Official Website

پنجاب میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنیوالے نوے فیصد ڈاکٹرز ناتجربہ کار قرار

36

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنیوالے 90 فیصد ڈاکٹرز کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوے فیصد طبی عملہ جانتا ہی نہیں کہ زخمی کا طبی معائنہ کیسے کرنا ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے محمد ناصر کی اندراج مقدمہ کیلئے دائر درخواست پر 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

محمد ناصر نے زخمی ہونے پر اندراج مقدمہ کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا.عدالت نے محمد ناصر کی اندراج مقدمہ کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنیوالے 90 فیصد ڈاکٹرز ناتجربہ کارہیں ، نوے فیصد طبی عملہ جانتا ہی نہیں کہ زخمی کا طبی معائنہ کیسے کرنا ہے۔ چئیرمین ڈسٹرکٹ اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ بہرہ بنا ہوا ہے۔

عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کم از کم اہلیت پر پورا نہ اترنے والے ماہرین نہیں کہلائے جاسکتے.میڈیکولیگل فوجداری کیسز کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر میڈیکولیگل سرٹیفیکیٹ رائے کی وجوہات بتانے کا پابند ہوگا۔ طبی معائنہ کار کی رائے کی وجوہات پر علیحدہ خانہ بنایا جائے.

عدالتی فیصلہ میں حکم دیا گیا ہے محکمہ صحت ناتجربہ کارڈاکٹر کو سرٹیفکیٹ کی ذمہ داری نہ دے.طبی معائنہ کار کی کم از کم اہلیت کو پیمانہ بنایا جائے. ڈاکٹرز کی محض ایک ماہ تربیت انتہائی کم ہے. میڈیکولیگل کیلئے تربیت کے دورانیہ کو ایک ماہ سے بڑھایا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اور اسکے نگران ادارے فوجداری انصاف کو بھول چکے ہیں۔