگیٹو زیرو فور گروتھ ریٹ نہیں ہوا، آج عمران خان حکومت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، نیا پاکستان کا مطلب، مہنگائی بے روز گاری ہے، ہم جب کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں تباہی ہے تو ہم سچ اور حقائق کہہ رہے ہیں، حکومت یہ روایت ڈال چکی ہے کہ حقیقت کچھ بھی ہو وہ اپنی ہی بات کریں گے، عوام بے شک دکھتے رہیں یہ کہتے رہیں گے کہ پاکستان ترقی کررہا ہے، پاکستان کی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معاشی ترقی کی طرف جارہے ہیں، مگر کہاں۔، آپ نے کہا تھا کہ ہم ٹیکس کا طوفان نہیں لائیں گے مگر آج جنوری میں آپ ٹیکسز کا سونامی لے آئے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان مزید غربت، مہنگائی، بے روز گاری کا بندوبست کررہے ہیں، اگر ترقیاتی بجٹ سے 250 ارب روپے کی کٹوتی ہوگی تو ہر سطح پر اس کا نقصان ہوگا، عوامی حکومت پہلے عوامی ترجیحات کا تعین کرتی ہے، مگر جو کسی اور کے سہارے حکومت بناتے ہیں وہ عوام کی بجائے آئی ایم ایف کی ہی بات مانتے ہیں، آپ ایسی صورت میں عوام کے پاس نہیں جاسکیں گے، کے پی کے میں عوام کے اپنی جھلک دکھا دی ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ منی بجٹ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی بڑھے گی، گاڑیوں پر ٹیکس میں 100 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، 1 ہزار سی سی انجن گاڑی پر ٹیکس میں 100 فیصد اضافہ ہورہا ہے، 1 ہزار سی سی گاڑی غریب محنت کرکے بناتا ہے، گاڑی ، پٹرول اور سائیکل سب کچھ مہنگا کردیا گیا، لیپ ٹاپ، موبائل انٹرنیٹ پر ٹیکس لگایا جارہا ہے، شہباز شریف نے مفت لیپ ٹاپ نوجوانوں میں تقسیم کیے مگر آپ نے الٹا ٹیکس لگا دیئے، آپ نے صرف اس پر بس نہیں کیا بلکہ یہاں تیار ہونے والی الیکٹرانک اشیاء پر بھی آپ نے ٹیکس لگا دیے، آپ کسانوں کا معاشی قتل کررہے ہیں، ایک طرف منی بجٹ، دوسری طرف یوریا مہنگا کررہے ہیں، پاکستان زرعی ملک تھا مگر اس حکومت نے ہر بجٹ میں ملکی معیشت کو تباہ کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے عوام دشمنی دیکھی، غریب دشمنی دیکھی مگر یہ حکومت تو ملک دشمنی پر اتر آئی ہے، جس قسم کا ظلم اس منی بجٹ میں کیا جارہا ہے اس لئے الفاظ تک نہیں، سلائی مشینوں تک پر ٹیکس لگا دیا ہے، آپ نے خاندانی منصوبہ بندی تک کے میٹریل پر ٹیکس لگا دیا، آپ نے بچوں کے دودھ تک کو بھی نہیں بخشا، پھر یہ کہتے ہیں پاکستان سستا ترین ملک ہے، اس پر میں مزید نہیں بولوں گا آپ کو سمجھ آرہا ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ریجن کا سب سے مہنگا ملک ہے، کتنا ڈھیٹ ہوکر بیان بازی کرتے ہیں، پاکستان کے ہر شہری کو پتہ ہے تاریخی مہنگائی ہے، اس مہنگائی کے ذمہ دار صرف اور صرف عمران خان نیازی ہیں۔