Official Website

سندھ کابینہ کا بلدیاتی قانون پر اپوزیشن جماعتوں سے معاہدوں پر عملدرآمد کا فیصلہ

20

کراچی: سندھ کابینہ نے بلدیاتی قانون پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات میں طے ہونے والے نکات پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے بلدیاتی قانون پر اپوزیشن جماعتوں سے ہونے والے مذاکرات پرکابینہ کو بریفنگ دی۔کابینہ نے اتفاق رائے سے طے ہونے والے نکات پرعملدرآمد کا فیصلہ کیا اورنکات کو نافذ کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی۔

صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی قانون کا جائزہ لے کر وزیراعلیٰ سندھ کو سمری بھیجے گی۔
وزیراعلی ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں سے جن نکات پراتفاق رائے ہوا ہے اس کولاگو کریں گے۔ کمیٹی نوٹیفائی ہوگی اوراس کے ٹی او آرز بھی نوٹیفائی ہوں گے۔

وزیر جنگلات تیمور ٹالپر نے کابینہ کو جزائر کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کابینہ نے بنڈل اور بڈو جزائر کو پروٹیکٹڈ فاریسٹ ڈکلیئر کرنے اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری دیدی۔

ترجمان کے مطابق سندھ کابینہ نے گندم کی سپورٹ پرائس 2200 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا اور1.4 ایم ایم ٹی گندم خریدنے کی منظوری دی اورخریداری کے لئے4450 ملین روپے کے فنڈز بھی منظور کئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک کو یکم مارچ سے ناردرن سندھ سے گندم کی خریداری کرنے کی ہدایت دی۔ کابینہ نے کوآپریٹو مارکیٹ اور وکٹوریہ مارکیٹ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کی بھی منظوری دیدی۔

ان مارکیٹس میں نومبر 2021 کو آگ لگی تھی جس سے 280 دکانیں جل کر راکھ ہوگئی تھیں۔اس حوالے سے سندھ کابینہ نے 91 کروڑ 52 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی منظوری دی۔

سندھ کابینہ نے ایس ایم بی آر کو ملیر ایکسپریس وے کے ساتھ اراضی کو محفوظ کرنے کی ہدایت دیدی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسٹیل ملز اضافی اراضی بیچ نہیں سکتی۔ سب رجسٹرار کو اس اراضی کو ٹرانسفر نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ جو اسٹیل مل کی اضافی اراضی ہے وہ واپس سندھ حکومت کی ملکیت ہوجائے گی۔

سپریم کورٹ کے کے پی ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی اراضی سے متعلق فیصلے پربھی عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔