Official Website

سمندری طوفان کی شدت میں مسلسل اضافہ، 15 جون کو کیٹی بندر سے ٹکرانے کا امکان

25

کراچی: سمندری طوفان بائپر جوائے مزید قریب آتا جا رہا ہے، جس کا جمعرات 15 جون تک کیٹی بندر بھارتی گجرات سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والے سمندری طوفان بائپر جوائے کا رُخ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران بدستور شمال کی جانب رہا اور اب اس کا فاصلہ کراچی سے 600 اور ٹھٹھ سے 580 کلومیٹر رہ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان کا 14 جون تک شمال کی طرف بڑھتے رہنے کا امکان ہے جس کے بعد یہ شمال مشرق و جنوب مشرقی سندھ اور بھارتی گجرات کے درمیان 15 جون کی دوپہر ٹکرا سکتا ہے۔
قبل ازیں محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ میں بتایا گیا تھا کہ سمندری طوفان ٹھٹھہ سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے، اس کے اِرد گِرد ہواؤں کی رفتار 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے جب کہ طوفان میں 40 فٹ بلند لہریں پیدا ہو رہی ہیں۔

بائپر جوائے 15 جون کی دوپہر تک کیٹی بندر (سندھ) اور گجرات (بھارت) کو کراس کرے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے اثرات کے طور پر کراچی میں 13 سے 16 جون کے درمیان گرج چمک کے ساتھ تیزبارش اور آندھی کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں حیدرآباد، ٹنڈومحمد خان، ٹنڈوالہیار، میرپور خاص میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ 13 سے 17 جون کو ٹھٹھ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ میں گرج چمک کے ساتھ آندھی کا امکان ہے۔

15 جون کی سہ پہر کو سمندری طوفان بھارتی ریاست گجرات کے ساحل پر انتہائی شدید شکل میں موجود ہوگا۔ ممکنہ اثرات کے تحت جنوب مشرقی سندھ کے ساحل تک بڑے پیمانے پر ہواؤں، گردوغبار اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے جب کہ 80 سے 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کے سبب کمزور املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سندھ حکومت نے تمام ضلعی افسران و ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردیں

سمندری طوفان کے اثرات پیش نظر سندھ حکومت نے تمام ضلع افسران و ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور کراچی سمیت ساحلی اضلاع میں کنٹرول روم قائم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ زیر تعمیر عمارتوں پر لگے مٹیریل بھی ہٹانے کا بھی حکم صادر کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت اور کے ایم سی اسپتال ہائی الرٹ پر کردیے گئے ہیں جب کہ ڈی ایم سیز اور کنٹونمنٹ کو بل بورڈ ہٹانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ خطرناک عمارتوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی اور محفوظ مقامات پر منتقلی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف کیمپ قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔

سندھ حکومت نے واٹر بورڈ ڈی واٹریننگ پمپ لگانے، ضلع انتظامیہ ، رینجرز اور کوسٹ گارڈ کو دفعہ 144 پر عمل درآمد یقینی بنانے اور شیشے والی عمارتوں کے مالکان سے بات کرکے حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے سی ای او کو بجلی کھمبوں سے جانوں کا تحفظ یقینی بنانے اور پمپنگ اسٹیشنز کو بلا تعطیل بجلی فراہمی یقینی بنانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔