Official Website

مغربی ممالک سے مذاکرات کا آغاز ہونا ہی ایک بڑی کامیابی ہے، طالبان

28

اوسلو: طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ملاقات ساتھ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوسلو میں طالبان کا وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں اور سول سوسائیٹی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات کا مقصد دو دہائیوں کے جنگ زدہ افغانستان میں انسانی بحران کا حل ڈھونڈنا ہے۔

اوسلو کی برفانی پہاڑی کی چوٹی پر واقع سوریا موریا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ ملا امیر اللہ متقی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہیں لیکن مغرب میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں سے  مذاکرات کا آغاز ہی ہوجانا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر اللہ متقی نے صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا کہ ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مغربی ممالک کا تعاون حاصل ہوگا۔

دوسری جانب عالمی برادری کا اصرار ہے کہ طالبان امداد کی بحالی سے پہلے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور تمام طبقات کو حکومت میں جگہ دینا شامل ہیں۔

اوسلو میں طالبان کے ساتھ مغربی ممالک کے مذاکرات ناروے کی دعوت پر ہورہے ہیں جس میں وزیر خارجہ امیر اللہ متقی کے سربراہی میں طالبان کا وفد امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین اور ناروے کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

طالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں اور اربوں ڈالرز کے فنڈز کو منجمد کردیا گیا تھا جو افغان بجٹ کا 80 فیصد بنتے ہیں۔ فنڈز اچانک رک جانے سے کار مملکت ٹھپ اور آدھی سے زیادہ آبادی بھوک کا شکار ہوگئی ہے۔

مذاکرات کے آغاز سے قبل اتوار کے روز افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایک مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والی اور کثیر النسلی افغان حکومت کے قیام کے لیے ہم اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ  طالبان کے ساتھ اپنے خدشات کے حوالے سے بھی ڈپلومیسی جاری رکھیں گے۔

As we seek to address humanitarian crisis together with allies, partners, and relief orgs, we will continue clear-eyed diplomacy with the Taliban regarding our concerns and our abiding interest in a stable, rights-respecting and inclusive Afghanistan.

— U.S. Special Representative Thomas West (@US4AfghanPeace) January 23, 2022

ناروے نے طالبان اور مغربی ممالک کو مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم تو فراہم کیا ہے تاہم اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے البتہ مذاکرات کی میزبانی کرنے پر ناروے کو کہیں کہیں تنقید کا بھی سامنا ہے اور وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

جس پر ناروے کے وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا مقصد طالبان کو قانونی حیثیت دینے یا تسلیم کرنا نہیں بلکہ جنگ زدہ ملک کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

طالبان کے ساتھ ملاقات کے پہلے دور میں شامل خواتین کے حقوق کی کارکن جمیلہ افغانی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک مثبت ملاقات تھی جہاں طالبان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ طالبان کے اقدامات کیا ہوں گے۔

مذاکرات کے پہلے دور میں شریک ایک اور خاتون کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ طالبان نے ہمارا خیر مقدم کیا اور ہماری بات سنی۔ میں پر امید ہوں کہ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں شکوک کا خاتمہ کرکے افہام و تفہیم پر قائل ہوجائیں گے۔