Official Website

چور، مجرم اور لندن بھاگے شخص کیلئے سپریم کورٹ بار عدالت چلی گئی: وزیراعظم

30

بہاولپور: وزیراعظم عمران خان نے تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ بار کی پٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایک چور، مجرم اور جھوٹ بول کر لندن بھاگے ہوئے شخص کےلیے سپریم کورٹ بار عدالت چلی گئی، عدالت سے کہہ رہے ہیں کہ اسے ایک اور موقع دینا چاہیے، سپریم کورٹ بار اگلی پٹیشن یہ کرےکہ پاکستان میں جیل کھول دیں۔

بہاولپور میں صحت انصاف کارڈ کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن کو نشانے پر رکھا اور سپریم کورٹ بار پر بھی کڑی تنقید کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ساری دنیا حیران ہوگی کہ شہبازشریف کے بیٹے کی شوگرمل میں  10 ہزار روپےمیں کام کرنے والے کے اکاؤنٹ میں 4 ارب کیسے آگئے؟ جب آپ تہہ میں جائیں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ ہمارا ملک اس مقام پر کیوں نہیں پہنچ سکا جہاں پہنچنا چاہیے تھا، اگر آپ فیکٹری پر ڈاکو کو بیٹھا دیں گے تو وہ بھی دیوالیہ ہوجائےگی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دونوں بیٹے لندن میں اربوں روپے کی پراپرٹیز میں بیٹھے ہوئے ہیں، یورپ میں سب سے مہنگا شہر لندن ہے اور لندن کی سب سے مہنگی جگہ پر ان کے اربوں روپے کے گھر ہیں، بچوں کوانہوں نے باہر بھجوا دیا ہے، تین بار کے وزیراعظم سے پوچھو کہ بچوں کے پاس اربوں روپےکیسےآئے؟ تو کہتے ہیں بچوں سے پوچھو مجھے نہیں پتا، بچوں سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ پاکستان کے شہری ہی نہیں ہیں۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر غریب اور مقروض ملک کو دیکھ لیں،  ہر جگہ ڈاکو ملک پر بیٹھ کر پیساچوری کرکے باہر لے جاتے ہیں، جب تک قوم مل کر نہیں لڑتی ، ملک میں قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی، ہمارا مقابلہ ڈاکوؤں کے ٹولے سے ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عدالت میں جا کر کہےگی کہ دیکھیں ایک آدمی جو چوری کرکے ملک سے بھا گا ہواہے، مجرم ہے، جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہے، اسے پھر سے موقع دینا چاہیے، پھر سےمیچ کھیلے، تو پھر چوری میں بری چیز کیا ہے؟ اگر آپ کو  اس میں برائی نظر نہیں آتی تو بیچارے غریبوں کو جیلوں میں کیوں بند کیا ہوا ہے، ان کو سب سے پہلے کھول دیں، سپریم کورٹ بار اگلی پٹیشن یہ کرےکہ پاکستان میں جیل کھول دیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مجھے فلاحی ریاست نظر نہیں آئی ، میں نے برطانیہ میں دیکھا کہ انسانیت کیا ہوتی ہے ، وہاں ڈاکٹرز فرق نہیں کرتے تھے کہ کون علاج کرارہا ہے، میں سوچتا تھا کہ ملک کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے کہاں سے پیسالائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں،  صحت کارڈ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بھی نہیں ملتے،   ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پورے ملک میں اسپتال بنائیں ، ہیلتھ کارڈ سے دیہی علاقوں میں پرائیویٹ اسپتال بنیں گے اور ہیلتھ کارڈ سے پاکستان میں ہیلتھ سسٹم میں انقلاب آئے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں معاشی بحران آیا اور مہنگائی ہوئی، بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی معیشت تیزی سے اوپر جارہی ہے،  نااہل حکومت دنیا کی ٹاپ تھری پوزیشن پر کیسے آگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو کہتا ہوں ، تنقید اچھی چیز ہوتی ہے، تنقید کریں لیکن بیلنس کریں، تنقید تو بہت اچھی چیز ہوتی ہے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔