Official Website

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

39

اسلام آباد:
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، وزیراعظم نے پرویز خٹک کی تنقید پر کہا کہ اگر مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔

وائس آف پاکستان
کے مطابق منی بجٹ پر اجلاس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ٹیکس منی بجٹ میں ترامیم پر گفتگو ہوئی۔

حکومت بنیادی اشیاء ضروریہ پر ٹیکس نہ لگائے، ایم کیو ایم

ایم کیو ایم کے ارکان کا کہنا تھا کہ بنیادی اشیاء ضروریہ پر ٹیکس نہ لگائیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے، کوئی ایسا اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس سے عوام پر بوجھ پڑے۔

حماد اظہر کو گیس اور بجلی کا مسائل کا علم ہی نہیں، پرویز خٹک

اجلاس میں وزیراعظم اور پرویز خٹک آمنے سامنے ہوگئے، پرویز خٹک تین دفعہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئےاور انہوں نے شوکت ترین اور حماد اظہر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حماد اظہر کو گیس اور بجلی کا مسائل کا علم ہی نہیں، شوکت ترین مجھے کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کرسکے۔

یہی رویہ رہا تو منی بجٹ میں آپ کو ووٹ نہیں دیں گے

وزیردفاع پرویز خٹک نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے، آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پس بھی ہم رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو منی بجٹ پر ہم آپ کو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

پرویز خٹک بلیک میل نہ کریں، وزیراعظم بھی برہم

شدید تنقید پر وزیراعظم عمران خان کو بھی شدید غصہ آیا اور انہوں نے وزیر دفاع کو سخت لہجے میں جواب دیا کہ مجھے بلیک میل نہ کریں، ووٹ نہیں دینا تو نہ دیں، اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں، مجھے حکومت کرنے کا کوئی شوق نہیں، میرے کوئی کارخانے نہیں ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک کی تنقید پر وزیراعظم عمران خان اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے۔

اسی سے متعلق : حکومت کی منی بجٹ منظور کرانے کیلیے حکمت عملی تیار

رکن اسمبلی نور عالم کے بھی وزیراعظم سے سخت سوالات

اجلاس میں رکن اسمبلی نور عالم نے بھی سخت سوالات کیے اور کہا کہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی کے ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی کے اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟

اس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے۔ نور عالم نے دوبارہ کہا کہ ہمیں حلقوں میں لوگ کہتے ہیں گیس بجلی پانی دیں، کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس بجلی و پانی ملے گا؟

سگریٹ پینے باہر گیا تھا کہ میڈیا نے ہنگامہ کھڑا کردیا، پرویز خٹک

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران ہوگیا کہ اتنا بڑا طوفان کھڑا کردیا گیا، آپ لوگوں نے اتنا بڑا ہنگامہ کردیا، میڈیا کو کہتا ہوں اسے روکے، میں سگریٹ پینے باہر گیا تھا۔

وزیراعظم کے خلاف نہیں اور نہ ہوسکتا ہوں

انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں گیس کا مسئلہ ہے، میرا سوال تھا ہماری گیس کی اسکیمیں نہ روکی جائیں، ہماری اندرونی باتیں ہیں، پارٹی میں ہر طرح کی بات ہوتی ہے، ہم نے کوئی سخت بات نہیں کی، درخواست کی ہے کہ اسکیمیں نہ روکی جائیں، میں وزیراعظم کے خلاف نہیں اور نہ ہوسکتا ہوں۔

وزیراعظم نے پرویز خٹک کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا اور پرویز خٹک سے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ہونے والی گفتگو پر بات چیت کی۔ اس دوران وفاقی وزیر عمر ایوب بھی موجود تھے۔