Official Website

ماہریںِ صحت نے فالج کی شرح میں اضافے پر تشویش کا اظہار کردیا

60

کراچی: ماہرین صحت نے پاکستان سمیت کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فالج کا مرض دائمی معذوری اور دنیا بھر میں انسانی اموات کا سب سے اہم وجہ ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً60  لاکھ اموات  فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ بلڈ پریشر اور تمباکو نوشی اس مرض کے پھیلاؤ کے اہم اسباب ہیں، صحتمندانہ طرزِ زندگی اور مرض سے متعلق آگہی کے فروغ سے فالج  پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے پیر کی شام ’کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کی نگہداشت کی بہتری‘ کے موضوع پرمنعقدہ ایک سمینار کے دوران کہی۔ سیمینار کا انعقاد بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی اور کامسٹیک اسلام آباد کے باہمی تعاون سے ایل ای جے نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر جامعہ کراچی میں ہوا۔ اس سیمینار سے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، ایرانی اسکالر ڈاکٹر مہدی فرہادی، یونیورسٹی آف البرٹا کینیڈا کے پروفیسر ڈاکٹر اشفاق شعیب اور راشد اسپتال دبئی کی ڈاکٹر ماریہ خان نے خطاب کیا۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کے پھیلاو کے مسئلے کو اُجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کامسٹیک او آئی سی مماملک میں سائینس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے، اور اس تناظر میں ایسے پروگرام شروع کیے گئے ہیں کہ جس سے مسلم ممالک میں سائنس اور تحقیق میں کم ترقی یافتہ مسلم ممالک میں بھی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا،

ڈاکٹر اقبال کے مطابق  او آئی سی افریقی ممالک میں بھی متعلقہ شعبہ جات میں کام کیا جارہا ہے۔

پروفیسر محمد واسع نے کہا متعلقہ ممالک میں فالج کے پھیلاو کا تعلق نہ صرف بڑھتی ہوئی عمر سے بلکہ مدنی زندگی سے بھی ہے جبکہ مٹاپا، ورزش کا نہ کرنا، غیر متوازن غذا، زیابطیس، تمباکو نوشی، بلڈ پریشر بھی اس مرض کے پھیلاو کا اہم سبب ہیں۔ ڈاکٹر مہدی فرہادی نے کہا فالج کی صورتِ حال کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں زیادہ آمدن والے ممالک کے مقابلے میں بہت خراب ہے۔

پروفیسر اشفاق شعیب نے کہا کہ فالج دنیا میں سب سے نمایاں معذوری اور اموات کا سبب ہے،  انہوں نے قومی سطح پر اسٹروک یونٹ کے قیام کی اہمیت پر زور دیا جہاں فالج کے مریضوں کا مناسب علاج ممکن ہوسکے، انہوں نے کہا کہ عوام میں بہتر طرزِزندگی اختیار کرنے اور اس مرض سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ماریہ خان نے ’خواتین میں فالج‘ کے موضوع پر لیکچر دیا، انہوں نے کہا ترقی پذیر ممالک میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں فالج سے معذوری اور اموات زیادہ عام ہیں لیکن مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خواتین میں فالج سے اموات کی شرح زیادہ ہے۔ آخر میں اسی موضوع پر ایک پینل ڈسکشن بھی ہوا جس میں ڈاکٹر عبدالملک، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، مصری اسکالر ڈاکٹر اوسامہ یاسین اور ڈاکٹر حسنین ہاشم نے حصہ لیا۔