Official Website

پاکستان کا بجٹ خسارہ 6.9، مہنگائی10.2 اور شرح نمو 4 فیصد رہے گی، آئی ایم ایف

86

 اسلام آباد:  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی پہلی لہر کے بعد معاشی سرگرمیاں بحال لیکن مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔

رواں سال مہنگائی کی شرح 10.2فیصد اور جاری کھاتوں کا خسارہ منفی 4 فیصد، معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بجٹ خسارہ 6.9 فیصد اور حکومتی قرضے جی ڈی پی کے 82 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان کیلیے چھٹے اقتصادی پروگرام کی منظوری کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کیے گئے حالیہ اقدامات معیشت اور قرضوں کے استحکام کیلیے مناسب ہیں،معاشی اصلاحات سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو مہنگائی اور معاشی استحکام لانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے، مانیٹری پالیسی کے ذریعے کیے گئے اقدامات ضروری ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے پر زور دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ گردشی قرضوں کے پلان سے پیداواری لاگت وصول ہوگی اور توانائی شعبے کی سبسڈیز کو بہتر کیا جاسکے گا۔

آئی ایم ایف نے روزگار بڑھانے کیلئے پیداوار، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی کو مضبوط بنانے پربھی زور دیا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی ڈپٹی ایم ڈی اور قائم مقام چیئرپرسن اینٹونیٹ سیہ نے کہا ہے کہ کورونا چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے ۔