Official Website

ججز، بیوروکریٹس کیلئے اسلام آباد کےخصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی اسکیم غیر قانونی قرار

29

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز، بیوروکریٹس اور افسران کے لیے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی اسکیم غیر آئینی قرار دے دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ججر اور سرکاری افسران کو وفاقی دارالحکومت کے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس دینے کی اسکیم سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اسلام آباد کے سیکٹرز ایف 12، جی 12، ایف 14اور 15کی اسکیم ہی غیرآئینی، غیر قانونی، مفاد عامہ کے خلاف قرار دے دیں۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ 17 اگست 2021 کو ایف 14،15 کی قرعہ اندازی میں شفافیت نہیں تھی، ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد ملازمین میں سے ایک لاکھ 26 ہزار کو نظر انداز کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لگتا ہے وزیراعظم اور کابینہ کو اس کے اثرات سے اندھیرے میں رکھا گیا، کابینہ کے سامنے پیش ریکارڈ میں نہیں بتایا گیا کہ الاٹمنٹس کے لیے سلیکشن کا طریقہ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کو نظر انداز کر دیا، ایلیٹ کا خزانے اور عوام کو نقصان پہنچا کر امیر ہونا آئینی معاشرے میں ناقابل تصور ہے۔

فیصلے کے مطابق پلاٹس کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں شفافیت ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں دکھایا گیا، نظرثانی شدہ پالیسی میں وکلا اور صحافیوں کو نکال دیا جانا بھی قابل غور پہلو ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ یا ماتحت عدلیہ نے پلاٹس پالیسی میں شمولیت کی درخواست نہیں دی، کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ بغیر درخواست کے پالیسی میں کیوں شامل کیا گیا۔