Official Website

کابل: افغانستان میں 5.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں گر گئیں اور 26 افراد دب کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مغربی افغانستان میں صوبے بدغیث میں ڈسٹرکٹ گورنر محمد صالح نے بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں گرنے کے سبب 26 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں 5 خواتین اور 4 بچے بھی شامل ہیں۔ بغدیث کے ضلع موقر میں بھی زلزلے کے اطلاع ہے تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے اب تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ 3 دن پہلے افغانستان میں ہندوکش کے علاقے میں بھی زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے جموں و کشمیر تک محسوس کیے گئے تھے تاہم کوئی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں آئی۔

45

ابو ظہبی:
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے آئل ٹینکرز اور زیر تعمیر ایئر پورٹ پر حوثی باغیوں کے مشتبہ ڈرون حملے پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

یو اے ای میں ہونے والے دھماکوں میں ایک پاکستانی سمیت 3 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئےتھے۔ ابوظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دو دھماکے سنے گئے جن میں سے ایک دھماکا 3 آئل ٹینکرز اور دوسرا زیر تعمیر ایئرپورٹ پر ہوا ہے تاہم پولیس نے دھماکے کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا۔

بعدازاں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ اور بین الاقوامی اداروں نے مشتبہ ڈرون حملے کی مذمت کی اور قصورواروں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات دہشت گردانہ حملوں اور مجرمانہ عمل کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘۔

یو اے ای کی وزارت نے ’گھناؤنا جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ ’خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی اور افراتفری پھیلاتا رہا‘۔ وزارت نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان کارروائیوں کی مذمت کرے جو شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

یو اے ای نے تاحال کسی کو واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا

اس سے قبل ابو ظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں آئل ٹینکر کے پھٹنے سے 3 افراد جاں بحق ہوئے جن میں آئل تنصیبات پر کام کرنے والے ایک پاکستانی اور دو بھارتی ملازمین شامل ہیں جب کہ 6 افراد زخمی ہوئے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ایک زخمی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کسی کو واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے اور نہ ہی آئل ٹینکرز پھٹنے کی وجہ سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جب کہ چند روز قبل ہی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

نئے سال کے پہلے روز ہی حوثی باغیوں نے اسلحے کی ترسیل کا الزام عائد کرکے متحدہ عرب امارات کے یمن سے سعودی صوبے جازان جانے والے ایک مال بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرلیا تھا جب کہ امارات کا کہنا تھا کہ جہاز میں ایک اسپتال کے لیے ایمبولینس سمیت ضروری سامان تھا۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عرب عسکری اتحاد میں 2015 میں شمولیت حاصل کی تھی تاہم 2019 میں اپنی سرگرمیاں کم کردی تھیں۔