Official Website

حکومت اور اسٹیٹ بینک کی کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش

8

کراچی:
اسٹیٹ بینک اور حکومت پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ میں کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی.
ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت پاکستان نے کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کریپٹو کرنسی غیر قانونی ہے اس کرنسی میں کاروبار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اور وزارت قانون 3 ماہ میں حتمی فیصلہ کریں۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے پابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے، کرنسی میں کاروبار کی اجازت کی صورت میں لیگل فریم ورک تیار کیا جائے، کریپٹو کرنسی کا موجودہ اسٹیٹس قانون نافذ کرنے والی ادارے خود طے کریں، متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ جاپان نے کریپٹو کو قانونی شکل دی ہے، ایف آئی اے کریپٹو کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کررہی ہے۔ کریپٹو کو امریکا اور دیگر ممالک کی طرح سوفٹ ویئر کے طور پر تسلیم کیا جائے۔